Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
سابق ارکان پارلیمنٹ کو بلیو پاسپورٹ دینے کا بل قائمہ کمیٹی سے منظور

    
سابق ارکان پارلیمنٹ کو بلیو پاسپورٹ دینے کا بل قائمہ کمیٹی سے منظور

    ‎اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے سابق اراکینِ پارلیمنٹ کو سرکاری (بلیو) پاسپورٹ کی سہولت دینے سے متعلق ترمیمی بل منظور کر لیا۔
    ‎تفصیلات کے مطابق سینیٹر عبدالقادر نے ممبرز آف پارلیمنٹ (سیلریز اینڈ الاؤنسز) ترمیمی ایکٹ 2026 کمیٹی میں پیش کیا، جسے غور و خوض کے بعد منظور کر لیا گیا۔
    ‎بل کے تحت سابق ارکانِ پارلیمنٹ کو مفت آفیشل (بلیو) پاسپورٹ جاری کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے شریکِ حیات اور 28 سال سے کم عمر زیرِ کفالت بچوں کو بھی مفت بلیو پاسپورٹ حاصل کرنے کا حق دیا جائے گا۔
    ‎بل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ریٹائرڈ وفاقی سیکریٹریز اور ان کے اہلِ خانہ کو پہلے ہی بلیو پاسپورٹ کی سہولت حاصل ہے، اس لیے سابق ارکانِ پارلیمنٹ کو بھی اسی نوعیت کی سہولت فراہم کرتے ہوئے دونوں کو مساوی حیثیت دی جائے۔
    ‎کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے بل کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا، جس کے بعد اسے منظور کر لیا گیا۔ تاہم یہ بل قانون بننے سے قبل پارلیمانی کارروائی کے مزید مراحل سے گزرے گا، جن میں سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظوری اور بعد ازاں صدرِ مملکت کی توثیق شامل ہے۔
    ‎بل کی منظوری کے بعد اس پر مختلف سیاسی اور عوامی حلقوں میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ بعض حلقے اسے سابق عوامی نمائندوں کے لیے مناسب سہولت قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات پر قومی وسائل اور مالی اثرات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

  • 
شاہ رخ خان نے دہلی میں اپنی پہلی رہائش گاہ کی تمام منزلیں خرید لیں

    
شاہ رخ خان نے دہلی میں اپنی پہلی رہائش گاہ کی تمام منزلیں خرید لیں

    ‎بالی ووڈ کے سپر اسٹار شاہ رخ خان نے دہلی میں واقع اس گھر کی باقی تمام منزلیں بھی خرید لی ہیں جہاں انہوں نے اپنی اہلیہ گوری خان کے ساتھ شادی کے بعد ازدواجی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس خریداری کے بعد شاہ رخ خان اس پوری جائیداد کے واحد مالک بن گئے ہیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق جنوبی دہلی کے پوش علاقے پنچ شیل پارک میں واقع اس رہائشی عمارت کی دوسری اور تیسری منزل تقریباً 37 کروڑ بھارتی روپے میں خریدی گئی ہے۔ اس سے قبل شاہ رخ خان تہہ خانے اور پہلی منزل کے مالک تھے، جبکہ حالیہ معاہدے کے بعد پوری عمارت ان کی ملکیت میں آ گئی ہے۔
    ‎یہ رہائش گاہ صرف ایک قیمتی جائیداد نہیں بلکہ شاہ رخ خان اور گوری خان کی زندگی کی یادگار جگہ بھی سمجھی جاتی ہے۔ دونوں نے 25 اکتوبر 1991 کو شادی کے بعد اسی گھر میں اپنی نئی زندگی کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد شاہ رخ خان ممبئی منتقل ہوئے اور فلمی دنیا میں اپنی کامیاب جدوجہد شروع کی، جو بعد میں انہیں بالی ووڈ کے سب سے بڑے ستاروں میں شامل کرنے کا سبب بنی۔
    ‎بھارتی میڈیا کے مطابق یہ گھر تقریباً 1,200 مربع گز کے پلاٹ پر تعمیر کیا گیا ہے، جس کا کل رقبہ تقریباً 10,800 مربع فٹ بنتا ہے۔ جنوبی دہلی کے اس علاقے کا شمار مہنگے اور پرتعیش رہائشی علاقوں میں ہوتا ہے، جہاں جائیداد کی قیمتیں مسلسل بلند سطح پر برقرار ہیں۔
    ‎گوری خان بھی ماضی میں ایک انٹرویو کے دوران اس گھر کی جذباتی اہمیت بیان کر چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی والدہ کے گھر کے قریب ایک ایسا گھر چاہتی تھیں جہاں خاندان کی خوبصورت یادیں ہمیشہ محفوظ رہ سکیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ اس گھر میں ایک دیوار پر ان کے بچوں آریان، سہانا اور ابرام کے بچپن سے متعلق کئی یادگار اشیا بھی سجائی گئی ہیں، جو اس گھر کو ان کے خاندان کے لیے مزید خاص بناتی ہیں۔
    ‎شاہ رخ خان کی اس خریداری کو مداح نہ صرف ایک بڑی جائیداد کی سرمایہ کاری بلکہ ان کی ذاتی زندگی سے جڑی خوبصورت یادوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش بھی قرار دے رہے ہیں۔

  • 
پاکستان کو پانی کی سکیورٹی کے لیے نئے ڈیموں کی اشد ضرورت ہے، چیئرمین واپڈا

    
پاکستان کو پانی کی سکیورٹی کے لیے نئے ڈیموں کی اشد ضرورت ہے، چیئرمین واپڈا

    ‎واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے چیئرمین محمد سعید نے کہا ہے کہ پاکستان کو مستقبل میں پانی کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں تربیلا اور منگلا ڈیم کے بعد کوئی بڑا ڈیم تعمیر نہیں کیا گیا، جبکہ بھارت ہزاروں آبی ذخائر تعمیر کر چکا ہے، جس سے پاکستان کو اپنی آبی حکمت عملی پر ازسرنو توجہ دینا ہوگی۔
    ‎یہ بات انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کے اجلاس میں کہی، جس کی صدارت سینیٹر جام سیف اللہ خان نے پارلیمنٹ ہاؤس میں کی۔ اجلاس کے دوران سیلاب سے تحفظ، دریاؤں میں تجاوزات، آبی ذخائر کی تعمیر اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
    ‎اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں دریاؤں اور ندی نالوں پر تجاوزات کے 227 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے، تاہم ان میں سے صرف 18 مقامات کی سیٹلائٹ تصاویر حاصل کی جا سکی ہیں۔ پنجاب حکومت نے 2 ہزار 737 مقامات پر تجاوزات کی نشاندہی کی ہے، جن کے خاتمے کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں۔
    ‎چیئرمین کمیٹی جام سیف اللہ خان نے سیلاب کی بروقت پیش گوئی اور دریائی نظم و نسق کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ دریائے چناب پر مجوزہ آبی ذخائر اور انڈس واٹر ٹریٹی کے تناظر میں قومی آبی سلامتی سے متعلق خصوصی اجلاس بلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں انڈس واٹر کمشنر، وزارت خارجہ، عالمی بینک، این ڈی ایم اے اور فیڈرل فلڈ کمیشن کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا جائے۔
    ‎کمیٹی کے رکن خلیل طاہر نے دریائے راوی میں تجاوزات اور گزشتہ سال آنے والے سیلاب سے ہونے والے اربوں روپے کے نقصان کا معاملہ اٹھایا۔ اس پر چیف انجینئر پنجاب نے بتایا کہ دریائے راوی کے کنارے قائم آبادیاں ہٹا دی گئی ہیں، تاہم چیئرمین کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کمیٹی کو درست اور مکمل معلومات فراہم کی جائیں، بصورت دیگر معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھی بھیجا جا سکتا ہے۔
    ‎چیئرمین واپڈا محمد سعید نے اجلاس کو بتایا کہ پاکستان پانی کی قلت جیسے سنگین مسئلے سے دوچار ہے اور اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت تقریباً پانچ ہزار ڈیم تعمیر کر چکا ہے، جبکہ پاکستان میں تربیلا اور منگلا کے بعد کوئی بڑا ڈیم نہیں بنایا گیا، جو لمحۂ فکریہ ہے۔
    ‎انہوں نے نیلم جہلم پن بجلی منصوبے پر بھی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ منصوبہ اس وقت بند ہے اور اس سے متعلق مختلف انکوائریاں جاری ہیں۔ امید ہے کہ مارچ 2028 تک اسے دوبارہ فعال کر دیا جائے گا تاکہ قومی گرڈ کو سستی بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکے۔
    ‎محمد سعید نے سندھ میں نئی گاج ڈیم منصوبے کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ یہ منصوبہ عدالتی کارروائی کے باعث رکا ہوا ہے۔ ان کے مطابق نئی گاج ڈیم کی تکمیل سے دادو اور سیہون کے علاقوں کو سیلاب سے تحفظ ملے گا، تقریباً 28 ہزار ایکڑ اراضی قابلِ کاشت بنے گی، جبکہ منصوبے پر اب تک 23 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں

  • 
گیس کی نئی بندش کی خبریں بے بنیاد، سپلائی معمول کے مطابق جاری

    ‎سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور وزارتِ توانائی کے پٹرولیم ڈویژن نے ملک میں گیس کی سپلائی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ گیس کی فراہمی میں کسی قسم کی نئی کٹوتی یا رکاوٹ نہیں کی گئی اور ملک بھر میں سپلائی معمول کے مطابق جاری ہے۔
    ‎حکام کے مطابق بعض میڈیا رپورٹس میں گیس کی فراہمی متاثر ہونے کا تاثر دیا گیا، تاہم یہ اطلاعات درست نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں گیس کی سپلائی کے نظام میں کوئی نئی تبدیلی نہیں کی گئی اور صارفین کو گیس کی فراہمی معمول کے مطابق جاری رکھی جا رہی ہے۔
    ‎سوئی ناردرن اور پٹرولیم ڈویژن کے مطابق قطر انرجی کی جانب سے مارچ 2026 میں اعلان کیے گئے فورس میجور میں وقتاً فوقتاً توسیع ہوتی رہی ہے، جس کے بارے میں متعلقہ اداروں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کوئی نئی صورتحال نہیں بلکہ پہلے سے جاری معاملہ ہے، جس کے باعث گیس کی فراہمی میں کسی نئی بندش یا منفی اثرات کا خدشہ نہیں۔
    ‎حکام نے بتایا کہ ملک میں گیس کی مجموعی صورتحال پر نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل اور وزارتِ توانائی (پٹرولیم ڈویژن) مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مقامی سطح پر دستیاب قدرتی گیس کے ذخائر کو زیادہ سے زیادہ استعمال میں لایا جا رہا ہے، جبکہ مختلف شعبوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایل این جی کارگوز کا بھی باقاعدہ انتظام کیا جا رہا ہے۔
    ‎ترجمان کے مطابق گھریلو صارفین کو کھانا پکانے کے اوقات میں ترجیحی بنیادوں پر گیس فراہم کی جا رہی ہے تاکہ عوام کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
    ‎اس کے ساتھ ساتھ صنعتی شعبے اور کھاد تیار کرنے والی صنعتوں کو بھی مسلسل گیس کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے تاکہ معاشی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔ مزید برآں بجلی پیدا کرنے والے شعبے کو بھی زیادہ سے زیادہ گیس فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جس کا مقصد بجلی کی پیداوار برقرار رکھنا اور لوڈشیڈنگ میں کمی لانا ہے۔

  • 
ایرانی کشیدگی کے دوران ٹرمپ نے سکیورٹی خدشات کے باعث پرانے ائیرفورس ون میں سفر کیا، امریکی میڈیا

    
ایرانی کشیدگی کے دوران ٹرمپ نے سکیورٹی خدشات کے باعث پرانے ائیرفورس ون میں سفر کیا، امریکی میڈیا

    ‎امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اجلاس کے بعد ترکی کے دارالحکومت انقرہ سے واپسی پر ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں غیر معمولی سکیورٹی اقدامات کے تحت پرانے ائیرفورس ون طیارے میں سفر کیا۔
    ‎امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق نیٹو کانفرنس کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے طیارے کے بجائے پرانے ائیرفورس ون کو ترجیح دی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ فیصلہ سکیورٹی اداروں کی سفارشات کے بعد کیا گیا۔
    ‎رپورٹ کے مطابق جب صدر ٹرمپ سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ ان افراد کی فہرست میں سرفہرست ہیں جنہیں ایران قتل کرنا چاہتا ہے، تاہم ان کا مؤقف تھا کہ طیارہ تبدیل کرنے کا فیصلہ براہ راست سکیورٹی خدشات کی وجہ سے نہیں کیا گیا۔
    ‎امریکی میڈیا کے مطابق اس خصوصی پرواز کے دوران سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے۔ مسافروں کو طیارے کی کھڑکیوں کے شیڈز کھولنے کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ طیارے نے بحیرہ اسود عبور کرنے تک اپنا فلائٹ ٹریکر بھی بند رکھا تاکہ اس کی نقل و حرکت کی نگرانی نہ کی جا سکے۔
    ‎رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تمام اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور امریکی سکیورٹی ادارے صدر کے تحفظ کے حوالے سے غیر معمولی احتیاط برت رہے ہیں۔
    ‎واضح رہے کہ فلائٹ ٹریکر بند رکھنے اور سکیورٹی انتظامات سے متعلق دعوے امریکی میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں، جبکہ امریکی حکومت یا سیکرٹ سروس کی جانب سے ان تفصیلات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

  • 
کراچی کارگو طیارہ حادثہ، سمندر سے مزید ملبہ برآمد، بلیک باکس اور عملے کی تلاش جاری

    
کراچی کارگو طیارہ حادثہ، سمندر سے مزید ملبہ برآمد، بلیک باکس اور عملے کی تلاش جاری

    ‎کراچی کے قریب نجی کارگو طیارے کے حادثے کے بعد سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن مسلسل جاری ہے، جبکہ سمندر سے طیارے کا مزید ملبہ برآمد کر لیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بلیک باکس اور لاپتا عملے کی تلاش کے لیے جدید فضائی اور بحری وسائل کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ حادثے کی وجوہات تک جلد از جلد پہنچا جا سکے۔
    ‎پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق حادثے کے بعد برآمد ہونے والے ملبے کو مزید تکنیکی اور فرانزک تجزیے کے لیے بیورو آف ائیرکرافٹ سیفٹی انویسٹیگیشن کی تحقیقاتی ٹیم کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ماہرین اس ملبے کا جائزہ لے کر حادثے کی اصل وجوہات معلوم کرنے کی کوشش کریں گے۔
    ‎حکام کے مطابق تاحال طیارے کا بلیک باکس اور عملے کے پانچوں لاپتا ارکان نہیں مل سکے، جن کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن دن رات جاری ہے۔ اس مقصد کے لیے پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی مشترکہ طور پر گہرے سمندر میں کارروائیاں کر رہی ہیں۔
    ‎ترجمان پی اے اے نے بتایا کہ جدید فضائی نگرانی، بحری جہازوں اور خصوصی سرچ آلات کی مدد سے وسیع علاقے میں تلاش کا عمل جاری رکھا گیا ہے۔ مختلف مقامات پر مسلسل سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے تاکہ بلیک باکس اور لاپتا عملے کا جلد سراغ لگایا جا سکے۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ سرچ اینڈ ریسکیو سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ حادثے کی تحقیقات بھی جاری ہیں اور ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی حادثے کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے گا۔
    ‎پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی نے کہا ہے کہ جیسے ہی تحقیقات یا سرچ آپریشن میں کوئی اہم پیش رفت سامنے آئے گی، عوام اور میڈیا کو بروقت آگاہ کیا جائے گا۔

  • 
امریکا اور کینیڈا کی لارنس بشنوئی گینگ کے خلاف بڑی کارروائی، عالمی جرائم پیشہ نیٹ ورک قرار

    
امریکا اور کینیڈا کی لارنس بشنوئی گینگ کے خلاف بڑی کارروائی، عالمی جرائم پیشہ نیٹ ورک قرار

    ‎امریکا نے ایک بڑے بین الاقوامی آپریشن کے دوران بھارتی جرائم پیشہ گروہ کے مبینہ سربراہ لارنس بشنوئی اور اس کے 35 سے زائد مبینہ ساتھیوں کے خلاف فردِ جرم عائد کر دی ہے، جبکہ کینیڈا نے بھی بشنوئی گینگ کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔
    امریکی حکام کے مطابق آپریشن ہارڈ بال کے تحت بیک وقت کیلیفورنیا، انڈیانا، جارجیا، کینیڈا اور اسپین میں کارروائیاں کی گئیں، جن میں متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ امریکی پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ لارنس بشنوئی، جو اس وقت بھارت میں جیل میں قید ہے، وہاں سے ایک بین الاقوامی مجرمانہ نیٹ ورک چلا رہا تھا۔
    امریکی فردِ جرم کے مطابق بشنوئی گینگ پر بھتہ خوری، منشیات کی اسمگلنگ، اسلحے کی غیر قانونی ترسیل اور کرائے کے قاتلوں کے ذریعے قتل کروانے جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب کینیڈا نے بھی اس گروہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنوبی ایشیائی تارکین وطن کو تشدد، دھمکیوں اور بھتہ خوری کے ذریعے نشانہ بناتا رہا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بھارتی منظم جرائم پیشہ گروہ کو مغربی ممالک صرف ایک مجرمانہ تنظیم نہیں بلکہ سرحد پار سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مستقبل میں بین الاقوامی سطح پر منظم جرائم کے خلاف تعاون کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
    ‎لارنس بشنوئی کا نام بھارت میں اس وقت نمایاں ہوا جب پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے قتل، بالی ووڈ اداکار سلمان خان کو دی جانے والی مبینہ دھمکیوں اور سابق بھارتی وزیر بابا صدیقی کے قتل جیسے مقدمات میں اس کے گروہ کا نام سامنے آیا۔ تاہم امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ان واقعات کے پیچھے ایک وسیع بین الاقوامی مجرمانہ نیٹ ورک سرگرم تھا۔
    ‎واضح رہے کہ امریکی فردِ جرم الزامات پر مشتمل ہوتی ہے اور مقدمے کا حتمی فیصلہ عدالت میں شواہد اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد کیا جاتا ہے۔

  • 
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا لبنان میں اسرائیلی حملوں پر جنگی جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ

    ‎ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جنوبی لبنان میں مارچ کے دوران ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں پر جنگی جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں میں 24 شہری جان سے گئے، جن میں 12 بچے بھی شامل تھے۔ تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی تحقیقات کے مطابق ان حملوں میں بین الاقوامی انسانی قانون کی ممکنہ خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں۔
    ‎ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 6، 12 اور 13 مارچ کو لبنان کے جنوبی اضلاع Tyre، Sidon اور Nabatieh میں رہائشی گھروں پر فضائی حملے کیے گئے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں چھ خواتین، جن میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل تھیں، چھ مرد اور 12 بچے جاں بحق ہوئے، جبکہ کم از کم 18 افراد زخمی ہوئے۔
    ‎تنظیم نے اپنی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ دستیاب شواہد سے یہ نتیجہ اخذ کرنے کی بنیاد موجود ہے کہ اسرائیلی فورسز نے شہریوں یا شہری املاک کو نشانہ بنایا، یا فوجی اور شہری اہداف میں مناسب فرق نہیں کیا، یا پھر حملوں کے دوران شہریوں کے جانی نقصان کو محدود رکھنے کے لیے ضروری احتیاطی اقدامات نہیں کیے گئے۔
    ‎ایمنسٹی انٹرنیشنل کی علاقائی ڈائریکٹر کرسٹین بیکرلے نے کہا کہ صرف ایک ہفتے کے دوران پورے کے پورے خاندان تباہ ہو گئے، جن میں ایک درجن بچے بھی شامل تھے۔ ان کے مطابق عالمی برادری کو فوری اقدامات کرتے ہوئے اسرائیل پر جامع اسلحہ پابندی عائد کرنی چاہیے اور ذمہ دار افراد کے خلاف تحقیقات اور قانونی کارروائی کو یقینی بنانا چاہیے۔
    تنظیم نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ امریکا کی ثالثی میں ہونے والا حالیہ اسرائیل اور لبنان معاہدہ ممکنہ طور پر احتساب کے عمل میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اسی لیے ایمنسٹی نے لبنان پر زور دیا ہے کہ اپنے علاقے میں ہونے والے مبینہ جرائم کی تحقیقات کا اختیار دے۔

  • 
بیلفاسٹ کے قریب مسجد کی نقل پر مبنی الاؤ جلانے پر شدید ردعمل

    
بیلفاسٹ کے قریب مسجد کی نقل پر مبنی الاؤ جلانے پر شدید ردعمل

    ‎برطانیہ کے علاقے شمالی آئرلینڈ میں بیلفاسٹ کے قریب ایک وفادار برطانوی آبادی والے قصبے میں مسجد کی نقل پر مشتمل ایک ڈھانچے کو الاؤ کے ساتھ نذرِ آتش کر دیا گیا۔ اس واقعے پر پولیس اور مختلف سیاسی رہنماؤں نے شدید مذمت کرتے ہوئے اسے نفرت انگیز عمل قرار دیا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق یہ مسجد نما ڈھانچہ لکڑی کے تختوں سے بنائے گئے ایک بڑے الاؤ پر نصب کیا گیا تھا، جسے روایتی طور پر 12 جولائی کی تقریبات سے قبل جلایا جاتا ہے۔ یہ تقریبات 1690 میں بادشاہ ولیم آف اورنج کی بادشاہ جیمز دوم کے خلاف جنگِ بوائن میں فتح کی یاد میں منائی جاتی ہیں اور شمالی آئرلینڈ کے بعض پروٹسٹنٹ وفادار علاقوں میں ہر سال منعقد ہوتی ہیں۔
    ‎یہ ڈھانچہ ایک ماہ قبل بیلفاسٹ میں پیش آنے والے تارکین وطن مخالف پرتشدد واقعات کے بعد تیار کیا گیا تھا۔ منتظمین کے مطابق اس الاؤ کو جمعہ کے روز عوامی اجتماع کے سامنے جلایا جانا تھا، تاہم اسے ایک روز پہلے ہی آگ لگا دی گئی، جب پولیس اسے ہٹانے کی تیاری کر رہی تھی۔
    ‎پولیس کے چیف سپرنٹنڈنٹ نورمن ہیسلٹ نے کہا کہ اگر الاؤ پہلے نہ جلایا جاتا تو پولیس جائے وقوعہ کو تحویل میں لے کر نفرت انگیز مواد کو بطور ثبوت ضبط کر لیتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ نفرت پر مبنی جرائم کی معاشرے میں کوئی جگہ نہیں اور ایسے اقدامات ہرگز برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
    ‎پولیس کے مطابق اس معاملے میں 56 سالہ ایک شخص پر نفرت انگیزی پر اکسانے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جسے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ مختلف سیاسی رہنماؤں نے مذہبی منافرت پھیلانے والے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • 
شیخ حسینہ نے دسمبر میں وطن واپسی اور عدالت میں خود کو پیش کرنے کا اعلان کر دیا

    
شیخ حسینہ نے دسمبر میں وطن واپسی اور عدالت میں خود کو پیش کرنے کا اعلان کر دیا

    ‎بنگلہ دیش کی معزول سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ دسمبر میں اپنی جماعت عوامی لیگ کے سینئر رہنماؤں کے ہمراہ جلاوطنی ختم کرکے وطن واپس جائیں گی اور عدالت کے سامنے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کریں گی۔
    ‎برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں 78 سالہ شیخ حسینہ نے کہا کہ انہیں معلوم ہے واپسی پر انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے یا ان کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے ملک واپس جانے کا فیصلہ کر چکی ہیں۔
    ‎شیخ حسینہ نے کہا، "وہ مجھے گرفتار کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ قتل بھی کر سکتے ہیں، لیکن مجھے اپنے وطن ضرور جانا ہے۔ اگر موت آنی ہے تو میں چاہتی ہوں کہ وہ اپنی سرزمین پر آئے، جہاں میرے والدین دفن ہیں اور جہاں ان کا خون بہا تھا۔”
    ‎شیخ حسینہ اگست 2024 میں حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے بعد اقتدار سے محروم ہونے پر بھارت منتقل ہو گئی تھیں، جہاں سے وہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ بعد ازاں بنگلہ دیش کے جنگی جرائم سے متعلق خصوصی ٹریبونل نے نومبر میں ایک مقدمے میں انہیں غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے احکامات دیے تھے۔ شیخ حسینہ ان تمام الزامات کو مسترد کرتی رہی ہیں۔
    ‎انہوں نے انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے اپنی واپسی کے فیصلے پر کسی بھی غیر ملکی حکومت سے مشاورت نہیں کی اور وہ اپنی مرضی سے وطن واپس جا کر عدالت میں پیش ہوں گی۔ ان کے مطابق عوامی لیگ کے دیگر جلاوطن رہنما بھی ان کے ساتھ واپسی اور عدالتی کارروائی کا سامنا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
    ‎سابق وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ عوامی لیگ کے ہزاروں کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے ہیں اور متعدد افراد روپوش ہونے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عدالتی کارروائی کے ذریعے یہ ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ ان کے خلاف مقدمات کی حقیقت کیا ہے۔
    ‎شیخ حسینہ نے کہا کہ اگر انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہ بھی ملی تو بھی عوامی لیگ کو سیاسی عمل سے باہر نہیں رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق کسی بھی حکومت کی کارکردگی کا فیصلہ عوام کو کرنا چاہیے، اور اگر ان کی جماعت نے غلطیاں کی ہیں تو اس کا فیصلہ بھی ووٹرز پر چھوڑ دیا جائے۔
    ‎دوسری جانب بنگلہ دیشی حکومت نے شیخ حسینہ کے تازہ بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا، جبکہ بھارت کی وزارت خارجہ کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی نیا مؤقف سامنے نہیں آیا۔