Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
دریائے سندھ پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں، پوری قوم آبی حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہے: شازیہ مری

    
دریائے سندھ پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں، پوری قوم آبی حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہے: شازیہ مری

    پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے دریائے سندھ کے تحفظ کے لیے ملک بھر میں جاری عوامی احتجاج کو قومی شعور کی عکاسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی عوام نے واضح پیغام دیا ہے کہ دریائے سندھ پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
    ‎اپنے بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ ملک کے مختلف شہروں میں عوام کی بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے پوری قوم ایک آواز بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ صرف ایک دریا نہیں بلکہ پاکستان کی بقا، معیشت، زراعت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہے، اس لیے اس کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ آج کے احتجاج نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پانی کے معاملے پر ہر پاکستانی متحد ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ "مرسوں مرسوں سندھو نہ ڈیسوں” صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ قومی عزم اور عوامی احساسات کی ترجمانی ہے، جبکہ آبی حقوق کا تحفظ ہر سیاسی اختلاف سے بالاتر ایک قومی مقصد ہے۔
    ‎شازیہ مری نے بھارت پر زور دیا کہ وہ پانی کو سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے بین الاقوامی معاہدوں، خصوصاً سندھ طاس معاہدے، کی مکمل پاسداری کرے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت یکطرفہ اقدامات سے گریز کرے اور مذاکرات، بین الاقوامی قانون اور طے شدہ معاہدوں کے مطابق آگے بڑھے کیونکہ دریاؤں سے متعلق معاہدوں کا احترام ہی خطے میں امن اور استحکام کی بنیاد ہے۔
    ‎انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے مکمل اور مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے تاکہ خطے میں آبی تنازعات کو مزید سنگین ہونے سے روکا جا سکے۔
    ‎شازیہ مری کا کہنا تھا کہ آبی سلامتی پاکستان کی قومی سلامتی کا لازمی حصہ ہے اور پاکستان قانون، سفارت کاری اور قومی اتحاد کے ذریعے اپنے آبی حقوق کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ دریائے سندھ کے تحفظ کے لیے عوامی آواز پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکی ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں دریائے سندھ اور قومی آبی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد جاری رکھے گی۔

  • 
کینیڈا کے لاطینی ثقافتی میلے میں فائرنگ، 2 افراد ہلاک، 4 شدید زخمی

    
کینیڈا کے لاطینی ثقافتی میلے میں فائرنگ، 2 افراد ہلاک، 4 شدید زخمی

    ‎کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں لاطینی ثقافت کے سب سے بڑے اسٹریٹ فیسٹیول "سالسا آن سینٹ کلیئر” کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں دو افراد ہلاک جبکہ چار افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد میلے میں بھگدڑ مچ گئی اور ہزاروں افراد اپنی جان بچانے کے لیے مختلف سمتوں میں بھاگ نکلے۔
    ‎ٹورنٹو پولیس کے ڈپٹی چیف فرینک باریڈو کے مطابق ہفتہ کی شب تقریباً 13 ہزار افراد میلے میں موجود تھے کہ اسی دوران کم از کم دو مسلح افراد نے ایک دوسرے پر فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کی زد میں آ کر مجموعی طور پر چھ افراد گولیوں کا نشانہ بنے۔
    ‎پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے دونوں افراد مرد تھے، جبکہ چار زخمیوں کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
    ‎ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ دو افراد کے درمیان تصادم کا نتیجہ تھا، تاہم اندھا دھند گولیاں چلنے کے باعث ہزاروں شہری خطرے میں آ گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور ایک دوسرے کو نشانہ بنا رہے تھے، لیکن ہجوم میں موجود عام افراد بھی اس کی لپیٹ میں آ گئے۔
    ‎حکام نے جائے وقوعہ کے تین مختلف مقامات کو کرائم سین قرار دے کر گھیرے میں لے لیا ہے اور وہاں سے دو آتشیں اسلحے بھی برآمد کیے گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث متعدد مشتبہ افراد اب بھی فرار ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔
    ‎عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ شروع ہوتے ہی میلے میں شدید افراتفری پھیل گئی، لوگ چیختے ہوئے محفوظ مقامات کی جانب دوڑنے لگے جبکہ پولیس، ایمبولینسوں اور دیگر ہنگامی گاڑیوں نے فوری طور پر علاقے کا رخ کیا۔
    ‎ٹورنٹو پولیس نے کہا ہے کہ اس وقت عوام کے لیے کسی مزید خطرے کی اطلاع نہیں، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف پہلوؤں سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

  • 
کراچی: سمندر میں ڈوب کر 14 سالہ لڑکا جاں بحق

    
کراچی: سمندر میں ڈوب کر 14 سالہ لڑکا جاں بحق

    کراچی کے علاقے ڈاکس میں فشری کالا پانی کے قریب سمندر میں نہاتے ہوئے 14 سالہ لڑکا ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔ افسوسناک واقعے کے بعد ایدھی فاؤنڈیشن کے غوطہ خوروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بچے کی لاش سمندر سے نکال لی۔
    ‎ریسکیو ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچے کی شناخت 14 سالہ یاسر ولد نور محمد کے نام سے ہوئی ہے، جو مچھر کالونی کے بنگالی پاڑہ کا رہائشی تھا۔ اطلاع ملنے پر امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور طویل تلاش کے بعد بچے کی لاش پانی سے نکال کر ضروری کارروائی کے لیے منتقل کی گئی۔
    ‎پولیس کے مطابق ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی۔ اہل خانہ نے واقعے کے حوالے سے کسی بھی قسم کی قانونی یا پولیس کارروائی کرانے سے انکار کر دیا۔
    ‎واقعے کے بعد علاقے میں فضا سوگوار ہوگئی جبکہ اہل علاقہ نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ سمندر میں نہاتے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور گہرے پانی میں جانے سے گریز کریں، خصوصاً بچوں کو بغیر نگرانی کے ساحل یا سمندر میں داخل نہ ہونے دیا جائے تاکہ ایسے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔

  • کراچی والے روزانہ کی مشکلات جھیلنے پر تمغوں کے مستحق ہیں، عائشہ عمر

    کراچی والے روزانہ کی مشکلات جھیلنے پر تمغوں کے مستحق ہیں، عائشہ عمر

    ‎کراچی: پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ اور ماڈل عائشہ عمر نے کراچی کے شہریوں کی مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہرِ قائد کے رہائشی اپنی ثابت قدمی اور حوصلے کی وجہ سے واقعی تمغوں کے مستحق ہیں۔
    ‎عائشہ عمر نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کراچی کو رہائش کے اعتبار سے دنیا کے بدترین شہروں میں شامل کیے جانے پر ردِعمل دیا۔ انہوں نے لکھا کہ کراچی کے لاکھوں شہری روزانہ ٹریفک جام، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی بدترین صورتحال، بجلی اور دیگر شہری مسائل کے باوجود اپنی روزمرہ زندگی معمول کے مطابق جاری رکھتے ہیں، جو ان کی غیر معمولی ہمت اور برداشت کا ثبوت ہے۔
    ‎اداکارہ نے کہا کہ کراچی میں رہنے والے افراد ہر روز بے شمار مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں اور زندگی کی رفتار کو برقرار رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں بھی شہریوں کا حوصلہ قابلِ تعریف ہے اور وہ اس استقامت پر داد کے مستحق ہیں۔
    ‎عائشہ عمر کی پوسٹ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی، جہاں صارفین کی بڑی تعداد نے ان کی رائے سے اتفاق کیا۔ متعدد افراد نے کہا کہ کراچی کے شہری برسوں سے بنیادی شہری سہولیات کی کمی، ٹریفک کے مسائل، نکاسیٔ آب کی خراب صورتحال اور دیگر انتظامی چیلنجز کے باوجود اپنی زندگی گزار رہے ہیں، اس لیے ان کی مشکلات کو سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
    ‎کئی صارفین نے اس موقع پر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ شہر کے انفراسٹرکچر، ٹریفک نظام، صفائی، نکاسیٔ آب اور دیگر بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے مؤثر اور دیرپا اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کو روزمرہ مشکلات سے نجات مل سکے۔
    ‎واضح رہے کہ برطانوی تحقیقی ادارے دی اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کی جانب سے جاری کردہ گلوبل لائیویبلٹی انڈیکس 2026میں دنیا کے 173 شہروں کا مختلف شعبوں کی بنیاد پر جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ میں استحکام، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، ماحول اور ثقافتی سرگرمیوں جیسے عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے درجہ بندی کی گئی، جس میں کراچی 170 ویں نمبر پر رہا اور رہائش کے اعتبار سے دنیا کے تین بدترین شہروں میں شامل قرار پایا۔
    ‎اس رپورٹ کے منظرِ عام پر آنے کے بعد کراچی کی شہری سہولیات، انفراسٹرکچر اور انتظامی مسائل پر ایک بار پھر بحث شروع ہوگئی ہے، جبکہ مختلف حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ شہر کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

  • 
تھائی لینڈ ٹرپ کی تصاویر پر صبور علی سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں

    
تھائی لینڈ ٹرپ کی تصاویر پر صبور علی سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں

    ‎کراچی: پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ صبور علی اپنے حالیہ تھائی لینڈ ٹرپ کے دوران شیئر کی گئی تصاویر اور ویڈیوز کے باعث ایک بار پھر سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گئی ہیں۔ ان کی نئی پوسٹس پر جہاں مداحوں کی جانب سے تعریف دیکھنے میں آئی، وہیں متعدد صارفین نے ان کے لباس اور انداز پر تنقید بھی کی۔
    ‎صبور علی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر تھائی لینڈ کے ساحلِ سمندر سے لی گئی متعدد تصاویر اور مختصر ویڈیوز شیئر کیں، جن میں وہ بیچ ویئر اور مغربی طرز کے ملبوسات میں نظر آئیں۔ تصاویر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آرا کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
    ‎کئی صارفین نے ان کے لباس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مختلف تبصرے کیے۔ ایک صارف نے لکھا کہ عام طور پر شادی کے بعد لوگ زیادہ سنجیدہ طرزِ زندگی اختیار کرتے ہیں، لیکن صبور علی کے انداز سے ایسا محسوس نہیں ہوتا۔ ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ایسے ملبوسات اپنے ملک میں نہیں پہنے جا سکتے، اسی لیے بیرونِ ملک جا کر ایسی تصاویر شیئر کی جاتی ہیں۔
    ‎دوسری جانب اداکارہ کے مداحوں نے انہیں بھرپور حمایت فراہم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر شخص کو اپنی نجی زندگی اپنی مرضی کے مطابق گزارنے اور لباس کے انتخاب کا بنیادی حق حاصل ہے۔ مداحوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی کی ذاتی پسند یا چھٹیوں کی تصاویر کو بلاوجہ تنقید کا نشانہ بنانا مناسب رویہ نہیں۔
    ‎سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے رائے دی کہ عوامی شخصیات کی ہر پوسٹ پر اختلاف رائے ہو سکتا ہے، تاہم تنقید شائستگی اور احترام کے دائرے میں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی فنکار کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو اس کی ذاتی زندگی یا لباس سے جوڑنا درست نہیں۔
    ‎واضح رہے کہ صبور علی ماضی میں بھی اپنے مختلف فوٹو شوٹس، فیشن اسٹائل اور سوشل میڈیا پوسٹس کی وجہ سے خبروں میں رہ چکی ہیں۔ ہر بار ان کی تصاویر پر ملے جلے ردعمل سامنے آتے ہیں، جہاں ایک طرف انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہیں بڑی تعداد میں مداح ان کے اعتماد، انداز اور ذاتی آزادی کے حق کی حمایت بھی کرتے ہیں۔

  • 
بھارت: کچرے کا پہاڑ عمارت پر آ گرا، 8 افراد جابحق

    
بھارت: کچرے کا پہاڑ عمارت پر آ گرا، 8 افراد جابحق

    بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے شہر پونے میں ایک افسوسناک حادثے میں کچرے کا بڑا ڈھیر انتظامی عمارت پر گرنے سے کم از کم آٹھ افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد امدادی ٹیموں نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔
    ‎بھارتی میڈیا کے مطابق حادثہ پمپری چنچواڑ میونسپل کارپوریشن کے زیر انتظام موشی گاربیج ڈپو میں پیش آیا، جہاں توانائی پیدا کرنے کے منصوبے کے لیے جمع کیا گیا کچرا اچانک کھسک کر قریبی انتظامی عمارت پر آ گرا۔
    ‎ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کے وقت مجموعی طور پر 23 افراد ملبے اور کچرے تلے دب گئے تھے۔ ان میں سے 22 افراد عمارت کے اندر جبکہ ایک شخص باہر موجود تھا۔ خوش قسمتی سے پانچ افراد ابتدائی لمحوں میں ہی خود کو محفوظ مقام تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئے، جبکہ دیگر کو نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں کی گئیں۔
    ‎واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ، فائر بریگیڈ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیموں اور بھارتی فوج نے مشترکہ طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ بھاری مشینری کی مدد سے کچرے کے بڑے ڈھیر کو ہٹا کر متاثرین تک رسائی حاصل کی گئی۔
    ‎حکام کے مطابق اب تک آٹھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ایک شخص تاحال لاپتا ہے، جس کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ حادثے کے باعث انتظامی عمارت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
    ‎واقعے کے بعد حکام نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری کچرے کو محفوظ انداز میں ذخیرہ کرنا اور ویسٹ مینجمنٹ کے منصوبوں کی مسلسل نگرانی ایسے حادثات سے بچنے کے لیے ناگزیر ہے۔

  • سعودی عرب، عمان، کویت اور لبنان کی ایرانی حملوں کی سخت مذمت

    سعودی عرب، عمان، کویت اور لبنان کی ایرانی حملوں کی سخت مذمت

    ‎مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث خطے کی صورتحال بدستور غیر یقینی کا شکار ہے، جبکہ مختلف ممالک کی جانب سے بیانات، جوابی اقدامات اور سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔
    ‎سعودی عرب، عمان، کویت اور لبنان نے ایران کی جانب سے خطے کے ممالک کو نشانہ بنانے کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے میں مزید عدم استحکام کا سبب بن سکتے ہیں۔
    ‎پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کی روح کے مطابق تمام فریق کشیدگی میں کمی لانے، تحمل کا راستہ اختیار کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی جانب بڑھیں تاکہ خطے میں امن برقرار رکھا جا سکے۔
    ‎ادھر ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ عمان میں امریکی طیارہ بردار جہازوں کے لاجسٹک سپورٹ مراکز اور قطر میں واقع العدید ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر باضابطہ مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔
    ‎ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ یکطرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو کسی بھی معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد کرنا ہوگا، بصورت دیگر اعتماد کی فضا قائم نہیں ہو سکے گی۔
    ‎امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے تیسرے مرحلے میں 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں پرنس حسن ایئر بیس پر قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو نشانہ بنایا ہے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
    ‎متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام ایران کی جانب سے آنے والے میزائلوں کو روکنے کے لیے متحرک ہے، جبکہ امریکی حملوں کے کچھ ہی دیر بعد بحرین اور قطر میں دھماکوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جن کے بعد خطے میں سکیورٹی الرٹ مزید سخت کر دیا گیا۔
    ‎اسرائیلی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان سے نقل مکانی کرنے والے تقریباً دو لاکھ افراد کی جلد واپسی ممکن نہیں ہوگی، جبکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل نہ کیا تو وہ بھی اس معاہدے پر عمل درآمد جاری نہیں رکھے گا۔

  • 
آڈیٹر جنرل کی ڈی جی پی سی میں سائبر سکیورٹی خامیوں کی نشاندہی

    
آڈیٹر جنرل کی ڈی جی پی سی میں سائبر سکیورٹی خامیوں کی نشاندہی

    ‎آڈیٹر جنرل پاکستان نے ڈائریکٹوریٹ جنرل پٹرولیم کنسیشنز (ڈی جی پی سی) میں سائبر سکیورٹی اور حساس معلومات کے تحفظ کے حوالے سے سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فوری اصلاحی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
    ‎آڈٹ رپورٹ کے مطابق تیل اور گیس کی تلاش کے لائسنس جاری کرنے والے ادارے میں ڈیٹا سکیورٹی سے متعلق بنیادی پالیسیوں کا فقدان پایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رسائی کے ضوابط، ڈیٹا انکرپشن اور معلومات کے محفوظ انتظام کے مؤثر نظام موجود نہ ہونے کے باعث اہم اور حساس ریکارڈ سائبر حملوں کے خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔
    ‎رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ادارے میں ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن، خودکار نگرانی کے نظام اور مؤثر لاگ مینجمنٹ جیسی جدید حفاظتی سہولتیں موجود نہیں، جس کی وجہ سے ممکنہ سائبر حملوں یا غیر مجاز رسائی کا بروقت پتا لگانا مشکل ہو سکتا ہے۔
    ‎آڈیٹ میں مالیاتی ریکارڈ کو بروقت اپ ڈیٹ نہ کرنے، لائسنس یافتہ کمپنیوں کے ڈیٹا کی ناکافی نگرانی اور تکنیکی معلومات کے تحفظ میں کمزوریوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دو جہتی (2D) اور سہ جہتی (3D) سیسمک سروے سے متعلق اہم تکنیکی معلومات کے مؤثر انتظام اور نگرانی کا نظام بھی مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتا۔
    ‎آڈیٹر جنرل نے سفارش کی ہے کہ ڈی جی پی سی میں جدید سائبر سکیورٹی نظام نافذ کیا جائے، ڈیٹا انکرپشن کو لازمی بنایا جائے، رسائی کے انتظام کو مزید سخت کیا جائے اور معلومات کے تحفظ کے لیے جامع گورننس فریم ورک تشکیل دیا جائے تاکہ قومی اہمیت کے حساس ڈیٹا کو مستقبل کے سائبر خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
    ‎ماہرین کے مطابق توانائی کے شعبے سے متعلق معلومات قومی معیشت اور سلامتی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہیں، اس لیے ایسے اداروں میں بین الاقوامی معیار کے سائبر سکیورٹی اقدامات اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

  • 
بارش نے پنجاب کے کئی شہروں میں نکاسیٔ آب کے دعوؤں پر سوال اٹھا دیے

    
بارش نے پنجاب کے کئی شہروں میں نکاسیٔ آب کے دعوؤں پر سوال اٹھا دیے

    ‎پنجاب کے مختلف شہروں میں حالیہ بارش کے بعد نکاسیٔ آب کا نظام ایک بار پھر تنقید کی زد میں آ گیا۔ شہری علاقوں میں کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود متعدد مقامات پر برساتی پانی جمع رہا، جس کے باعث معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے۔
    ‎ڈسکہ میں بارش کے تقریباً چھ گھنٹے بعد بھی سڑکوں سے پانی مکمل طور پر نہیں نکالا جا سکا۔ کئی شاہراہیں اور گلیاں زیرِ آب رہیں، جس سے شہریوں، دکانداروں اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
    ‎فیصل آباد میں بھی بارش کے سات گھنٹے بعد متعدد علاقوں میں پانی کھڑا رہا۔ مختلف سڑکیں، گلیاں اور رہائشی علاقے متاثر ہوئے، جبکہ کئی شہریوں کا کہنا تھا کہ پانی جمع ہونے کے باعث انہیں گھروں سے نکلنے میں دشواری پیش آئی۔
    ‎متاثرہ شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ نکاسیٔ آب کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ معمول کی بارش بھی شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث نہ بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر زیادہ شدت کی بارش ہوئی تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
    ‎دوسری جانب نارووال کی تحصیل شکرگڑھ میں بارش کے دوران ایک کمسن بچہ برساتی نالے میں گر گیا۔ خوش قسمتی سے قریبی شہریوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بچے کو بحفاظت باہر نکال لیا۔ واقعے کے بعد مقامی افراد نے نشیبی علاقوں میں حفاظتی اقدامات اور مؤثر نگرانی کا مطالبہ کیا۔
    ‎ماہرین کے مطابق مون سون کے موسم میں شہروں کے ڈرینج نظام کی بروقت صفائی، نالوں کی دیکھ بھال اور ہنگامی انتظامات شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔

  • 
حکومت کا روایتی سرنجز پر مکمل پابندی کا فیصلہ، صرف آٹو ڈس ایبل سرنجز استعمال ہوں گی

    
حکومت کا روایتی سرنجز پر مکمل پابندی کا فیصلہ، صرف آٹو ڈس ایبل سرنجز استعمال ہوں گی

    ‎وفاقی حکومت نے ملک بھر میں روایتی (مینول) سرنجز کے استعمال کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سرنجز کے دوبارہ استعمال سے پھیلنے والی خطرناک بیماریوں کی روک تھام اور مریضوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے اس حوالے سے تمام ضروری ورکنگ مکمل کر لی ہے۔ نئے فیصلے کے تحت ایک سے 10 سی سی تک کی تمام روایتی سرنجز کی درآمد، مقامی تیاری، فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے یکم جولائی کو جاری کیا گیا سابقہ نوٹیفکیشن بھی واپس لیا جائے گا۔ اس نوٹیفکیشن کے تحت صرف 3 اور 10 سی سی کی روایتی سرنجز پر پابندی لگائی گئی تھی، تاہم اب پابندی کا دائرہ تمام مینول سرنجز تک بڑھا دیا گیا ہے۔
    ‎حکام کے مطابق اس فیصلے سے قبل سرنج بنانے والی صنعت، طبی ماہرین، اسپتالوں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے طویل مشاورت کی گئی۔ اگرچہ تمام اسٹیک ہولڈرز اس معاملے پر مکمل طور پر متفق نہیں تھے، تاہم عوامی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
    ‎ذرائع نے بتایا کہ پہلے بعض مخصوص سرکاری اور نجی اسپتالوں کو 10 سی سی روایتی سرنج استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن اب یہ استثنا بھی ختم کیا جا رہا ہے۔ تاہم انسولین سرنجز اس فیصلے سے مستثنیٰ رہیں گی اور ان پر پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔
    ‎طبی ماہرین کے مطابق روایتی سرنجز کے دوبارہ استعمال سے ایڈز، ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی اور دیگر خون کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پابندی کے بعد آٹو ڈس ایبل سرنجز کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا، جو ایک بار استعمال ہونے کے بعد دوبارہ استعمال کے قابل نہیں رہتیں۔
    ‎ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ وزیر اعظم کی ہدایت پر کیا گیا ہے، جبکہ ڈریپ کے میڈیکل ڈیوائسز بورڈ نے بھی روایتی سرنجز پر مکمل پابندی کی منظوری دے دی ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ اس اقدام سے طبی شعبے میں انفیکشن کے خطرات کم ہوں گے اور مریضوں کی حفاظت کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔