Baaghi TV


چین میں سیلاب کے بعد 900 زہریلے سانپ فارم سے فرار، شہریوں کو الرٹ جاری

‎چین کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور تباہ کن سیلاب نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ سیلابی ریلوں کے باعث ایک سانپوں کی افزائش کے فارم کو شدید نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں تقریباً 900 سانپ فارم سے نکل کر قریبی علاقوں میں پھیل گئے۔ فرار ہونے والے سانپوں میں دنیا کے خطرناک ترین زہریلے سانپوں میں شمار ہونے والے کوبرا بھی شامل ہیں، جس کے بعد مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
‎مقامی حکام کے مطابق طاقتور سیلابی ریلے سانپوں کے فارم میں داخل ہوئے اور پنجرے اور باڑیں ٹوٹ گئیں، جس کے باعث سینکڑوں سانپ آزاد ہو کر اطراف کے علاقوں کا رخ کر گئے۔ واقعے کے فوراً بعد متعلقہ اداروں نے ہنگامی کارروائی شروع کرتے ہوئے ریسکیو ٹیموں، جنگلی حیات کے ماہرین اور خصوصی عملے کو موقع پر روانہ کیا تاکہ سانپوں کو رہائشی علاقوں تک پہنچنے سے پہلے قابو میں لایا جا سکے۔
‎حکام کا کہنا ہے کہ خصوصی ٹیمیں اب تک بڑی تعداد میں سانپوں کو دوبارہ پکڑنے میں کامیاب ہو چکی ہیں، تاہم باقی ماندہ سانپوں کی تلاش جاری ہے۔ سرچ آپریشن کے دوران جدید آلات اور خصوصی حفاظتی اقدامات اختیار کیے جا رہے ہیں تاکہ ریسکیو اہلکاروں اور مقامی شہریوں کی جانوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فرار ہونے والے بعض سانپ انتہائی مہلک زہر رکھتے ہیں اور ان کے ڈسنے سے انسانی جان کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
‎انتظامیہ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر متاثرہ مقامات پر جانے سے گریز کریں۔ اگر کسی کو سانپ نظر آئے تو فوری طور پر متعلقہ حکام یا ریسکیو اداروں کو اطلاع دی جائے۔ شہریوں کو سختی سے تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ خود سانپ پکڑنے یا انہیں مارنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ ایسا کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور ریسکیو کارروائی میں بھی رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے۔
‎یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چین کے کئی صوبے شدید بارشوں اور سیلاب کی لپیٹ میں ہیں۔ حالیہ موسمی صورتحال کے باعث بڑے پیمانے پر مالی نقصان، انفراسٹرکچر کی تباہی اور نقل و حمل کے نظام میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔ حکام نے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں اور مختلف علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

More posts