Baaghi TV


میڈیکل کالجز کی فیسوں اور خالی نشستوں پر تفصیلی رپورٹ طلب

‎قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت نے ملک بھر کے سرکاری اور نجی میڈیکل کالجوں میں بھاری فیسوں، خالی نشستوں، معیارِ تعلیم اور دیگر انتظامی معاملات پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ کمیٹی نے ہدایت کی ہے کہ آئندہ اجلاس میں تمام متعلقہ امور پر جامع معلومات پیش کی جائیں تاکہ مؤثر پالیسی سازی کی جا سکے۔
‎اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے کی، جبکہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال، کمیٹی رکن عالیہ کامران، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے صدر ڈاکٹر رضوان اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔
‎اجلاس کے دوران نجی میڈیکل کالجوں کی بڑھتی ہوئی فیسوں، تعلیمی معیار، خالی نشستوں اور پی ایم ڈی سی کے انتظامی و مالی معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ارکانِ کمیٹی نے نجی میڈیکل کالجوں کی جانب سے وصول کی جانے والی بھاری فیسوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ اور والدین پر بڑھتا ہوا مالی بوجھ ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے، جبکہ بعض اداروں میں معیارِ تعلیم سے متعلق بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
‎وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اجلاس کو بتایا کہ حقیقت یہ ہے کہ جن نجی میڈیکل کالجوں میں بہتر تعلیمی معیار موجود ہے، وہاں زیادہ فیسوں کے باوجود تمام نشستیں مکمل ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر میڈیکل کالج کی فیس، معیارِ تعلیم اور خالی نشستوں سے متعلق الگ الگ رپورٹ تیار کرے گی تاکہ اصل صورتحال سامنے آ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ طلبہ اور نجی تعلیمی اداروں دونوں کے جائز مفادات کا تحفظ کیا جائے، اسی لیے خالی نشستوں کی وجوہات کا مکمل جائزہ لیا جائے گا۔
‎چیئرمین کمیٹی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے ملک بھر کے میڈیکل کالجوں میں خالی رہ جانے والی نشستوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ان کی وجوہات اور مستقل پالیسی بھی پیش کی جائے۔ انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ متعلقہ اضلاع کے ارکانِ اسمبلی اپنے علاقوں کے میڈیکل کالجوں کا خود جائزہ لیں اور اپنی رپورٹس کمیٹی کے سامنے پیش کریں۔
‎اجلاس میں پنجاب کے احتجاج کرنے والے طلبہ کے منسوخ کیے گئے لائسنسز کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا، جس پر متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کی گئی۔ اس کے علاوہ پی ایم ڈی سی کے صدر کی اضافی مالی مراعات اور اجلاس الاؤنسز کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ کمیٹی رکن عالیہ کامران نے مطالبہ کیا کہ تنخواہوں اور مالی مراعات کی منظوری سے متعلق قانونی حیثیت واضح کی جائے۔
‎پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان نے کمیٹی کو بتایا کہ اضافی مالی مراعات کا معاملہ ابھی حتمی منظوری کے مرحلے میں نہیں پہنچا، بلکہ یہ صرف ابتدائی سطح پر زیرِ غور آنے والی ایک تجویز تھی۔ اجلاس کے اختتام پر قائمہ کمیٹی نے تمام متعلقہ معاملات پر تفصیلی رپورٹس طلب کرتے ہوئے

More posts