فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ممبر کسٹمز سید شکیل شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے میری ٹائم افیئرز کی سفارشات اور ایف بی آر میں جاری اصلاحات کے تحت کسٹمز نظام کو جدید بنانے کا عمل تیزی سے جاری ہے، جس کا مقصد بحری معیشت کو فروغ دینا، بین الاقوامی تجارت کو آسان بنانا اور بندرگاہوں کی کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔
وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے میری ٹائم افیئرز کے چیئرمین افتخار احمد راؤ اور سیکرٹری میری ٹائم افیئرز کے ہمراہ مشترکہ پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی میں میری ٹائم سیکٹر کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اسی لیے بندرگاہوں اور کسٹمز کے نظام میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے متعدد اصلاحات نافذ کی گئی ہیں۔
سید شکیل شاہ کے مطابق ان اصلاحات کے نتیجے میں درآمدی سامان کی کلیئرنس کا دورانیہ ایک سال کے اندر 52.9 گھنٹوں سے کم ہو کر 18.3 گھنٹے رہ گیا ہے۔ حکومت نے اب اس وقت کو مزید کم کر کے 12 گھنٹے تک لانے کا ہدف مقرر کیا ہے تاکہ درآمدی اور برآمدی سرگرمیوں کو مزید تیز بنایا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ بندرگاہوں پر 50 ہزار کنٹینرز ذخیرہ کرنے کی گنجائش بھی حاصل کر لی گئی ہے، جس سے تجارتی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی اور سامان کی بروقت ترسیل ممکن ہو سکے گی۔
ممبر کسٹمز نے کہا کہ ٹاسک فورس کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی کے لیے فیس لیس نظام نافذ کیا گیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ اس نظام کے تحت فی گڈز ڈیکلریشن اوسط ریونیو 16 فیصد اضافے کے بعد 6.8 ملین روپے سے بڑھ کر 7.7 ملین روپے تک پہنچ گیا، جبکہ درآمدی ٹیکسوں کی وصولی میں مجموعی طور پر 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بڑے بحری جہازوں کی پاکستانی بندرگاہوں پر آمد میں بنیادی ڈھانچے اور بنکرنگ قواعد کی عدم موجودگی بڑی رکاوٹ تھی۔ اب بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے بنکرنگ کے قواعد نافذ کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں پر بڑے جہازوں کو ایندھن کی فراہمی ممکن ہو سکے گی، جس سے بحری تجارت اور بندرگاہی سرگرمیوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

کسٹمز اصلاحات سے درآمدی کلیئرنس کا وقت 18 گھنٹے تک محدود، مزید کمی کا ہدف
-

غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، مزید 8 فلسطینی شہید
غزہ کی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں کم از کم 8 فلسطینی شہید اور 17 افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ مجموعی شہادتوں کی تعداد 73 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ مسلسل بمباری اور گولہ باری کے باعث غزہ کی انسانی صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کے مختلف علاقوں میں فضائی حملوں، گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جسے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
وزارت صحت نے بتایا کہ متعدد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جبکہ کئی زخمی سڑکوں اور کھلے مقامات پر امداد کے منتظر ہیں۔ ایمبولینسوں اور شہری دفاع کی ٹیموں کو مسلسل حملوں اور تباہ شدہ راستوں کے باعث متاثرہ مقامات تک پہنچنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔
طبی ذرائع کے مطابق جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے مغربی علاقے میں ایک رہائشی گھر پر اسرائیلی ڈرون حملے میں دو فلسطینی شہید ہوئے۔ حملے میں بطن السمین کے علاقے میں واقع ایک گھر کے صحن کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مزید نقصان کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
ذرائع نے بتایا کہ شہید ہونے والے دونوں افراد کی لاشیں ناصر اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں، جبکہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ مسلسل حملوں کے باعث اسپتالوں پر بھی شدید دباؤ ہے اور طبی سہولیات محدود ہوتی جا رہی ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کے تحفظ، امدادی سرگرمیوں کی بحالی اور جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مزید جانی نقصان کو روکا جا سکے۔ -

ڈی آئی خان میں دو گروپوں کے تصادم میں 6 افراد جاں بحق
خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں دو مختلف واقعات میں 6 افراد جاں بحق جبکہ ایک خاتون اور دو بچے زخمی ہوگئے۔ پولیس نے دونوں واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق پہلا واقعہ ہنیالہ شاہ حسن خیل میں پیش آیا، جہاں دو گروپوں کے درمیان دیرینہ تنازع خونریز تصادم میں تبدیل ہوگیا۔ فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں 6 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ دو افراد زخمی ہوئے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد میں عطاءاللہ گروپ کے 5 افراد اور مخالف گروپ کا ایک شخص شامل ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے گئے اور مزید کشیدگی روکنے کے لیے سیکیورٹی بڑھا دی گئی۔
دوسری جانب کڑی خیسور کے علاقے وانڈہ علی میں نامعلوم افراد نے اقبال نامی شخص کے گھر پر ہینڈ گرنیڈ پھینکا اور فائرنگ بھی کی۔ حملے کے نتیجے میں ایک خاتون اور دو بچے زخمی ہوگئے، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
واقعے کے بعد متاثرہ خاندان کے افراد اور مقامی شہریوں نے ایس پی پہاڑپور کے دفتر کے باہر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے حملہ آوروں کی فوری گرفتاری، متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کرنے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
پولیس کے مطابق ہینڈ گرنیڈ حملے اور فائرنگ کے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں واقعات میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ -

پاکستان میں نوجوانوں میں ایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز تشویشناک، وفاقی وزیر صحت
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں نوجوانوں کے درمیان ایچ آئی وی کے کیسز میں تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ برسوں میں سامنے آنے والے متعدد نئے کیسز کا تعلق منشیات کے استعمال اور غیر محفوظ جنسی رویوں سے ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جس کی صدارت سینیٹر عامر ولی الدین کر رہے تھے، مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایچ آئی وی کا پھیلاؤ اب صرف آلودہ سرنجوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے دیگر اسباب بھی سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وزارت صحت کو صرف اسلام آباد سے روزانہ تقریباً 35 سے 40 نئے ایچ آئی وی کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، جن میں نوجوان مرد اور خواتین کی تعداد نمایاں ہے۔ ان کے بقول یہ صورتحال صحت عامہ کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ بعض نجی تقریبات اور رات کے اجتماعات میں آئس سمیت مختلف منشیات کا استعمال کیا جاتا ہے، جہاں غیر محفوظ جنسی رویے بھی اختیار کیے جاتے ہیں، جو ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے نوجوان اس بیماری کے خطرات اور اس سے بچاؤ کے طریقوں سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہوتے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ صرف وزارت صحت کے لیے اس مسئلے پر قابو پانا ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے تمام متعلقہ اداروں، تعلیمی اداروں، والدین، سماجی تنظیموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے حال ہی میں اس معاملے پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں متعلقہ اداروں کو طلب کیا گیا اور ملک میں ایچ آئی وی کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں بیماری کی روک تھام، آگاہی مہم اور مؤثر حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا تاکہ نوجوان نسل کو اس خطرناک مرض سے محفوظ رکھا جا سکے۔ -

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تعداد ساڑھے پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئی
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں سرمایہ کاروں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 5 لاکھ 83 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ ماہرین اس پیش رفت کو ملکی معیشت اور کیپٹل مارکیٹ کے لیے حوصلہ افزا قرار دے رہے ہیں۔
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ایک لاکھ 90 ہزار سے زائد نئے سرمایہ کار مارکیٹ میں شامل ہوئے، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کی مجموعی تعداد میں 48 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اضافہ عوام کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور سرمایہ کاری کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق نئے سرمایہ کاروں میں نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔ 18 سے 30 سال عمر کے افراد مجموعی نئے سرمایہ کاروں کا 45 فیصد رہے، جبکہ 31 سے 45 سال عمر کے سرمایہ کاروں کا تناسب 41 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ اس رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوان نسل سرمایہ کاری اور مالی منصوبہ بندی میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہے۔
شہری بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تو کراچی 25 فیصد نئے سرمایہ کاروں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، جبکہ لاہور دوسرے نمبر پر رہا۔ اسلام آباد اور راولپنڈی سے مجموعی طور پر 13 فیصد نئے سرمایہ کار مارکیٹ میں شامل ہوئے۔
چیئرمین ایس ای سی پی نے اس موقع پر کہا کہ نوجوانوں کو کیپٹل مارکیٹ سے جوڑنا ادارے کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرمایہ کاری کے عمل کو مزید آسان بنانے کے لیے جلد ایک جدید ڈیجیٹل آن بورڈنگ موبائل ایپ متعارف کرائی جائے گی، جس کے ذریعے نئے سرمایہ کار گھر بیٹھے آسانی سے اپنا اکاؤنٹ کھول سکیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بینکوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اکاؤنٹ کھولنے کے عمل کو پہلے سے زیادہ سہل بنا دیا گیا ہے، جبکہ آئی بی اے این ویری فکیشن سسٹم کی بدولت سرمایہ کاروں کو اضافی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سہولت اکاؤنٹ کی سرمایہ کاری کی حد 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کر دی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد سرمایہ کاری کے عمل میں شریک ہو سکیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق کیپٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد نہ صرف مالیاتی شعبے کے استحکام کی علامت ہے بلکہ عوامی بچت کو پیداواری سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کے عمل کو بھی مزید مضبوط بنائے گی، جس سے ملکی معیشت کو طویل المدتی فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔ -

خواجہ سراؤں کے تحفظ کیلئے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں، پشاور ہائیکورٹ کی ہدایت
پشاور ہائیکورٹ نے حکومت کو خواجہ سراؤں کے تحفظ اور ان کے حقوق کے مؤثر تحفظ کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔ عدالت نے یہ ریمارکس پولیس کی جانب سے خواجہ سراؤں کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران دیے۔
کیس کی سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس مختلف مقامات پر خواجہ سراؤں کو بلاجواز ہراساں کرتی ہے، جس سے وہ عدم تحفظ اور مشکلات کا شکار ہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس سید ارشد علی نے استفسار کیا کہ آیا خواجہ سراؤں کے حقوق اور تحفظ سے متعلق کوئی قانون سازی یا عملی منصوبہ زیر غور ہے؟ اس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے اس حوالے سے ایک جامع رپورٹ تیار کر لی ہے۔
انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مجوزہ اقدامات میں خواجہ سراؤں کے لیے شیلٹر ہومز کا قیام، انڈومنٹ فنڈ کا اجرا، مختلف سرکاری محکموں میں ملازمتوں کا کوٹہ مقرر کرنا اور دیگر فلاحی اقدامات شامل ہیں تاکہ انہیں معاشرے میں باوقار زندگی گزارنے کے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے مزید بتایا کہ سینٹرل جیل میں پہلی مرتبہ ایک خواجہ سرا کو بطور وارڈن تعینات کیا گیا ہے، جو اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔
عدالت نے سرکاری حکام سے کہا کہ اب تک اس معاملے پر تحریری جواب عدالت میں جمع نہیں کرایا گیا، لہٰذا حکومت جلد از جلد اپنا تفصیلی جواب اور مجوزہ اقدامات کی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔
پشاور ہائیکورٹ نے اس معاملے کو اہم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ خواجہ سراؤں کو آئین کے مطابق تحفظ اور مساوی حقوق کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے، جس کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ -

کراچی ایئرپورٹ پر سگریٹ اسمگلنگ کی کوشش ناکام، دو عمرہ زائرین سے 2,600 پیکٹ برآمد
کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پاکستان کسٹمز نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے سگریٹ اسمگلنگ کی ایک کوشش ناکام بنا دی۔ حکام نے عمرہ کی ادائیگی کے لیے جدہ جانے والے دو مسافروں کے سامان سے 2 ہزار 600 سگریٹ کے پیکٹ برآمد کر کے ضبط کر لیے۔
کسٹمز حکام کے مطابق دونوں مسافر ایک نجی ایئرلائن کی پرواز کے ذریعے جدہ روانہ ہو رہے تھے۔ روانگی سے قبل معمول کی اسکیننگ کے دوران ان کے سامان میں مشکوک اشیا کی نشاندہی ہوئی، جس پر سامان کی تفصیلی تلاشی لی گئی۔
تلاشی کے دوران سامان سے 260 سلیوز برآمد ہوئیں، جن میں مجموعی طور پر 2 ہزار 600 سگریٹ کے پیکٹ موجود تھے۔ حکام نے فوری طور پر برآمد شدہ سگریٹ قبضے میں لے لیے اور دونوں مسافروں کو مزید قانونی کارروائی کے لیے تحویل میں لے لیا۔
پاکستان کسٹمز کے مطابق برآمد ہونے والے سگریٹ کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت ضبط کیے گئے ہیں، جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ اسمگلنگ کی اس کوشش کے پیچھے کوئی منظم نیٹ ورک تو سرگرم نہیں۔
کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے نگرانی کا نظام مزید مؤثر بنایا گیا ہے اور جدید اسکیننگ آلات کی مدد سے مسافروں کے سامان کی مکمل جانچ کی جا رہی ہے۔
حکام نے واضح کیا کہ غیر قانونی اشیا کی بیرون ملک منتقلی یا اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔ انہوں نے مسافروں سے بھی اپیل کی کہ وہ سفر کے دوران صرف قانونی اور مجاز اشیا ہی اپنے ساتھ رکھیں تاکہ کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔ -

راولپنڈی میں عسکری بینک افسر کے گھر حملے کی تحقیقات جاری، پولیس نے مقدمہ درج کر لیا
راولپنڈی کے حساس علاقے چکلالہ اسکیم تھری میں عسکری بینک کے ایک سینئر افسر کے گھر پر مسلح افراد کے حملے کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ واقعے کے حوالے سے متاثرہ خاندان کی درخواست پر نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ حملہ آوروں کی شناخت اور محرکات جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ افسر کی شناخت عمر اعتزاز کے نام سے ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ رپورٹس میں اس واقعے کو بیرون ملک موجود افراد اور مبینہ بین الاقوامی جرائم پیشہ عناصر سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حملے کے دوران گھر پر موجود سیکیورٹی گارڈز کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ بھی حاصل کی جا رہی ہے۔
کچھ غیر مصدقہ اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس واقعے کا تعلق ہانگ کانگ میں پیش آنے والے ایک الگ حملے اور مبینہ بھتہ خوری کے تنازع سے ہو سکتا ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق بیرون ملک ایک کاروباری تنازع کے بعد پاکستان میں حملے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ تاہم اس حوالے سے نہ تو پاکستانی حکام اور نہ ہی ہانگ کانگ پولیس کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے آئی ہے۔
اسی طرح بعض سوشل میڈیا پوسٹس میں چند افراد کے نام بھی حملے سے جوڑے جا رہے ہیں، لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تاحال کسی شخص کے ملوث ہونے کی تصدیق یا گرفتاری کا اعلان نہیں کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر زاویے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور شواہد کی بنیاد پر ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین کرنے کے بجائے صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں۔ -

ایران کے صوبہ بوشہر میں متعدد دھماکے، علاقے میں تشویش کی لہر
ایران کے جنوبی صوبے بوشہر میں متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جس کے بعد علاقے میں تشویش کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق بوشہر کے مختلف مقامات سے دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، تاہم فوری طور پر ان دھماکوں کی نوعیت، مقام یا ممکنہ نقصانات کے بارے میں سرکاری سطح پر مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
بوشہر ایران کا ایک انتہائی اہم صوبہ ہے کیونکہ یہاں ملک کا واحد فعال جوہری بجلی گھر، بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ، واقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقے میں کسی بھی غیر معمولی واقعے کو حساس نوعیت کا سمجھا جاتا ہے اور اس پر عالمی سطح پر بھی نظر رکھی جاتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران بوشہر کی فوجی اور جوہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس سے قبل ایرانی حکام نے بوشہر کی دو فوجی تنصیبات پر حملوں کی تصدیق کی تھی، جبکہ ان حملوں کے بعد ممکنہ جوہری خطرات کے حوالے سے بھی خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔
تازہ دھماکوں کے بعد مقامی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے علاقے کی نگرانی مزید سخت کر دی ہے اور صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دھماکے کسی فوجی کارروائی، فضائی حملے، تکنیکی خرابی یا کسی اور وجہ سے ہوئے۔
ایرانی حکام کی جانب سے واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں، جبکہ مزید معلومات سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال کے باعث خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ -

امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ خودکش حملہ کیس، دو سہولت کاروں کا جسمانی ریمانڈ منظور
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ خودکش حملہ کیس میں گرفتار دو مبینہ سہولت کاروں کا جسمانی ریمانڈ مزید سات روز کے لیے منظور کر لیا۔ عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران تفتیشی حکام کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد اور تحقیقات کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے مقدمے کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے ملزمان واصف اللہ اور محمد شفیق کو عدالت میں پیش کیا اور مزید تفتیش کے لیے 10، 10 روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، تاہم عدالت نے دونوں ملزمان کا جسمانی ریمانڈ سات روز کے لیے منظور کر لیا۔
تفتیشی حکام کے مطابق دونوں ملزمان کو سی ٹی ڈی مردان نے گرفتار کیا تھا۔ دورانِ تفتیش مبینہ طور پر انکشاف ہوا کہ وہ امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ پر ہونے والے خودکش حملے کی منصوبہ بندی میں سہولت کاری اور معاونت میں ملوث تھے۔ بعد ازاں انسداد دہشت گردی عدالت مردان سے اجازت حاصل کرنے کے بعد اسلام آباد پولیس نے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا۔
تحقیقات کے مطابق ملزمان نہ صرف حملہ آوروں کی منصوبہ بندی میں شریک تھے بلکہ انہیں مالی معاونت بھی فراہم کرتے رہے۔ تفتیشی اداروں کا دعویٰ ہے کہ دہشت گردوں کی مدد کے لیے رقوم ایک بائنانس اکاؤنٹ کے ذریعے موصول کی گئیں، جس کی مکمل تفصیلات حاصل کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
حکام کے مطابق ملزمان کے بائنانس اکاؤنٹ کی تصدیق اور مالی لین دین کی جانچ کے لیے ورچوئل کرنسی انویسٹی گیشن سیل (VCIC) کو باضابطہ خط ارسال کیا گیا ہے۔ متعلقہ ریکارڈ موصول ہونے کے بعد مزید تفتیش کی جائے گی تاکہ مالی معاونت کے نیٹ ورک اور دیگر ممکنہ سہولت کاروں کا سراغ لگایا جا سکے۔
تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ مقدمے کی تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر مزید گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔