Baaghi TV


وزیراعظم کا آسان قرضوں کے فروغ کا منصوبہ، ایس ایم ای سیکٹر کے لیے مالی سہولیات بڑھانے کی ہدایت

PKR

‎وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں ایکسیس ٹو فائنانس پلان پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں معیشت کے مختلف شعبوں کو آسان شرائط پر مالی سہولیات فراہم کرنے، سرمایہ کاری بڑھانے اور برآمدات میں اضافے کے لیے آئندہ دو سالہ حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔
‎بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد مالی سہولیات تک رسائی کو وسیع کرنا اور اسے قومی معیشت کا مؤثر حصہ بنانا ہے۔ منصوبے کے تحت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز)، زراعت، برآمدات، قابلِ تجدید توانائی، ہاؤسنگ اور آئی ٹی کے شعبوں کو آسان قرضوں اور کریڈٹ کی بہتر سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ سرمایہ کاری، روزگار اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکے۔
‎اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے پر عمل درآمد کے لیے وزارتِ خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، صوبائی حکومتوں اور دیگر متعلقہ اداروں پر مشتمل مشترکہ گورننس نظام تشکیل دیا جائے گا۔ وزیر خزانہ اس نظام کی سربراہی کریں گے جبکہ گورنر اسٹیٹ بینک شریک سربراہ ہوں گے۔ اس نظام کے تحت باقاعدہ اجلاس منعقد ہوں گے اور وزیراعظم کو ہر ماہ پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔
‎وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے مختلف شعبوں کو آسان شرائط پر مالی سہولیات فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ای سیکٹر ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس لیے بینکوں کو چاہیے کہ وہ اس شعبے اور دیگر ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کریں۔
‎وزیراعظم نے کہا کہ آسان قرضوں کی دستیابی سے برآمدات میں اضافہ، نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت مزید مستحکم ہوگی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مالی سہولیات کی فراہمی میں بہتر کارکردگی دکھانے والے بینکوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، جبکہ وہ خود ہر ماہ اس منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کریں گے۔
‎بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت آئندہ دو برس میں نجی شعبے کے مجموعی قرضوں میں ایس ایم ای سیکٹر کا حصہ 7 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح ایس ایم ای قرضوں سے فائدہ اٹھانے والے کاروباری اداروں کی تعداد 3 لاکھ 10 ہزار سے بڑھا کر 7 لاکھ 50 ہزار تک پہنچانے کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔
‎اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء، گورنر اسٹیٹ بینک، مختلف بینکوں کے صدور اور چیف ایگزیکٹو افسران، صوبائی چیف سیکریٹریز اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

More posts