ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ معاہدے کے بعد خلیجی عرب ممالک میں امریکی سیکیورٹی ضمانتوں سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خطے کے ممالک اب اپنی دفاعی حکمت عملی اور مستقبل کی سلامتی کے حوالے سے نئے سرے سے غور کر رہے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران خطے میں پیش آنے والے واقعات، خصوصاً ایران سے کشیدگی اور حالیہ جنگ، نے خلیجی ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ آیا امریکا مستقبل میں بھی پہلے کی طرح ان کی سلامتی کا ضامن رہے گا یا نہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے حالیہ خلیجی دورے کے دوران متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت کی قیادت کو یقین دہانی کرائی کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں ان کے مفادات کو مکمل اہمیت دی جائے گی اور امریکا اپنے اتحادیوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
اس کے باوجود خطے کے کئی ممالک معاہدے کی بعض شقوں پر تحفظات رکھتے ہیں، خاص طور پر ایران کے میزائل پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ سے متعلق خدشات بدستور موجود ہیں۔ اسی تناظر میں بعض خلیجی ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے اور اسلحے کے متبادل ذرائع تلاش کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ خلیجی ممالک خطے میں امن اور کشیدگی میں کمی کے خواہاں ہیں، تاہم وہ اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے صرف سفارت کاری پر انحصار نہیں کرنا چاہتے۔ ان کے نزدیک مضبوط دفاعی صلاحیت اور علاقائی تعاون مستقبل کے استحکام کے لیے ناگزیر ہوگا۔
ایران معاہدے کے بعد خلیجی ممالک کو امریکا پر اعتماد کم ہونے لگا
