یورپ کے مختلف ممالک شدید گرمی اور غیر معمولی ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہیں، جہاں جان لیوا موسم کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 264 ہو گئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق آگ برساتے سورج اور مسلسل بلند درجہ حرارت نے معمولات زندگی بری طرح متاثر کر دیے ہیں، جبکہ اسپتالوں اور ایمرجنسی سروسز پر بھی شدید دباؤ ہے۔
رپورٹس کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک اسپین ہے، جہاں صرف چار روز کے دوران 212 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ملک کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث حکام نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے۔
فرانس میں شدید گرمی کے باعث تین سالہ بچے سمیت 52 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دارالحکومت پیرس میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دل کا دورہ پڑنے کے 25 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کے باعث دو ایٹمی ری ایکٹر بھی عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔
برطانیہ میں ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور گرمی سے متعلق طبی مسائل میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ صرف ایک دن میں ایمبولینس سروس کو 642 جان لیوا نوعیت کی ایمرجنسی کالز موصول ہوئیں، جبکہ متعدد اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ بعض اسپتالوں میں کولنگ سسٹم متاثر ہونے سے طبی آلات نے بھی کام کرنا بند کر دیا، جس کے باعث غیر ہنگامی آپریشنز اور اسکین مؤخر کر دیے گئے ہیں۔
ادھر سوئٹزرلینڈ میں گرمی نے گزشتہ 80 برس کا ریکارڈ توڑ دیا ہے، جبکہ نیدرلینڈز نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ شدید گرمی کے باعث ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔
ماہرین موسمیات کے مطابق یورپ پر چھایا ہوا ہیٹ ڈوم اس غیر معمولی گرمی کی بنیادی وجہ ہے، جو گرم ہوا کو ایک ہی علاقے میں قید رکھتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ موسمیاتی صورتحال 2003 کی تباہ کن ہیٹ ویو کی یاد دلا رہی ہے، جس میں ہزاروں افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ کئی مغربی ممالک میں ایئر کنڈیشننگ کا محدود استعمال بھی ہلاکتوں میں اضافے کی ایک اہم وجہ بن سکتا ہے۔
یورپ میں شدید ہیٹ ویو سے اموات 264 تک پہنچ گئیں، اسپین سب سے زیادہ متاثر
