Baaghi TV

وینزویلا میں پرانی اور غیر معیاری عمارتیں زلزلے میں بڑے جانی نقصان کی وجہ بنیں، ماہرین

‎کاراکاس: ماہرین کا کہنا ہے کہ وینزویلا میں حالیہ تباہ کن زلزلوں کے دوران بڑے پیمانے پر عمارتوں کے منہدم ہونے کی ایک بڑی وجہ کئی دہائیوں سے جاری معاشی بحران، بدعنوانی اور پرانی عمارتوں کی خستہ حالی ہے۔
‎برطانوی یونیورسٹی آف کووینٹری کے قدرتی آفات کے ماہر میتھیو بلیکٹ کے مطابق وینزویلا میں طویل معاشی مشکلات اور سرکاری بدعنوانی کے باعث متعدد عمارتوں کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی گئی، جبکہ بہت سی تعمیرات سرکاری ضابطوں کے بغیر یا ناقص معیار کے ساتھ مکمل کی گئیں۔
‎ماہرین کے مطابق اگرچہ وینزویلا کے موجودہ تعمیراتی قوانین بین الاقوامی معیار کے مطابق ہیں، تاہم 1950، 1960 اور 1970 کی دہائی میں تعمیر ہونے والی عمارتیں جدید زلزلہ مزاحم معیار پر پوری نہیں اترتیں، جس کی وجہ سے وہ شدید زلزلوں میں زیادہ نقصان کا شکار ہوئیں۔
‎رپورٹس کے مطابق دارالحکومت کاراکاس میں گرنے والی زیادہ تر عمارتیں بھی انہی پرانی دہائیوں میں تعمیر کی گئی تھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی خوشحالی کے دور میں تیزی سے ہونے والی تعمیرات میں کئی مقامات پر معیار پر سمجھوتہ کیا گیا۔
‎سول سوسائٹی تنظیموں نے بھی نشاندہی کی ہے کہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں بڑے سرکاری رہائشی منصوبے شامل ہیں، جہاں تیزی سے بڑھتی آبادی کے دوران ہزاروں رہائشی یونٹس تعمیر کیے گئے تھے، مگر ان میں تعمیراتی ضوابط پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوا۔
‎یونیورسٹی آف برسٹل کے ماہر سول انجینیئرنگ رافائل ڈی ریسی کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ موجودہ رہائشی عمارتوں میں کتنی ایسی ہیں جو جدید تعمیراتی قوانین سے پہلے تعمیر ہوئیں یا غیر رسمی طور پر بنائی گئیں، کیونکہ یہی عوامل زلزلے میں تباہی کی شدت کا تعین کرتے ہیں۔
‎ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وینزویلا میں پرانی عمارتوں کو جدید زلزلہ مزاحم معیار کے مطابق مضبوط بنانے کا عمل نہ ہونے کے برابر رہا، جبکہ دیگر ممالک، جیسے امریکا، میں بڑے زلزلوں کے بعد حکومتوں نے عمارتوں کی مرمت، معائنہ اور مضبوطی کے لیے خصوصی پروگرام شروع کیے تھے۔

More posts