سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کاظم غریب آبادی نے کہا کہ جن جوہری تنصیبات پر حملے ہوئے یا جوہری مواد سے متعلق معاملات ہیں، ان تک رسائی کے حوالے سے کوئی موجودہ منصوبہ طے نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ تمام امور صرف ایک جامع اور حتمی معاہدے کے فریم ورک میں ہی زیر غور آئیں گے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ جوہری تنصیبات کے معائنے اور نگرانی سے متعلق معاملات کا حل اس وقت ممکن ہوگا جب دوسری جانب سے تمام اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کے معائنہ کار ایران کی جوہری تنصیبات کا دورہ کریں گے۔ تاہم ایران کے تازہ بیان نے اس حوالے سے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں حالیہ مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کی جانب سے مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے مستقل بنیادوں پر وسیع جوہری معائنوں پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا تھا کہ تہران آئی اے ای اے معائنہ کاروں کو رسائی دینے پر رضامند ہو گیا ہے۔
تاہم ایرانی حکام کے تازہ مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ جوہری معائنوں اور نگرانی کے معاملات اب بھی دونوں ممالک کے درمیان حتمی مذاکرات کا اہم اور متنازع حصہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایران کے جوہری ذخائر اور معائنہ کاروں کی رسائی مستقبل کے کسی بھی مستقل معاہدے کے لیے بنیادی چیلنج بنے رہیں گے۔
ایران کا جوہری تنصیبات تک رسائی دینے سے انکار، حتمی معاہدے سے مشروط قرار
