Baaghi TV

ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان کے سرجن کا شرمناک کارنامہ غریب مریض کو ٹرخا دیا

thq gujar khan

وزیراعلیٰ پنجاب کے ہیلتھ ویژن کی دھجیاں اڑ گئیں سرجری یہاں نہیں ہو سکتی راولپنڈی چلے جاو یا میرے نجی کلینک 45 ہزار کا پیکج بھی بتا دیا
بھاری تنخواہیں لینے والے ڈاکٹرز لٹیرے بن گئے وزیر اعلی، سیکرٹری ہیلتھ سے مسیحائی کے روپ میں چھپے قصاب کے خلاف فوری کارروائی کا عوامی مطالبہ
گوجرخان (قمرشہزاد) تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال گوجرخان کے کمرہ نمبر 64 میں تعینات سرجن ڈاکٹر نے اخلاقیات اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے غریب مریض کی مجبوری کا سودا کر ڈالا۔ شرقی علاقے کے رہائشی ظہیر نامی شہری، جو جسم پر موجود ایک تکلیف دہ انفیکشن زدہ گلٹی کے علاج کے لیے ہسپتال پہنچا تھا، اسے ڈاکٹر نے یہ کہہ کر فارغ کر دیا کہ یہاں یہ سرجری نہیں ہو سکتی راولپنڈی چلے جاو جبکہ ساتھ ہی اسے اپنے نجی کلینک آیان ہسپتال آنے کی دعوت دے دی جہاں اسی سرجری کے لیے 45 ہزار روپے کا پیکج بھی بتا دیا،

متاثرہ شہری ظہیر نے میڈیا کو بتایا کہ وہ شدید تکلیف کے باعث جمعہ کے روز ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان پہنچا تھا۔ پرچی کاؤنٹر نے اسے 64 نمبر کمرہ کے سرجن کے پاس بھیجا، لیکن سرجن نے محض ایک پین کلر لکھ کر دی اور ڈراتے ہوئے کہا کہ آج ہی سرجری کروانا بھی ضروری ہے مگر یہ سرجری ٹی ایچ کیو میں نہیں ہو سکتی راولپنڈی سرکاری ہسپتال چلے جاو یا میرے پاس پرائیویٹ ہسپتال آ جاو، میرے استفسار پر ڈاکٹر نے مبینہ طور پر سودے بازی کرتے ہوئے کہا کہ ویسے تو پرائیویٹ 65 ہزار خرچہ ہے لیکن آپ سے 45 ہزار لے لوں گا۔ غریب مریض رقم نہ ہونے کے باعث مایوس ہو کر گھر لوٹ گیا، جہاں ایک مقامی سماجی شخصیت نے اس کی حالت زار دیکھ کر چندہ جمع کیا اور ایک دوسرے نجی ہسپتال میں 30 ہزار روپے میں اس کی معمولی سرجری کروائی۔

عوامی حلقوں نے اس واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب ایک عام نجی ہسپتال میں وہ سرجری ہو سکتی ہے تو کروڑوں روپے کے بجٹ سے چلنے والے ٹی ایچ کیو میں کیوں نہیں؟ کیا سرجن ڈاکٹر صرف نجی کلینک بھرنے اور سرکاری تنخواہ ہضم کرنے کے لیے بھرتی کیے گئے ہیں؟ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وزیر صحت اور سیکرٹری ہیلتھ سے مطالبہ کیا ہے کہ کمرہ نمبر 64 کے اس تاجر ڈاکٹر کے خلاف فوری انکوائری کی جائے اور سی او ہیلتھ راولپنڈی و انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت پر ان کا محاسبہ کیا جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری ہسپتال میں معمولی سرجری کی سہولت بھی میسر نہیں تو انتظامیہ کو چاہیے کہ ہسپتال کو تالا لگا کر چابیاں محکمہ صحت کے حوالے کر دے۔

More posts