Baaghi TV

امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں، تیل و گیس نیٹ ورک نشانے پر

امریکا کے محکمہ خزانہ نے آج ایران کے تیل اور قدرتی گیس کی برآمدات سے منسلک دو درجن سے زائد افراد، کمپنیوں اور بحری جہازوں پر نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق یہ تمام عناصر ایک ایسے نیٹ ورک کا حصہ ہیں جو محمد حسین شمخانی کے زیر انتظام چلایا جا رہا تھا۔محکمہ خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پابندیوں کی فہرست میں نو بحری جہاز شامل ہیں، جن میں خام تیل اور مائع پیٹرولیم گیس لے جانے والے ٹینکرز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں قائم کئی کمپنیوں کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔امریکی حکام کے مطابق محمد حسین شمخانی کے والد ایران کی اعلیٰ قیادت کے اہم سیاسی مشیر تھے، جو حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں مارے گئے،

یہ اعلان ایک روز بعد سامنے آیا ہے جب امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے تیل پر تمام پابندیاں دوبارہ بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سے قبل تہران کو ایک ماہ کی عارضی اجازت دی گئی تھی تاکہ وہ ٹینکرز میں موجود ذخیرہ شدہ تیل فروخت کر سکے۔امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے عندیہ دیا ہے کہ واشنگٹن مزید سخت اقدامات کے لیے بھی تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا تیل خریدنے والے ممالک پر بھی "ثانوی پابندیاں” عائد کی جا سکتی ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ نے شمخانی کے شپنگ نیٹ ورک کو نشانہ بنایا ہو۔ اس سے قبل جولائی میں بھی امریکا نے اس نیٹ ورک سے وابستہ 115 سے زائد افراد، اداروں اور جہازوں پر وسیع پابندیاں عائد کی تھیں۔ماہرین کے مطابق نئی پابندیوں سے ایران کی توانائی برآمدات اور خطے میں معاشی سرگرمیوں پر مزید دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔

More posts