Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • فلم میں کردار دینے کے بدلے جسمانی تعلقات قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا،اداکارہ کا انکشاف

    فلم میں کردار دینے کے بدلے جسمانی تعلقات قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا،اداکارہ کا انکشاف

    نئی دہلی: بھارتی ٹیلی ویژن اور فلم انڈسٹری میں کاسٹنگ کاؤچ سے متعلق ایک اور چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔ معروف اداکارہ پرینیتا بور ٹھاکر نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں میں پیش آنے والے تلخ تجربے کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف 21 برس کی عمر میں انہیں فلم میں کام دینے کے بدلے نامناسب مطالبات کا سامنا کرنا پڑا۔

    بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرینیتا بور ٹھاکر نے بتایا کہ جب وہ اپنے شوبز کیریئر کا آغاز کر رہی تھیں تو ایک معروف ہدایت کار نے فلم کا معاہدہ کرنے کے بہانے انہیں ملاقات کے لیے بلایا۔ اداکارہ کے مطابق یہ ملاقات ان کے لیے ایک خوفناک تجربہ ثابت ہوئی، کیونکہ انہیں فلم میں کردار دینے کے بدلے جسمانی تعلقات قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔پرینیتا نے کہا کہ اس غیر متوقع مطالبے نے انہیں شدید صدمے سے دوچار کر دیا اور انہوں نے فوراً اس منصوبے سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے معاہدہ منسوخ کر دیا۔ ان کے مطابق یہ واقعہ ان کی زندگی کا ایسا سبق بن گیا جس نے انہیں مستقبل میں ہر فیصلہ زیادہ احتیاط سے کرنے پر مجبور کیا۔

    اداکارہ نے بتایا کہ اس واقعے کے بارے میں جب انہوں نے اپنے والد کو آگاہ کیا تو وہ شدید غصے میں آ گئے تھے۔ تاہم والدین کی حمایت نے انہیں حوصلہ دیا اور انہوں نے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر شوبز میں جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔پرینیتا بور ٹھاکر کا کہنا تھا کہ فلم انڈسٹری میں مشکلات ضرور موجود ہیں، لیکن کسی بھی فنکار کو اپنی مرضی کے خلاف کسی چیز پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق فنکاروں کے لیے سب سے اہم چیز اپنی حدود کا تعین کرنا اور ہر نامناسب مطالبے پر واضح طور پر "نہ” کہنا ہے۔انہوں نے کہا کہ کیریئر کے آغاز میں بہت سے نئے فنکار مستقبل کے خوف کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے بعض افراد ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم اگر کوئی فنکار اپنے ٹیلنٹ پر اعتماد رکھے اور اپنے اصولوں پر قائم رہے تو کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

    اداکارہ کے مطابق آج وہ اپنے لیے واضح حدود مقرر کر چکی ہیں، جس کے باعث اب کوئی بھی ان سے اس نوعیت کی نامناسب بات کرنے کی جرات نہیں کرتا۔ انہوں نے نوجوان فنکاروں کو مشورہ دیا کہ وہ کسی بھی پیشہ ورانہ موقع کے لیے اپنی عزتِ نفس اور اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہ کریں۔

  • نو منتخب وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ نے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    نو منتخب وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ نے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    گلگت: نو منتخب وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ نے اپنے عہدے کا باقاعدہ حلف اٹھا لیا۔ حلف برداری کی تقریب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت پارٹی رہنماؤں، سرکاری حکام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

    حلف اٹھانے کے بعد اپنے خطاب میں وزیرِ اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ 7 جون کو ہونے والے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر سامنے آئی، جو عوام کے اعتماد کا واضح اظہار ہے۔انہوں نے کہا کہ 2026ء کے انتخابات میں نوجوانوں اور خواتین نے بھرپور کردار ادا کیا، جس سے جمہوری عمل مزید مضبوط ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت عوامی توقعات پر پورا اترنے، ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے اور خطے کی خوشحالی کے لیے بھرپور اقدامات کرے گی۔

    اس سے قبل چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے یادگارِ شہداء پر حاضری دی، پھول چڑھائے اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ بعد ازاں وہ حلف برداری کی تقریب میں شریک ہوئے۔سیاسی مبصرین کے مطابق نئی حکومت کو گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبوں، روزگار، سیاحت کے فروغ اور بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے اہم چیلنجز کا سامنا ہوگا، جبکہ عوام نئی قیادت سے بہتر طرزِ حکمرانی اور عوامی مسائل کے حل کی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔

  • اے این پی سوات کے سینئر نائب صدر ممتاز علی خان کے گھر پر حملہ،ایمل ولی خان کی مذمت

    اے این پی سوات کے سینئر نائب صدر ممتاز علی خان کے گھر پر حملہ،ایمل ولی خان کی مذمت

    پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے اے این پی سوات کے سینئر نائب صدر ممتاز علی خان کے گھر پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے کی فوری، شفاف اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

    ایمل ولی خان نے اپنے بیان میں کہا کہ ممتاز علی خان پر یہ مسلسل تیسرا حملہ ہے، جو ریاستی رٹ اور حکومتی کارکردگی پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ دن دیہاڑے اس نوعیت کا حملہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی موجودہ صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں قیامِ امن کے دعویداروں کو عوام کے سامنے جواب دینا ہوگا کہ حملہ آور کہاں سے آتے ہیں، کھلے عام کارروائیاں کیسے کرتے ہیں اور پھر کس کی سرپرستی میں باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شرپسند عناصر کا ایک گھر پر گھنٹوں تک فائرنگ کرنا حکومت اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔

    اے این پی کے مرکزی صدر نے کہا کہ حملے کے نتیجے میں ممتاز علی خان کے گھر کے تین افراد اور ریسکیو اہلکاروں کا زخمی ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات اور دعاؤں کا اظہار کیا۔ایمل ولی خان نے کہا کہ ممتاز علی خان کی کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں، بلکہ انہوں نے ہمیشہ عوامی نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے امن، جمہوریت اور پختون قوم کے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ممتاز علی خان کے خاندان نے ناقابلِ فراموش قربانیاں دی ہیں، تاہم افسوس ہے کہ آج ایک بار پھر انہیں مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ممتاز علی خان اور ان کے خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور ایسے بزدلانہ حملوں سے نہ ماضی میں مرعوب ہوئی ہے اور نہ آئندہ اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے ہٹے گی۔ایمل ولی خان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری اور جامع تحقیقات کرائی جائیں، حملے میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، جبکہ ممتاز علی خان اور ان کے خاندان کو مؤثر سیکیورٹی فراہم کی جائے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی امن، جمہوریت، قانون کی بالادستی اور پختون قوم کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد پہلے سے زیادہ عزم اور استقامت کے ساتھ جاری رکھے گی۔

  • مسلم ممالک پر مشتمل اتحادعالمِ اسلام کے لیے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہو گا ،حافظ مسعود اظہر

    مسلم ممالک پر مشتمل اتحادعالمِ اسلام کے لیے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہو گا ،حافظ مسعود اظہر

    لاہور ( )سعودی عرب کی قیادت میں پانچ مسلم ممالک پر مشتمل اتحادعالمِ اسلام کے لیے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہو گا ۔ حرمین شریفین کی میزبانی کی وجہ سے سعودی عرب کو امتِ مسلمہ میں ایک منفرد مذہبی اور اخلاقی مقام حاصل ہے، اسی لیے مسلمان ممالک کی بڑی تعداد اسے اتحاد، قیادت اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کی علامت سمجھتی ہے۔ان خیالات کا اظہار پاکستان اسلامک کونسل کے چئیرمین اور جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے ڈائر یکٹر ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے کیا ۔ انھوں کہا کہ سعودی عرب کی قیادت میں پاکستان ، ترکیہ ، قطر اور مصر پر مشتمل اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ موجودہ عالمی حالات اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ مسلم ممالک نیٹو طرز پر ایک ایسا مضبوط اتحاد تشکیل دیں جو مشترکہ دفاع، انٹیلی جنس تعاون، اقتصادی شراکت، سائنسی ترقی اور سفارتی ہم آہنگی کو فروغ دے۔ اس اتحاد میں خلیجی ممالک، مشرقِ وسطی، جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور دیگر اسلامی ریاستوں کی شمولیت مسلم دنیا کو ایک موثر اور باوقار قوت بنا سکتی ہے۔ یہ اشتراک وسیع اسلامی اتحاد کی شکل اختیار کرلے تو امتِ مسلمہ کے اجتماعی مفادات کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ ا س اتحاد کو موثر بنانے کیلئے پاکستان اور سعودی عرب اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔دونوں ممالک کا دفاع، معیشت، سرمایہ کاری، انسدادِ دہشت گردی اور سفارتی تعاون کے شعبوں میں دونوں ممالک کی قربت عالمِ اسلام کے لیے ایک مثبت مثال ہے۔ ا یسا اتحاد خلیجی خطے میں سلامتی کے استحکام، مشرقِ وسطی میں تنازعات کے حل، جنوبی ایشیا میں امن و استحکام اور اسلامی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو نئی جہت دے سکتا ہے۔پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ اعتماد، اخوت اور باہمی تعاون پر مبنی رہے ہیں۔ مشترکہ عسکری مشقیں، جدید دفاعی ٹیکنالوجی کا تبادلہ، انسدادِ دہشت گردی میں تعاون اور اقتصادی راہداریوں کی توسیع مسلم دنیا کی اجتماعی طاقت میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔ اسی طرح عالمی فورمز پر متحدہ موقف اختیار کرنے سے فلسطین، کشمیر اور دیگر اہم اسلامی مسائل پر مسلم ممالک کی آواز پہلے سے زیادہ موثر انداز میں سنی جا ئے گی۔ مسلم قیادت اخلاص اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرے تو یہ اتحاد امتِ مسلمہ کے اتحاد، وقار، سلامتی اور ترقی کی جانب ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

  • صدر آصف علی زرداری آج سے 9 جولائی تک کرغزستان کا سرکاری دورہ کریں گے،  دفترخارجہ

    صدر آصف علی زرداری آج سے 9 جولائی تک کرغزستان کا سرکاری دورہ کریں گے، دفترخارجہ

    اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری آج سے 9 جولائی تک کرغزستان کے سرکاری دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق صدر کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی موجود ہوگا، جو مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے اہم ملاقاتوں میں شریک ہوگا۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ صدر آصف علی زرداری یہ دورہ کرغزستان کے صدر سدیر جباروف کی دعوت پر کر رہے ہیں۔ یہ گزشتہ 21 برس کے دوران کسی بھی پاکستانی صدر کا کرغزستان کا پہلا سرکاری دورہ ہے، جسے دونوں برادر ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے روابط کے تسلسل میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔دورے کے دوران صدر آصف علی زرداری اور کرغز صدر کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوگی، جس کے بعد دونوں ممالک کے وفود کی سطح پر بھی مذاکرات کیے جائیں گے۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان اور کرغزستان کے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں، علاقائی و عالمی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، معدنیات، زراعت، ٹیکسٹائل، حلال انڈسٹری، صحت اور ادویات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع کا جائزہ لیں گے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل معیشت، تعلیم، سیاحت اور عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بھی مختلف تجاویز پر غور کیا جائے گا۔

    ترجمان کے مطابق صدر آصف علی زرداری اپنے دورۂ کرغزستان کے دوران کرغز پارلیمنٹ کے اسپیکر سے بھی ملاقات کریں گے، جہاں پارلیمانی روابط اور باہمی تعاون کے فروغ پر بات چیت ہوگی۔دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور کرغزستان کے تعلقات مشترکہ تاریخ، مذہبی و ثقافتی ہم آہنگی، باہمی احترام اور خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ وژن پر مبنی ہیں۔ توقع ہے کہ صدر زرداری کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مزید وسعت دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

  • سری لنکا کی جیل میں خونریز ہنگامہ، 19 قیدی ہلاک، 100 سے زائد زخمی

    سری لنکا کی جیل میں خونریز ہنگامہ، 19 قیدی ہلاک، 100 سے زائد زخمی

    سری لنکا کے شہر نیگومبو کی ایک جیل میں قیدیوں کے دو گروہوں کے درمیان ہونے والی خونریز جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 19 قیدی ہلاک جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق جیل میں اتوار کے روز دو مخالف گروہوں کے درمیان تصادم شروع ہوا، جسے سیکیورٹی اہلکاروں نے رات گئے تک قابو میں کر لیا تھا۔ تاہم پیر کی صبح دونوں گروہوں کے درمیان ایک بار پھر شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں، جس کے باعث جیل میں شدید افراتفری پھیل گئی۔رپورٹس کے مطابق ہنگامہ آرائی کے دوران متعدد قیدی شدید زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر نیگومبو کے مقامی اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ تشویشناک حالت میں موجود قیدیوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے دارالحکومت کولمبو کے اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔واقعے کے بعد جیل میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور اضافی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں تاکہ مزید کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔

    سری لنکن حکام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ہنگامہ آرائی کی وجوہات اور ذمہ دار عناصر کا تعین کرنے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعے کی تفصیلات اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی سے متعلق مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔

  • غیر ملکی خواتین سے زیادتی کیس میں اہم پیش رفت، 3 ملزمان کا ڈی این اے میچ

    غیر ملکی خواتین سے زیادتی کیس میں اہم پیش رفت، 3 ملزمان کا ڈی این اے میچ

    لاہور کے علاقے ڈیفنس میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغواء اور اجتماعی زیادتی کے ہائی پروفائل کیس میں تفتیش کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

    تفتیشی ذرائع کے مطابق ایک غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی کے معاملے میں تین ملزمان کے ڈی این اے نمونے فرانزک تجزیے میں میچ کر گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی این اے میچ ہونے والے ملزمان میں نواز کا نام سرِفہرست ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم نواز پر الزام ہے کہ اس نے سب سے پہلے غیر ملکی خاتون کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا، جبکہ اس کے بعد اس کے اکسانے پر دیگر دو ملزمان، ساجد اور سکندر، بھی مبینہ طور پر اس جرم میں شامل ہوئے۔تفتیشی ذرائع کے مطابق پولیس نے مجموعی طور پر آٹھ ملزمان کے ڈی این اے نمونے فرانزک لیبارٹری بھجوائے تھے، جن میں سے تین کے نمونے متاثرہ خاتون کے شواہد سے میچ کر گئے ہیں، جبکہ دیگر ملزمان کے ڈی این اے نمونوں کا فرانزک تجزیہ تاحال جاری ہے۔

    دوسری جانب پولیس اس مقدمے کے دیگر پہلوؤں پر بھی تحقیقات کر رہی ہے۔ اس سے قبل ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے تصدیق کی تھی کہ غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغواء میں استعمال ہونے والی گاڑی کی بھی شناخت کر لی گئی ہے، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ اور دیگر شواہد کی روشنی میں مقدمے کی تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے، جبکہ تمام حقائق سامنے آنے کے بعد قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک میں مسلح حملہ، 3 افراد جاں بحق، 8 زخمی

    کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک میں مسلح حملہ، 3 افراد جاں بحق، 8 زخمی

    کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک میں مسلح افراد کے حملے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 8 دیگر زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور شہریوں میں غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔

    واقعے کے خلاف مشتعل مظاہرین نے ائیرپورٹ روڈ پر احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے مرکزی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔ مظاہرین نے حملہ آوروں کی فوری گرفتاری، متاثرہ خاندانوں کو انصاف اور علاقے میں مؤثر سکیورٹی انتظامات کا مطالبہ کیا، جس کے باعث ٹریفک کی روانی بھی شدید متاثر ہوئی۔

    دوسری جانب صوبائی وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو نے رات گئے ہنہ اوڑک کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کلی بابری میں قبائلی عمائدین اور نوجوانوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قبائلی رہنماؤں کو یقین دہانی کرائی کہ علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لیے مشترکہ سکیورٹی چیک پوسٹ قائم کی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔ادھر گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے بھی ہنہ اوڑک میں ہونے والے دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید ہونے والے مقامی قبائلی افراد کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ حملے میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔

    حکام کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا ہے۔

  • مظفر گڑھ،شہریوں کے اغوا کا الزام،5 سی سی ڈی اہلکاروں پر مقدمہ درج

    مظفر گڑھ،شہریوں کے اغوا کا الزام،5 سی سی ڈی اہلکاروں پر مقدمہ درج

    مظفر گڑھ: مظفر گڑھ میں شہریوں کو مبینہ طور پر اغوا کرکے تاوان وصول کرنے کے سنگین الزام میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے پانچ اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا، جبکہ تین اہلکاروں کو حراست میں لے کر معطل بھی کر دیا گیا ہے۔

    سی سی ڈی حکام کے مطابق واقعہ 16 جنوری کو پیش آیا، جب پانچ اہلکاروں نے تحصیل جتوئی کے بازار سے لنڈے کا کاروبار کرنے والے ایک شہری اور اس کے ساتھی کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا۔الزام ہے کہ اہلکار دونوں مغویوں کو ایک نجی عقوبت خانے میں لے گئے، جہاں انہیں غیرقانونی طور پر حبس میں رکھا گیا۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ دورانِ حراست انہیں جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں تاکہ ان سے رقم وصول کی جا سکے۔تحقیقات کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر 12 لاکھ روپے تاوان وصول کرنے کے بعد دونوں افراد کو رہا کیا۔

    سی سی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث پانچ اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ابتدائی کارروائی کے دوران تین اہلکاروں کو حراست میں لے کر معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری اور واقعے کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں۔حکام کے مطابق اگر تحقیقات میں اہلکاروں کے خلاف الزامات ثابت ہوئے تو قانون کے مطابق سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی و اغوا کیس میں نیا موڑ، حادثے کا الگ مقدمہ بھی درج

    غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی و اغوا کیس میں نیا موڑ، حادثے کا الگ مقدمہ بھی درج

    لاہور میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کے ہائی پروفائل کیس میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اغوا میں مبینہ طور پر استعمال ہونے والی گاڑی سے پیش آنے والے ٹریفک حادثے کے بعد متاثرہ گاڑی کے مالک نے بھی الگ مقدمہ درج کرا دیا ہے،

    پولیس کے مطابق حادثے کا مقدمہ گاڑی کے ڈرائیور عثمان کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے بھٹہ چوک کی جانب جا رہا تھا کہ ائیرپورٹ روڈ پر ایک تیز رفتار گاڑی نے اس کی گاڑی کو ٹکر مار دی۔ تصادم کے نتیجے میں اس کی گاڑی کو تقریباً تین لاکھ روپے مالیت کا نقصان پہنچا، جبکہ حادثے کے فوراً بعد دوسری گاڑی کا ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا۔مقدمے کے متن کے مطابق عثمان نے فوری طور پر ایمرجنسی ہیلپ لائن ون فائیو پر اطلاع دی، جس کے بعد پولیس موقع پر پہنچی۔ حادثے کے دوران گاڑی میں موجود غیر ملکی خواتین باہر نکل کر اپنی جان بچانے کے لیے قریبی دکان میں پناہ لینے میں کامیاب ہوئیں۔

    دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا کیس میں اب تک آٹھ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی اور اس کے مالک کی بھی شناخت کر لی گئی ہے، جبکہ گرفتار ملزمان کا تعلق لاہور، سرگودھا اور دیگر علاقوں سے بتایا جاتا ہے۔ڈی آئی جی کے مطابق پولیس نے جس مکان پر چھاپہ مارا، وہاں چند نوجوان کرائے پر مقیم تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ مکان میں رہنے والوں میں سے کوئی شخصیت نائب وزیراعظم کا رشتہ دار ہو سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے تصدیق کے لیے متعلقہ خاندان سے رابطہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو بھی تمام صورتحال سے آگاہ کیا گیا، جنہوں نے واضح ہدایت دی کہ کیس کو مکمل طور پر میرٹ پر چلایا جائے اور جو بھی قصوروار ثابت ہو، اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔فیصل کامران نے ان خبروں کی بھی تردید کی کہ غیر ملکی خواتین خود اغواکاروں کے چنگل سے نکل کر محفوظ مقام تک پہنچی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خواتین کے بیانات کے مطابق انہیں پنجاب پولیس نے بازیاب کرایا۔ ان کے مطابق ایک ملزم رضا ڈار خواتین کو گاڑی میں ائیرپورٹ لے جا رہا تھا کہ بھٹہ چوک کے قریب خواتین نے مزاحمت کی، جس کے دوران ملزم سے ہاتھا پائی ہوئی اور گاڑی حادثے کا شکار ہو گئی۔

    ڈی آئی جی نے مزید بتایا کہ حادثے کے بعد خواتین نے گاڑی سے چھلانگ لگا کر قریبی اسٹور میں پناہ لی، جہاں سے پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں بحفاظت ریسکیو کیا۔ انہوں نے کہا کہ دو خاتون ایس پیز نے متاثرہ غیر ملکی خواتین کو اعتماد میں لے کر طبی معائنے کے لیے آمادہ کیا، جس کے بعد قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور شواہد کی روشنی میں مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔