Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • نماز جنازہ میں  مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی، ایران میں قیاس آرائیاں

    نماز جنازہ میں مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی، ایران میں قیاس آرائیاں

    تہران: ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریبات میں لاکھوں افراد نے شرکت کی، جبکہ متعدد ممالک کے صدور، وزرائے اعظم، وزرائے خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود رہے۔ تاہم ان تقریبات میں موجودہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی نے عوام اور سیاسی مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔

    رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای گزشتہ فروری کے آخر میں ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے کے بعد سے منظرِ عام پر نہیں آئے۔ اس حملے میں ان کے والد علی خامنہ ای، اہلیہ زہرا حداد عادل اور خاندان کے دیگر افراد جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی بھی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ رہبرِ اعلیٰ کی عوامی تقریبات میں عدم شرکت کی بنیادی وجہ ان کی جان کو لاحق سیکیورٹی خطرات ہیں۔ تاہم علی خامنہ ای کے دیگر صاحبزادوں، اعلیٰ حکومتی شخصیات اور غیر ملکی وفود کی جنازے میں موجودگی کے باعث عوامی حلقوں میں یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور سیکیورٹی کی صورتحال سرکاری مؤقف سے زیادہ سنگین تو نہیں۔

    الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق جنازے میں شریک بعض شہریوں نے رہبرِ اعلیٰ کی عدم موجودگی پر مختلف آراء کا اظہار کیا۔ 26 سالہ معصومہ کا کہنا تھا کہ ایران میں رہبرِ اعلیٰ کی عوامی موجودگی ہمیشہ ریاستی استحکام اور سیکیورٹی کی علامت سمجھی جاتی رہی ہے، اس لیے ان کی غیر موجودگی عوامی تشویش کا باعث بن رہی ہے۔دوسری جانب 35 سالہ فائزہ نے کہا کہ موجودہ سیکیورٹی حالات کے پیشِ نظر مجتبیٰ خامنہ ای کا عوامی سطح پر سامنے نہ آنا ایک احتیاطی اقدام ہو سکتا ہے، کیونکہ سابق رہبر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد نئے رہبر کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

    ادھر اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے جنازے کے جلوس کے موقع پر بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ علی خامنہ ای کو اسرائیل نے اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ وہ اسرائیل مخالف کارروائیوں کی قیادت کر رہے تھے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مستقبل میں کوئی ایرانی رہنما اسرائیل کے خلاف اسی نوعیت کے اقدامات کرے گا تو اسے بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل غیر حاضری کے باعث ان کی صحت سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی ہیں۔ بعض غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی حملے میں انہیں چہرے اور ٹانگوں پر شدید زخم آئے، تاہم ایرانی حکام نے ان اطلاعات کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق ایران میں رہبرِ اعلیٰ کی روزانہ عوامی موجودگی روایت نہیں رہی، تاہم قومی بحرانوں، اہم مذہبی مواقع اور ریاستی تقریبات میں ان کی شرکت کو ملکی استحکام اور اعتماد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ غیر معمولی سیکیورٹی حالات میں مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی قابلِ فہم ہو سکتی ہے، تاہم اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی تو اندرونِ ملک ان کی صحت اور سیکیورٹی سے متعلق قیاس آرائیوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • 9 مئی مقدمہ، میاں محمود الرشید نے 10 سال قید کی سزا لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دی

    9 مئی مقدمہ، میاں محمود الرشید نے 10 سال قید کی سزا لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دی

    لاہور: 9 مئی مقدمات میں 10 سال قید کی سزا پانے والے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما میاں محمود الرشید نے اپنی سزا لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دی۔

    میاں محمود الرشید نے اپنے وکیل سکندر ذوالقرنین کی وساطت سے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مغلپورہ میں پولیس کی گاڑیاں نذرِ آتش کرنے کے مقدمے میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزا حقائق اور شواہد کے برعکس ہے۔اپیل میں کہا گیا ہے کہ مقدمے کے ریکارڈ پر درخواست گزار کے خلاف کوئی قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں، اس لیے 10 سال قید کی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے۔

    یاد رہے کہ 20 جون کو ٹرائل کورٹ نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق مغلپورہ میں پولیس گاڑیاں جلانے کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے میاں محمود الرشید کو 10 سال قید کی سزا سنائی تھی، جبکہ اسی مقدمے میں پی ٹی آئی رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، سرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری کو بھی 10، 10 سال قید کی سزا دی گئی تھی۔۔

  • کارگل محاذ  کے ہیرو حوالدار لالک جان شہید (نشان حیدر) کا 27 واں یوم شہادت

    کارگل محاذ کے ہیرو حوالدار لالک جان شہید (نشان حیدر) کا 27 واں یوم شہادت

    کارگل جنگ کے دوران حوالدار لالک جان نے وطن سے وَفا کی لازوال داستان رقم کی، جس کی بہادری کا اعتراف دُشمن نے بھی کیا

    دُشمن پر دھاک بٹھانے اور اُس کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے والے بہادر سپوت حوالدار لالک جان کا تعلق پاک فوج کی ناردرن لائیٹ انفنٹری رجمنٹ سے تھا ،مئی 1999ء میں حوالدار لالک جان نے اگلے مورچوں پر لڑائی لڑنے کے لئے اپنی خدمات پیش کیں۔مٹھی بھر ساتھیوں کے ہمراہ حوالدار لالک جان نے ناصرف اپنی پوسٹ کا کامیابی سے دفاع کیا بلکہ دشمن کے متعدد حملوں کو ناکام بنا کر اُسے بھاری جانی نقصان بھی پہنچایا، 12جون 1999ء کولالک جان نے اچانک ایسا زبردست حملہ کیا کہ دُشمن اپنی لاشیں چھوڑ کر پسپا ہونے پر مجبور ہو گیا،7 جولائی کو دشمن نے حوالدار لالک جان کی پوسٹ پر توپ خانے کا بھر پور فائرکر کے رات کی تاریکی میں تینوں اطراف سے حملہ کردیا،اس حملے کے دوران حوالدار لالک جان شدید زخمی ہوئے مگر کمپنی کمانڈر کے اصرارکے باوجود اپنی پوسٹ پر زخمی حالت میں بھی ڈٹے رہے اور دشمن کا مقابلہ جاری رکھا،شدید زخمی ہونے کے باوجود بھی حوالدار لالک جان نے بھاری فائر کے دوران دُشمن کے بنکر کو ایمونیشن سمیت تباہ کردیا، جس سے دُشمن کے درجنوں فوجی ہلاک ہو گئے،حوالدار لالک جان نے دشمن کے اس حملے کو بھی ناکام بنادیا لیکن شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنی پوسٹ پر جامِ شہادت نوش کیا

    شہید حوالدار لالک جان (نشان حیدر) کے بیٹے طارق لالک جان نے کہا کہ؛ہم وہ قوم ہیں جس کیلئے ملک کے دفاع کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنا قابل فخربات ہے ،ملک کیلئے شہادت ہی ہمارا ایمان ہے ، سرحدوں کی حفاظت کرنے والے بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتا ہوں ، جب تک پاک فوج کے بہادر جوان سرحدوں پر موجود ہیں اس ملک پر کوئی آنچ بھی نہیں آ سکتی ،

    شہید حوالدار لالک جان (نشان حیدر) کے بھائی گسمبر خان نے کہا کہ؛ شہید حوالدار لالک جان کو سب سے بڑےاعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا، یقیناً پاک فوج شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرتی ،شہدا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یہ اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے

    قادر پوسٹ کے زبردست دِفاع کا اعتراف دُشمن نے ان الفاظ میں کیا؛کسی بھی سپاہی نے اپنی پوسٹ نہ چھوڑی، یہ دِفاعی جنگ بہادری کی اعلیٰ مثال ہے کہ جو آخری سپاہی اور آخری گولی تک لڑی گئی،

    قادر پوسٹ آج بھی نازاں ہے کہ اُسے حوالدار لالک جان شہید جیسا نِڈر محافظ مِلا،حوالدار لالک جان شہید کی بے باکی، حوصلہ مندی اور جذبہ شہادت پر انھیں پاکستان کا اعلیٰ ترین اعزاز نشان حیدر عطا کیا گیا

    کارگل جنگ کے عظیم ہیرو، نشانِ حیدر حاصل کرنے والے حوالدار لالک جان شہید کا آج یومِ شہادت انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے۔​اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سمیت پاکستان کی تمام مسلح افواج نے مادرِ وطن کے دفاع میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے اس عظیم سپوت کو دل کی گہرائیوں سے سلامی اور خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔​ آج ہی کے دن 1999ء میں کارگل کے محاذ پر حوالدار لالک جان شہید نے دشمن کے دانت کھٹے کیے۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی پوسٹ چھوڑنے اور وہاں سے ہٹنے سے صاف انکار کر دیا، اور آخری گولی اور آخری سانس تک اکیلے ہی دشمن کے پے در پے حملوں کو ناکام بناتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔​فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور عسکری قیادت نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہداء کی قربانیاں ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں، اور پاکستانی قوم اپنے ان غازیوں اور شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سلامتی کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔

  • گوجر خان،مون سون سے قبل نالوں کی ابتر صورتحال، بڑے سانحے  کا خطرہ

    گوجر خان،مون سون سے قبل نالوں کی ابتر صورتحال، بڑے سانحے کا خطرہ

    مون سون سے قبل نالوں کی ابتر صورتحال بڑے سانحے اور آبادی کے شدید نقصان کا خطرہ
    96 لاکھ کا ٹھیکہ صرف فوٹو سیشن نکلا سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر نے بلدیہ اور ٹھیکیدار کے مبینہ گٹھ جوڑ کا بھانڈا پھوڑ دیا
    شہریوں کا وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر بلدیاتی فنڈز کا فوری آڈٹ اور ہائی پروفائل انکوائری عمل میں لائی جائے

    گوجرخان (قمرشہزاد) بلدیہ گوجرخان کی نااہلی، غفلت اور کرپشن کی مبینہ داستانیں ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔ مون سون کا سیزن سر پر ہے، مگر شہر کے مین نالے کی تباہ کن حالت زار کسی بھی وقت بڑے جانی و مالی سانحے کا موجب اور مقامی آبادی کے لیے ہولناک نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ سابق سی او بلدیہ کے دور میں چند ماہ قبل اس مین نالے کی صفائی کے نام پر 96 لاکھ روپے کا جو بھاری ٹھیکہ دیا گیا تھا، وہ زمینی حقائق کے بجائے صرف مبینہ کاغذی کارروائیوں اور فوٹو سیشن تک محدود نکلا ہے۔ سوشل میڈیا پر شہریوں کی جانب سے جاری کردہ نالے کی تازہ ترین ہولناک تصاویر نے صفائی کے تمام سرکاری دعووں کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ گزشتہ دنوں ہونے والی بارش نے بلدیہ کے بلند و بانگ دعووں کا جنازہ نکال دیا تھا، جب سٹی نالوں کے لیے مختص 60 لاکھ روپے کے فنڈز کے باوجود سروس روڈز، تجارتی مراکز اور گلی محلوں کے نالے ابل پڑے تھے جس سے بازار گلیاں محلے ندی کے مناظر پیش کر رہے تھے۔ وائرل تصاویر سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مین نالا کچرے اور گاد سے اٹا پڑا ہے، جو بلدیہ حکام اور ٹھیکیدار کی مبینہ ملی بھگت اور عوامی ٹیکس کے پیسوں پر ڈاکے کی واضح تصویر ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مون سون کی ہولناک بارشوں میں یہ نالا پورے شہر کو ڈبو سکتا ہے اور کسی بڑے حادثے کی صورت میں تمام تر ذمہ داری بلدیہ انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ شہریوں اور تاجر برادری نے اس شدید ترین سنگین صورتحال پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور اینٹی کرپشن حکام سے فوری ہائی پروفائل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ عوام کا دوٹوک مؤقف ہے کہ بلدیہ گوجرخان کے تمام جاری فنڈز اور ٹھیکوں کا فوری فارنزک آڈٹ کروایا جائے، سرکاری خزانے کو مبینہ طور پر کھو کھاتے میں ڈالنے والے لٹیروں کا کڑا احتساب کیا جائے اور عوام کے پیسے کا ضیاع کسی صورت برداشت نہ کیا جائے۔

  • گوجرخان بجلی گیس اور پانی نایاب ہسپتال علاج کے نام پر ذلت گاہ عوامی نمائندے تماشائی

    گوجرخان بجلی گیس اور پانی نایاب ہسپتال علاج کے نام پر ذلت گاہ عوامی نمائندے تماشائی

    بجلی کے بھاری بھرکم بلوں کے باوجود رات بھر قہر ڈھاتی گرمی میں فورسڈ لوڈشیڈنگ سے معصوم بچوں بزرگوں اور مریضوں کا جینا محال
    خود ساختہ مہنگائی اور ایل پی جی مافیا کی لوٹ مار عروج پر عوام دورِ جدید میں بھی پتھر کے زمانے کی زندگی گزارنے پر مجبور
    گوجرخان (قمرشہزاد) جدید دور کا پسماندہ ترین خطہ، گوجرخان مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے جہاں بنیادی انسانی ضرورتیں بھی خواب بن کر رہ گئی ہیں۔ واپڈا کی جانب سے رات کے وقت کی جانے والی بدترین اور غیر اعلانیہ فورسڈ لوڈشیڈنگ نے شدید حبس، گھٹن اور قہر ڈھاتی گرمی میں شہریوں سے راتوں کا سکون چھین لیا ہے۔ معصوم بچے، بوڑھے اور تڑپتے ہوئے مریض رات بھر بستروں پر تڑپنے پر مجبور ہیں، جبکہ دوسری جانب بھاری بھرکم بجلی کے بل غریب عوام کی کھال اتار رہے ہیں۔ بجلی غائب تو گیس بھی ناپید ہو چکی ہے، اور رہی سہی کسر پانی کے شدید بحران نے پوری کر دی ہے جہاں سرکاری پینے کے صاف پانی کی بوند بوند کو عوام ترس چکے ہیں۔ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال گوجرخان شفاخانے کے بجائے ذلت اور رسوائی کا گڑھ بن چکا ہے، جہاں علاج معالجے کی بنیادی سہولیات تک دستیاب نہیں اور مریض سسکتے ہوئے دم توڑنے پر مجبور ہیں۔ جبکہ دوسری جانب ایل پی جی مافیا نے اوگرا کے سرکاری نوٹیفیکیشن کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے اور غریب شہری مہنگے داموں سلنڈر خریدنے پر مجبور ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات میں نمایاں کمی کے باوجود اشیائے خوردونوش، پھلوں اور سبزیوں، بیف، مٹن، چکن کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں، عوامی جیبوں پر ڈاکا ڈالنے کے لیے لینڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں مبینہ کرپشن کا ناسور عروج پر ہے، جہاں رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ ان تمام روح فرسا مسائل، لٹتے ہوئے عوام اور سسکتی ہوئی زندگیوں کے باوجود مقامی سیاسی رہنماؤں کی مجرمانہ چشم پوشی اور عدم دلچسپی حکومتی ایوانوں پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ عوامی مینڈیٹ لے کر اسمبلیوں کی زینت بننے والے نمائندے آج اسمبلی فلورز پر گوجرخان کی آواز اٹھانے سے بالکل قاصر ہیں اور اہلیانِ گوجرخان اس بدترین دور میں بے یار و مددگار کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔ حکومتِ وقت اور اعلیٰ حکام فوری طور پر اس ظلم کا نوٹس لیں، ورنہ عوامی صبر کا پیمانہ لبریز ہونے پر لگنے والی آگ ایوانوں تک پہنچ جائے گی۔

  • گروپ کیپٹن قتل کیس،ملزم کو عدالت نے  شناخت پریڈ کے لیے  جیل بھجوا دیا

    گروپ کیپٹن قتل کیس،ملزم کو عدالت نے شناخت پریڈ کے لیے جیل بھجوا دیا

    انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد میں گروپ کیپٹن عاصم طارق قتل کیس کے ملزم سعد عباسی کو پیش کر دیا گیا

    تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزم سعدعباسی کو شناخت پریڈ پر بھیجنا ہے ،پراسیکیوٹر رانا نوید نے کہا کہ کیس میں دو چشم دید گواہ بھی ہیں، جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے ملزم سے استفسار کیا کہ کیوں کیا ہے یہ کام؟ جس پر ملزم سعد عباسی نے کہا کہ میں لڑکی کے ساتھ تھا، بندہ آکر ہمیں ڈسٹرب کررہاتھا،جج ابوالحسنات نے کہا کہ کیا اچھا کام کررہے تھے، جو ڈسٹرب کیا، عدالت نےملزم سعد عباسی کو شناخت پریڈ کے لیے جیل منتقل کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے ملزم کو 14 روزہ ریمانڈ پر شناخت پریڈ کے لیے جیل بھیج دیا،شناخت پریڈ کا عمل مکمل ہونے پر رپورٹ عدالت پیش کرنے کا حکم دے دیا گیاعدالت نے 20 جولائی کو ملزم کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم بھی دیا،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 20 جولائی تک ملتوی کردی

    ایف آئی آر میں درج کردہ گواہ ملزم کی جیل میں شناخت کریں گے، ملزم کو آج چہرہ ڈھانپ کر عدالت میں پیش کیا گیا

  • وزیراعظم کی زیر صدارت   نوجوانوں کو روزگار مہیا کرنے کے حوالے سے جائزہ اجلاس

    وزیراعظم کی زیر صدارت نوجوانوں کو روزگار مہیا کرنے کے حوالے سے جائزہ اجلاس

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت نوجوانوں کو روزگار مہیا کرنے کے حوالے سے جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.

    اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی سفارتخانے پاکستانی افرادی قوت کیلئے روزگار کے مواقع کی تلاش میں تیزی لے کر آئیں. وزیرِ اعظم نے ہدایات کیں کہ پروٹیکٹریٹ آف امیگریشن کے تمام تر نظام کو ڈیجیٹائیز کیا جائے اور افرادی قوت بالخصوص نوجوانوں کو وزارت برائے سمندر پار مقیم پاکستانی، نیووٹیک اور یوتھ پروگرام ہنر اور مختلف زبانوں کے کورسس بمعہ سرٹیفیکیشنز یقینی بنائیں.وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان کی افرادی قوت با صلاحیت ہے، بین الاقوامی معیار کی تعلیم و عالمی سطح پر رسائی کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھا رہے ہیں. پاکستانی سفارتخانے بیرون ملک میسر روزگار کے مواقع سے آگاہی اور ڈیٹا کی فراہمی کیلئے اقدامات تیز کریں. پاکستانی سرٹیفیکیشنز کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کیلئے تمام ادارے مختلف ممالک سے روابط مضبوط کرے. جن ممالک میں پاکستانی ہنرمند افراد کیلئے روزگار کے مواقع میسر ہیں، انکی زبان کی تعلیم بمعہ سرٹیفیکیشنز یقینی بنائی جائے. وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ نیووٹیک (NAVTTC) کے تحت تکنیکی و فنی تربیت کے اداروں کی کارکردگی اور کنٹری آف ڈیسٹینیشن سینٹرز کے قیام پر بھی رپورٹ پیش کی جائے.

    اجلاس کو افرادی قوت بالخصوص نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل یوتھ ہب میں 8 لاکھ نوجوان رجسٹر ہو چکے ہیں. بیرون ملک تعمیرات، زراعت، سیاحت، صحت، ٹرانسپورٹ، بائیوٹیکنالوجی، مینیوفیکچرنگ، شپ بلنڈنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، نرسنگ، دواسازی اور اشیاء خورونوش کی تیاری کے شعبوں میں روزگار کے مواقع موجود ہیں. ان شعبوں میں پاکستانیوں کو روزگار فراہم کرنے کیلئے تربیتی پروگرام جاری ہیں. پاکستانی سفارتخانے مختلف ممالک میں میسر روزگار کے مواقع اور ان کیلئے درکار قابلیت ڈیجیٹل یوتھ ہب پورٹل پر فراہم کریں گے.اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء ڈاکٹر مصدق ملک، عطاء اللہ تارڑ، چوہدری سالک حسین، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، چیئرمین نیوٹیک راجا قمر الاسلام، چیئرمین وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

  • سیاست کا اصل مقصد عوام کی خدمت اور مسائل کا حل ہونا چاہیے۔بلاول

    سیاست کا اصل مقصد عوام کی خدمت اور مسائل کا حل ہونا چاہیے۔بلاول

    گلگت: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاست کو جھگڑے اور دشمنی کا دوسرا نام بنا دیا گیا ہے، جبکہ سیاست کا اصل مقصد عوام کی خدمت اور مسائل کا حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی حقوق، حقِ ملکیت اور بہتر روزگار کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

    گلگت بلتستان کے نو منتخب وزیر اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام آج بھی سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو محبت اور احترام سے یاد کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے اس خطے کو ڈوگرہ راج سے آزادی دلائی۔ انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ انہیں مکمل آئینی حقوق دیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ وہ وہ دن دیکھنا چاہتے ہیں جب گلگت بلتستان کے منتخب نمائندے قومی اسمبلی میں ان کے ساتھ بیٹھ کر ملک کی قانون سازی میں اپنا کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے حقِ ملکیت کا جو وعدہ کیا تھا، اسے ہر صورت پورا کیا جائے گا، جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت زرعی منصوبوں اور فارمنگ کو فروغ دے کر مقامی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کا مینڈیٹ تسلیم کیا، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے گلگت بلتستان کے نمائندوں نے بھی حکومت سازی میں تعاون کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت اور اپوزیشن کی نشستیں الگ ہیں، لیکن گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے تمام سیاسی جماعتیں مل کر کام کریں گی اور کسی بھی جماعت کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومت کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایسا معاشی ماحول پیدا کیا جائے جس سے مقامی نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ملک کا سب سے زیادہ باصلاحیت اور میرٹ پر یقین رکھنے والا نوجوان موجود ہے، جس کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ سردیوں کی آمد سے قبل گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے تاکہ نچلی سطح پر عوامی نمائندگی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی حکومت صرف جیتنے والوں کی نہیں بلکہ ہارنے والوں کی بھی حکومت ہوگی، اور تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی جائے گی۔

    اپنے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے ملکی سلامتی پر بھی بات کی اور کہا کہ گلگت بلتستان کی سرحدوں پر وطن کا دفاع کرنے والے بہادر سپاہیوں کو پوری قوم سلام پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عسکری سطح پر بھارت کو شکست دی، جسے بھارت آج تک ہضم نہیں کر سکا۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، دریائے سندھ کے پانی پر سودا نہیں ہوگا اور اگر ضرورت پڑی تو ہر سطح پر بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ ان کا سیاسی منشور حقِ حاکمیت، حقِ ملکیت اور روزگار پر مبنی ہے، اور یہی منشور آئندہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی عوام کے سامنے رکھا جائے گا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کشمیر کی نئی نسل اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا چاہتی ہے، تاہم بعض عناصر انہیں غلط سمت میں لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کا مقابلہ سیاسی شعور اور عوامی خدمت سے کیا جائے گا۔

  • حماس نے غزہ میں اپنی حکومت ختم کرنے کا اعلان کردیا

    حماس نے غزہ میں اپنی حکومت ختم کرنے کا اعلان کردیا

    حماس نے غزہ میں اپنی حکومت ختم کرنے کا اعلان کردیا، انتظام فلسطینی ٹیکنو کریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے پر رضا مندی ظاہر کردی۔

    حماس نے غزہ میں 20 سال بعد گورننگ باڈی کو تحلیل کردیا، حماس نے غزہ کا انتظام فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کا اعلان کردیا۔فلسطینی ٹیکنو کریٹ کمیٹی کا انتظام سنبھالنے تک حماس نگران کے طور پر کام کرے گی، ٹیکنوکریٹ کمیٹی امریکی صدر کے بورڈ آف پیس کی حمایت پر بنائی گئی تھی۔ترجمان حماس کے مطابق جنگ بندی کے بعد غزہ کے انتظامی ڈھانچے کا حصہ بننے کی خواہش نہیں، حماس نے اپنا کام مکمل کر دیا، ثالث معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنائیں، گیند اب ثالثی کرنیوالے ممالک کے کورٹ میں ہے۔

    غزہ کی ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ محمد الفرا نے باضابطہ طور پر استعفیٰ جمع کرادیا ہے، غزہ کے انتظام کے لیے قومی کمیٹی کی طرف منتقلی ممکن ہو سکے،حماس عہدیدار کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اب شہری حکمرانی کے لیے ایک ٹیکنوکریٹ کمیٹی کی راہ ہموار ہو گئی ہے، اب معاملہ ثالثوں کے ہاتھ میں ہے،حماس ترجمان کے مطابق حماس نے اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے، معاہدے کے ضامن ممالک اور امریکی انتظامیہ کی ذمہ داری ہےکہ وہ اس معاہدے پر عمل درآمد کرائیں، ثالث قومی کمیٹی کو علاقے میں داخل ہونے کی اجازت دلوانے کے لیے فریقین پر زور ڈالیں۔

  • امریکا: نیویارک کے مشرقی دریا میں چھوٹا طیارہ گر کر تباہ

    امریکا: نیویارک کے مشرقی دریا میں چھوٹا طیارہ گر کر تباہ

    نیویارک: امریکا کے شہر نیویارک میں ایک چھوٹا طیارہ (سی پلین) مشرقی دریا میں گر کر تباہ ہوگیا، تاہم بروقت امدادی کارروائیوں کے باعث طیارے میں سوار تمام 8 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

    برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق حادثہ نیویارک کے مشرقی دریا (ایسٹ ریور) میں پیش آیا، جہاں دوپہر کے وقت سی پلین کو ہنگامی لینڈنگ کے دوران حادثہ پیش آیا۔ریسکیو حکام نے بتایا کہ طیارہ پانی میں سیدھا ہی موجود رہا، جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو مسافروں تک فوری رسائی حاصل ہوئی۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور تمام 8 افراد کو بحفاظت باہر نکال لیا۔حکام کے مطابق حادثے میں دو افراد معمولی زخمی ہوئے، تاہم انہوں نے موقع پر طبی امداد لینے سے انکار کر دیا، جبکہ دیگر تمام افراد محفوظ رہے۔

    دوسری جانب فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق پائلٹ نے ہارڈ لینڈنگ (سخت لینڈنگ) کی، جس کے نتیجے میں طیارے کا ایک بازو ٹوٹ گیا اور وہ دریا میں جا گرا۔ایف اے اے نے بتایا کہ حادثے کی اصل وجوہات کا تعین کرنے کے لیے باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے طیارے کے تکنیکی اور آپریشنل پہلوؤں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ بروقت ریسکیو کارروائیوں اور طیارے کے پانی میں متوازن حالت میں رہنے کی وجہ سے ایک بڑا سانحہ ٹل گیا۔