اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری آج سے 9 جولائی تک کرغزستان کے سرکاری دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق صدر کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی موجود ہوگا، جو مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے اہم ملاقاتوں میں شریک ہوگا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ صدر آصف علی زرداری یہ دورہ کرغزستان کے صدر سدیر جباروف کی دعوت پر کر رہے ہیں۔ یہ گزشتہ 21 برس کے دوران کسی بھی پاکستانی صدر کا کرغزستان کا پہلا سرکاری دورہ ہے، جسے دونوں برادر ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے روابط کے تسلسل میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔دورے کے دوران صدر آصف علی زرداری اور کرغز صدر کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوگی، جس کے بعد دونوں ممالک کے وفود کی سطح پر بھی مذاکرات کیے جائیں گے۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان اور کرغزستان کے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں، علاقائی و عالمی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، معدنیات، زراعت، ٹیکسٹائل، حلال انڈسٹری، صحت اور ادویات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع کا جائزہ لیں گے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل معیشت، تعلیم، سیاحت اور عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بھی مختلف تجاویز پر غور کیا جائے گا۔
ترجمان کے مطابق صدر آصف علی زرداری اپنے دورۂ کرغزستان کے دوران کرغز پارلیمنٹ کے اسپیکر سے بھی ملاقات کریں گے، جہاں پارلیمانی روابط اور باہمی تعاون کے فروغ پر بات چیت ہوگی۔دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور کرغزستان کے تعلقات مشترکہ تاریخ، مذہبی و ثقافتی ہم آہنگی، باہمی احترام اور خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ وژن پر مبنی ہیں۔ توقع ہے کہ صدر زرداری کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مزید وسعت دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
