پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے اے این پی سوات کے سینئر نائب صدر ممتاز علی خان کے گھر پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے کی فوری، شفاف اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ایمل ولی خان نے اپنے بیان میں کہا کہ ممتاز علی خان پر یہ مسلسل تیسرا حملہ ہے، جو ریاستی رٹ اور حکومتی کارکردگی پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ دن دیہاڑے اس نوعیت کا حملہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی موجودہ صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں قیامِ امن کے دعویداروں کو عوام کے سامنے جواب دینا ہوگا کہ حملہ آور کہاں سے آتے ہیں، کھلے عام کارروائیاں کیسے کرتے ہیں اور پھر کس کی سرپرستی میں باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شرپسند عناصر کا ایک گھر پر گھنٹوں تک فائرنگ کرنا حکومت اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔
اے این پی کے مرکزی صدر نے کہا کہ حملے کے نتیجے میں ممتاز علی خان کے گھر کے تین افراد اور ریسکیو اہلکاروں کا زخمی ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات اور دعاؤں کا اظہار کیا۔ایمل ولی خان نے کہا کہ ممتاز علی خان کی کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں، بلکہ انہوں نے ہمیشہ عوامی نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے امن، جمہوریت اور پختون قوم کے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ممتاز علی خان کے خاندان نے ناقابلِ فراموش قربانیاں دی ہیں، تاہم افسوس ہے کہ آج ایک بار پھر انہیں مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ممتاز علی خان اور ان کے خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور ایسے بزدلانہ حملوں سے نہ ماضی میں مرعوب ہوئی ہے اور نہ آئندہ اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے ہٹے گی۔ایمل ولی خان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری اور جامع تحقیقات کرائی جائیں، حملے میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، جبکہ ممتاز علی خان اور ان کے خاندان کو مؤثر سیکیورٹی فراہم کی جائے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی امن، جمہوریت، قانون کی بالادستی اور پختون قوم کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد پہلے سے زیادہ عزم اور استقامت کے ساتھ جاری رکھے گی۔
