Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • فرانس کا معروف”برہنہ” ریزورٹ، سیاحوں کے بدلتے رجحانات پر تشویش

    فرانس کا معروف”برہنہ” ریزورٹ، سیاحوں کے بدلتے رجحانات پر تشویش

    فرانس کے جنوب میں واقع دنیا کے مشہور نیوڈسٹ (برہنہ طرزِ زندگی کے حامل) سیاحتی مقام Cap d’Agde ایک نئے تنازع کا شکار ہو گیا ہے، جہاں طویل عرصے سے آنے والے سیاحوں کا کہنا ہے کہ ریزورٹ کا ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔

    یہ ریزورٹ، جو طویل عرصے سے فطری طرزِ زندگی (نیچر ازم) کے شوقین افراد کے لیے ایک پرامن مقام سمجھا جاتا تھا، اب مبینہ طور پر ایک مختلف نوعیت کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، حالیہ برسوں میں یہاں آنے والے “لائف اسٹائل وزیٹرز” کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جن کا رویہ روایتی نیوڈسٹ کلچر سے مختلف بتایا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق یہ مقام، جو کبھی قدرتی اور آزاد طرزِ زندگی کے لیے جانا جاتا تھا، اب ایسے بین الاقوامی سیاحوں سے بھر گیا ہے جو مختلف “لائف اسٹائل” سرگرمیوں کے لیے یہاں آتے ہیں،ساحل سمندر پر جنسی حرکات میں ملوث ہونے کے لیے بدنام ہیں۔ پرانے وزیٹرز کا دعویٰ ہے کہ اس تبدیلی نے ریزورٹ کی اصل شناخت کو متاثر کیا ہے اور یہاں آنے والے روایتی نیوڈسٹ افراد اور نئے آنے والے سیاحوں کے درمیان واضح فرق پیدا ہو گیا ہے۔

    ایک برطانوی خاتون سیاح، باربرا، جو گزشتہ 30 برسوں سے اپنے شوہر کے ساتھ اس مقام کا رخ کرتی رہی ہیں، نے میڈیا کو بتایا کہ“جب ہم نے یہاں آنا شروع کیا تھا تو ماحول بالکل مختلف تھا، لیکن اب یہاں آنے والے لوگوں کا رویہ اور مقاصد کافی حد تک بدل چکے ہیں۔”انہوں نے بتایا کہ “انٹرنیشنل سوئنگرز” کی آمد کے بعد ریزورٹ میں واضح تقسیم دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں روایتی نیوڈسٹ اور نئے طرز کے سیاح الگ الگ سرگرمیوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً 60 فیصد افراد نیوڈسٹ جبکہ 40 فیصد نئے لائف اسٹائل گروپس سے تعلق رکھتے ہیں۔مقامی رہائشیوں اور پرانے وزیٹرز کا کہنا ہے کہ ساحل کے کچھ حصوں میں غیر مناسب سرگرمیوں کی شکایات سامنے آئی ہیں، جس سے علاقے کی اصل شناخت متاثر ہو رہی ہے۔ ایک رپورٹر نے اپنے مشاہدے میں بتایا کہ بعض مقامات پر عوامی رویے روایتی حدود سے تجاوز کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس سے دیگر سیاحوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    رپورٹر ولیم جے فرنی نے اس جنس کو بیان کیا جس کا مشاہدہ مقامی ساحل پر باقاعدگی سے کیا جا سکتا ہے "لمبے، سرمئی بالوں والی ایک عورت، اس کے اوپر ایک نرم مزاج آدمی ہے۔”دونوں کو ایک دوسرے کے اتنے قریب دیکھ کر برہنہ مردوں کے درمیان ایک فوری، تقریباً جنونی ردعمل پیدا ہوا جو اس طرح کی کارروائی کے لیے مسلسل تلاش میں تھے۔”

    Cap d’Agde کو “نیکڈ سٹی” بھی کہا جاتا ہے، جہاں لوگ عام طور پر بغیر کپڑوں کے گھومتے پھرتے اور مختلف سہولیات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ تاہم، حالیہ برسوں میں بعض سیاحوں کے غیر مناسب رویوں کے باعث شکایات میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر ساحل کے علاقوں میں۔حکام کی جانب سے “غیر مہذب نمائش” کے خلاف انتباہی سائن بورڈز اور جرمانوں کے باوجود، مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا خاطر خواہ اثر نہیں ہو رہا۔

    باربرا کے مطابق اب وہ صرف گرمیوں کے موسم میں ہی یہاں آتی ہیں اور اس دوران بھی ساحل پر جانے سے گریز کرتی ہیں۔“گرمیوں میں سیکیورٹی، لائف گارڈز اور پولیس ہر وقت موجود رہتی ہے، لیکن اس کے باوجود صورتحال مکمل طور پر قابو میں نہیں آتی،”

    سیاحتی عروج کے موسم میں Cap d’Agde میں روزانہ تقریباً 40 ہزار افراد آتے ہیں، جس کی وجہ سے انتظامیہ پر دباؤ بھی بڑھ گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو اس مشہور ریزورٹ کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے، اور انتظامیہ کو سیاحتی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے تاکہ مقام کی اصل شناخت کو برقرار رکھا جا سکے۔

  • جیفری ایپسٹین کے خلاف گواہی دینے والی لاپتہ ماڈل بازیاب

    جیفری ایپسٹین کے خلاف گواہی دینے والی لاپتہ ماڈل بازیاب

    نیویارک: اطالوی نژاد سابق ماڈل ایلیسبیٹا فیریٹو ، جو بدنام زمانہ مالیاتی شخصیت جیفری ایپسٹین کے خلاف جنسی استحصال کے الزامات لگانے والی ابتدائی خواتین میں شامل رہی ہیں، کو لاپتہ ہونے کے بعد بحفاظت تلاش کر لیا گیا ہے۔

    اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق 50 سالہ فیریٹو نے 22 اپریل کو اچانک اپنے اہل خانہ سے رابطہ منقطع کر دیا تھا، جس کے بعد ان کے خاندان میں شدید تشویش پھیل گئی۔ وہ اس سے قبل روزانہ اپنی والدہ اور دیگر اہل خانہ سے رابطے میں تھیں، تاہم اچانک فون کالز کا جواب دینا بند کر دیا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی غیر فعال کر دیے۔فیریٹو کے اہل خانہ نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انہیں لاپتہ قرار دے کر رپورٹ درج کروائی۔ اس کے بعد اطالوی وزارت خارجہ نے امریکی حکام کے ساتھ مل کر تلاش کا عمل شروع کیا۔ بالآخر تصدیق کی گئی کہ وہ امریکا میں محفوظ ہیں۔اطالوی نیم فوجی پولیس فورس نے بھی منگل کے روز ان کی بحفاظت بازیابی کی تصدیق کی، جس کے بعد اہل خانہ نے سکھ کا سانس لیا۔

    فیریٹو نے 2019 میں ایک انٹرویو کے دوران اپنے ساتھ پیش آنے والے ہولناک واقعے کی تفصیلات بیان کی تھیں۔ ان کے مطابق 2004 میں ایک ایجنٹ نے انہیں نیویارک میں ایپسٹین کے گھر بھیجا، یہ کہہ کر کہ اس ملاقات سے انہیں معروف برانڈ وکٹوریہ سیکرٹ کے طور پرماڈلنگ کا موقع مل سکتا ہے۔تاہم ملاقات کے دوران صورتحال یکسر بدل گئی۔ فیریٹو کے مطابق ایپسٹین نے اچانک نامناسب رویہ اختیار کیا اور ان کے سامنے کپڑے اتارنے لگا۔فیریٹو نے کہا، "میں نے سوچا کہ وہ مساج کرنے کی تیاری کر رہا ہے، اور کوئی کمرے میں آکر اسے مساج دینے والا ہے۔”ایپسٹین نے پھر اسے قریب آنے کو کہا اور اسے ایک جنسی کھلونا دیا۔فیریٹو نے بتایا “میں خوف سے ساکت ہو گئی، پھر میں نے وہ چیز اٹھا کر اس کے سر کی طرف پھینکی اور وہاں سے بھاگ نکلی۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ فرار ہونے کی کوشش کے دوران ایک خاتون نے انہیں روکنے کی کوشش کی، جس کی شکل مشہور برطانوی سماجی شخصیت گھسلین میکسویل سے ملتی جلتی تھی۔ اس خاتون نے انہیں دھمکی آمیز انداز میں کہا کہ وہ اس جگہ سے یوں نہیں جا سکتیں کیونکہ “یہ شخص بہت اہم ہے اور سابق امریکی صدر کا دوست ہے۔”

    واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین پر کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور اسمگلنگ کے سنگین الزامات ثابت ہو چکے تھے، جس کے بعد وہ عالمی سطح پر بدنام ہو گیا تھا۔ اس کیس میں کئی بااثر شخصیات کے نام بھی سامنے آئے تھے۔اگرچہ فیریٹو کے اچانک لاپتہ ہونے کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہو سکیں، تاہم ان کی بحفاظت واپسی ایک اہم پیش رفت ہے۔ حکام کی جانب سے مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ ماضی کے انکشافات نے ایک بار پھر ایپسٹین اسکینڈل کو خبروں میں لا کھڑا کیا ہے۔

  • سرجری کے بعد میامی بیچ پر لال بکنی پہنےاسٹاسی کرانیکولاوپہنچ گئیں

    سرجری کے بعد میامی بیچ پر لال بکنی پہنےاسٹاسی کرانیکولاوپہنچ گئیں

    میامی: معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر اور کائلی جینر کی قریبی دوست اسٹاسی کرانیکولاو نے حالیہ دنوں میں اپنی نئی باڈی ٹرانسفارمیشن کے بعد پہلی بار عوامی سطح پر جلوہ دکھایا، جس نے مداحوں کی بھرپور توجہ حاصل کر لی۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 28 سالہ اسٹاسی کو 29 اپریل کو میامی بیچ پر سرخ بکنی میں دیکھا گیا، جہاں انہوں نے حالیہ “بی بی ایل ریڈکشن” کے بعد اپنی بدلی ہوئی شکل کو نمایاں کیایہ پیش رفت اس سرجری کے تقریباً سات ماہ بعد سامنے آئی ہے، جب اسٹاسی نے گزشتہ سال اکتوبر میں ایک ویڈیو کے ذریعے انکشاف کیا تھا کہ وہ سرجری کے بعد ریکوری سینٹر میں موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ اس تبدیلی کے بعد خود کو زیادہ پُرسکون اور مطمئن محسوس کر رہی ہیں۔

    اپنے بیان میں اسٹاسی کا کہنا تھا “میں اب خود کو زیادہ بہتر محسوس کرتی ہوں، اور اپنی جلد میں بہتر محسوس کر رہی ہوں۔”انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ماضی میں انہوں نے کم عمری میں بی بی ایل کروانے کا فیصلہ دباؤ اور بدلتے ہوئے فیشن ٹرینڈز کے زیر اثر کیا، جس پر بعد میں انہیں افسوس ہوا۔ مئی 2025 میں اپنے پوڈکاسٹ کے دوران انہوں نے کہا “یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس پر مجھے پچھتاوا ہے، اور میں کافی عرصے سے اسے درست کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔”

    اسٹاسی نے اپنے مداحوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وقتی رجحانات کے پیچھے چل کر جسم میں مستقل تبدیلیاں کروانا درست نہیں کیونکہ ٹرینڈز بدلتے رہتے ہیں۔سوشل میڈیا پر ان کی نئی تصاویر وائرل ہو رہی ہیں، جہاں کچھ صارفین ان کے اعتماد کی تعریف کر رہے ہیں تو کچھ اس تبدیلی پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔

  • امریکہ،سب وے نے 700 سے زائد ریسٹورنٹس بند کر دیے

    امریکہ،سب وے نے 700 سے زائد ریسٹورنٹس بند کر دیے

    امریکہ میں فاسٹ فوڈ کے شعبے میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سب وے نے گزشتہ سال 700 سے زائد ریسٹورنٹس بند کر دیے، جس کے بعد اس کا سب سے بڑا حریف میکڈونلڈ مزید مضبوط پوزیشن میں آ گیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق سب وے اب بھی امریکہ میں تقریباً 18,773 ریسٹورنٹس کے ساتھ سب سے بڑا نیٹ ورک رکھتا ہے، جبکہ میکڈونلڈز کے قریب 14,000 آؤٹ لیٹس ہیں۔ تاہم، سب وے کی جانب سے ایک سال میں 729 ریسٹورنٹس کی بندش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کمپنی گزشتہ ایک دہائی سے مسلسل سکڑاؤ کا شکار ہے۔کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ بندش ایک نئی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ایسے مقامات کا انتخاب کرنا ہے جہاں کاروبار طویل مدت تک کامیاب رہ سکے۔ اس کے تحت بہتر لوکیشن، نمایاں موجودگی اور مضبوط آپریشنز پر توجہ دی جا رہی ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق 2015 میں سب وے کے امریکہ بھر میں 27 ہزار سے زائد سٹورز تھے، لیکن اب تک 8 ہزار سے زیادہ ریسٹورنٹس بند کیے جا چکے ہیں، جو ایک بڑی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔2024 میں سب وے کو معروف سرمایہ کاری فرم Roark Capital نے تقریباً 9.6 ارب ڈالر میں خرید لیا تھا۔ بعد ازاں کمپنی نے Jonathan Fitzpatrick کو نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا، جو اس سے قبل برگر کنگ میں اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔مہنگائی کے باعث متاثرہ صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے سب وے نے اپریل میں اپنی پہلی ویلیو مینو متعارف کروائی، جس میں 5 ڈالر سے کم قیمت کے 15 آئٹمز شامل ہیں، جن میں 4.99 ڈالر کے سبس بھی پیش کیے جا رہے ہیں۔

    دوسری جانب میکڈونلڈز بھی سستی اشیاء کی دوڑ میں آگے ہے اور اس نے اپنے “انڈر 3 ڈالر” مینو اور مقبول میل ڈیل کومبوز کے ذریعے صارفین کو اپنی جانب راغب کیا ہے۔مزید برآں، دونوں کمپنیاں نوجوان صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے نئے اسپیشلٹی ڈرنکس متعارف کروا رہی ہیں، جس سے فاسٹ فوڈ مارکیٹ میں مقابلہ مزید سخت ہو گیا ہے۔

  • لٹیری دلہن نویں شادی پر پکڑی گئی

    لٹیری دلہن نویں شادی پر پکڑی گئی

    بھارتی ریاست مہاراشٹراکے ضلع بیڈ میں ایک حیران کن اور سنگین نوعیت کا فراڈ سامنے آیا ہے، جہاں جعلی شادیوں کے ذریعے لوگوں کو لوٹنے والے ایک منظم گروہ کا انکشاف ہوا ہے۔ اس گروہ کی مرکزی کردار ایک ایسی خاتون نکلی ہے جسے مقامی میڈیا نے "لٹیری دلہن” کا نام دیا ہے۔

    پولیس کے مطابق یہ خاتون پہلے ہی آٹھ مختلف مردوں سے شادی کر کے انہیں مالی طور پر لوٹ چکی تھی، اور اس کا نواں شکار ضلع بیڑ کے گاؤں اومپور کا رہائشی ایک شخص بنا۔ اس پورے نیٹ ورک میں کئی ایجنٹس شامل تھے جو شادی کے خواہشمند افراد کو نشانہ بناتے اور انہیں فرضی رشتوں کے جال میں پھنسا دیتے تھے۔ متاثرہ شخص کو بھی اسی طریقے سے شادی کے جال میں لایا گیا، جس کے بعد مختلف بہانوں سے اس سے لاکھوں روپے وصول کیے گئے۔شادی کے کچھ عرصے بعد دلہن کے مشکوک رویے پر شک گہرا ہوا، جس کے بعد تحقیقات شروع کی گئیں۔ معلوم ہوا کہ یہ خاتون اس سے پہلے بھی اسی طرز کی آٹھ جعلی شادیاں کر چکی ہے اور ہر بار دولہے کو مالی نقصان پہنچا چکی ہے۔

    معاملہ سامنے آنے کے بعد متاثرہ شخص نے ضلعی پولیس سپرنٹنڈنٹ سے رابطہ کیا اور باضابطہ شکایت درج کروائی۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے اور پورے نیٹ ورک کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔حکام کے مطابق اس گروہ کے دیگر ارکان کی تلاش جاری ہے اور امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں عمل میں آئیں گی۔

  • اروشی ڈھولکیا کی بکنی پہنے نئی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

    اروشی ڈھولکیا کی بکنی پہنے نئی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

    معروف بھارتی اداکارہ اروشی ڈھولکیا ایک بار پھر سوشل میڈیا پر خبروں کی زینت بن گئی ہیں، جہاں انہوں نے اپنی تازہ تصاویر شیئر کر کے مداحوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

    اداکارہ کی جانب سے انسٹاگرام پر شیئر کی گئی تصاویر میں وہ نہایت پُراعتماد اور گلیمرس انداز میں نظر آ رہی ہیں۔ ان تصاویر میں ان کا اسٹائل، فٹنس اور منفرد انداز نمایاں ہے، جسے مداحوں نے خوب سراہا ہے۔ تصاویر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر زیرِ بحث آ گئیں۔رپورٹس کے مطابق اروشی ڈھولکیا ان دنوں اگرچہ ٹی وی اسکرین سے دور ہیں، تاہم وہ سوشل میڈیا پر خاصی سرگرم رہتی ہیں اور اپنی نجی و پروفیشنل زندگی کے لمحات مداحوں کے ساتھ شیئر کرتی رہتی ہیں۔

    مداحوں کی جانب سے کمنٹس میں ان کی فٹنس اور اعتماد کی تعریف کی جا رہی ہے، جبکہ کئی صارفین نے انہیں آج بھی اتنا ہی خوبصورت قرار دیا جتنا وہ اپنے مشہور کردار “کومولیکا باسو” کے زمانے میں تھیں۔

    یاد رہے کہ اروشی ڈھولکیا نے کم عمری میں ہی شوبز کیریئر کا آغاز کیا تھا اور ڈرامہ سیریل “کسوٹی زندگی کی” میں اپنی اداکاری کے باعث بے حد مقبول ہوئی تھیں۔46 سال کی عمر میں بھی ان کی فٹنس اور اسٹائلش لک مداحوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور ان کی نئی تصاویر انٹرنیٹ پر مسلسل وائرل ہو رہی ہیں۔

  • بنامیک اپ کرینہ کپور نے شیئر کیں تصاویر

    بنامیک اپ کرینہ کپور نے شیئر کیں تصاویر

    بالی ووڈ کی معروف اداکارہ کرینہ کپور خان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر چھا گئی ہیں، جہاں ان کی بغیر میک اپ کے قدرتی انداز میں لی گئی تصاویر مداحوں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔

    کرینہ کپور ان دنوں بھارت کی ریاست ہریانہ میں واقع تاریخی پٹودی پیلس میں اپنی فیملی کے ساتھ پرسکون چھٹیاں گزار رہی ہیں۔ اس دوران انہوں نے انسٹاگرام پر اپنی کئی تصاویر شیئر کیں جن میں ان کا سادہ، قدرتی اور پُرسکون انداز نمایاں نظر آتا ہے۔تصاویر میں کرینہ کپور کو بغیر میک اپ کے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں ان کا قدرتی چہرہ، ہلکی مسکراہٹ اور کھلے بال ان کی شخصیت کو مزید دلکش بنا رہے ہیں۔ دھوپ میں لی گئی ان تصاویر میں ان کے چہرے کی قدرتی چمک مداحوں کو بے حد پسند آئی۔کرینہ کی ان تصاویر میں ان کا سادہ لباس اور قدرتی انداز مداحوں کے دل جیت رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے ان کے اس لک کو “ریئل بیوٹی” اور “ایفرٹ لیس گلیمر” قرار دیا ہے۔ تصاویر پوسٹ ہوتے ہی مختلف پلیٹ فارمز پر تیزی سے وائرل ہو گئیں۔

    شیئر کی گئی تصاویر میں تاریخی پٹودی پیلس کی خوبصورت جھلک بھی نظر آتی ہے، جہاں قدیم طرزِ تعمیر، کشادہ صحن اور شاہانہ ماحول ان مناظر کو مزید دلکش بنا رہا ہے۔

    کام کے حوالے سے کرینہ کپور جلد ہی کرائم تھرلر فلم ‘دائرہ’ میں نظر آئیں گی، جس میں ان کا کردار پہلے سے زیادہ مضبوط اور منفرد بتایا جا رہا ہے۔اس سے قبل وہ روہت شیٹی کی ایکشن فلم ‘سنگھم اگین’ میں بھی جلوہ گر ہو چکی ہیں، جس میں ان کے ساتھ اجے دیوگن، اکشے کمار، رنویر سنگھ، دیپیکا پڈوکون اور ٹائیگر شروف جیسے بڑے ستارے شامل تھے۔کرینہ کپور کی یہ نئی تصاویر نہ صرف ان کے فینز بلکہ عام سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی بے حد پسند کی جا رہی ہیں، اور ان کے قدرتی انداز کو خوب سراہا جا رہا ہے۔

  • بھارت میں ایک ہی خاندان کے 3 افراد مختلف پارٹیوں سے رکن اسمبلی منتخب

    بھارت میں ایک ہی خاندان کے 3 افراد مختلف پارٹیوں سے رکن اسمبلی منتخب

    بھارت کی سیاست میں جہاں سیاسی خاندانوں کی حکمرانی ایک عام روایت سمجھی جاتی ہے، وہیں تمل ناڈو اور پڈوچیری اسمبلی انتخابات 2026 میں ایک غیر معمولی اور حیران کن صورتحال نے سب کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ ایک ہی خاندان کے تین افراد نے مختلف سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور تینوں کامیاب ہو کر رکن اسمبلی بن گئے۔

    یہ منفرد سیاسی خاندان لاٹری بزنس سے وابستہ معروف کاروباری شخصیت سینٹیاگو مارٹن کا ہے، جن کے خاندان کے افراد نے مختلف پارٹیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے الگ الگ حلقوں سے کامیابی حاصل کی۔سینٹیاگو مارٹن کی اہلیہ لیما روز مارٹن نے تمل ناڈو کے حلقے لال گڑی سے آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کزگم (AIADMK) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا،انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار کوپا کرشنن کو تقریباً 2,700 ووٹوں سے شکست دی۔ یہ نشست طویل عرصے سے دراوڑ منیترا کزگم (DMK) کا مضبوط گڑھ سمجھی جاتی تھی، تاہم دو دہائیوں بعد یہاں AIADMK نے دوبارہ کامیابی حاصل کر لی۔ڈی ایم کے کے امیدوار ٹی پریولال بھی مقابلے میں خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے۔ لیما روز مارٹن پہلے ایک اور سیاسی جماعت سے وابستہ تھیں لیکن انتخابات سے قبل وہ AIADMK میں شامل ہوئیں۔ کامیابی کے بعد انہیں پارٹی کی خواتین ونگ کی جوائنٹ سیکرٹری بھی مقرر کر دیا گیا ہے۔

    خاندان کے دوسرے کامیاب امیدوار آدھو ارجن ریڈی ہیں، جو سینٹیاگو مارٹن کی بیٹی ڈیزی مارٹن کے شوہر ہیں۔انہوں نے تمل ناڈو کے حلقے ولی وکم سے تملگا ویتری کژگم (TVK) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور ڈی ایم کے کے سینئر رہنما کارتک موہن کو 17,302 ووٹوں کے واضح فرق سے شکست دی۔یہ نشست پچھلے دو انتخابات سے ڈی ایم کے کے پاس تھی، تاہم اس بار اپوزیشن نے اسے اپنے نام کر لیا۔آدھو ارجن ریڈی اداکار اور سیاست دان وجئے کی پارٹی TVK کے اہم رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں اور انہوں نے پارٹی کی انتخابی مہم میں مرکزی کردار ادا کیا۔

    خاندان کے تیسرے کامیاب امیدوار جوس چارلس مارٹن ہیں، جو سینٹیاگو مارٹن کے بیٹے ہیں۔انہوں نے پڈوچیری اسمبلی کے حلقے کامراج نگر سے اپنی نئی سیاسی جماعت لتچیا جننایک کچی (LJK) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور 10 ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔انہوں نے کانگریس کے پی کے دیوداس اور TVK کے امیدوار کو شکست دی۔جوس چارلس مارٹن پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ رہے، تاہم سیٹوں کی تقسیم پر اختلاف کے بعد انہوں نے پارٹی چھوڑ دی۔ بعد ازاں فروری 2026 میں اپنی نئی سیاسی جماعت تشکیل دی۔انہوں نے ایک انٹرویو میں وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن اور “میک ان انڈیا” پروگرام کی تعریف بھی کی۔

    سینٹیاگو مارٹن بھارت میں لاٹری بزنس کے بڑے نام کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے 1980 اور 1990 کی دہائی میں لاٹری کاروبار سے آغاز کیا اور اپنی کمپنی Future Gaming and Hotel Services کو ملک کی بڑی لاٹری کمپنیوں میں شامل کر لیا۔مارچ 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل الیکٹورل بانڈز کے معاملے کے بعد ان کا نام سیاسی فنڈنگ میں سب سے بڑے عطیہ دہندگان میں سامنے آیا۔ ان کی کمپنیوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کو چندہ دیا۔تاہم بعد میں ان پر منی لانڈرنگ اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی لگے، جن کی تحقیقات انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے کیں۔ کئی بار ان کی کمپنیوں پر چھاپے مارے گئے اور اربوں روپے کے اثاثے ضبط کیے گئے۔فی الحال انہیں سپریم کورٹ سے عبوری ریلیف حاصل ہے، جبکہ ان کے لاٹری کاروبار سے متعلق مختلف ریاستوں میں قانونی سوالات بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

  • امریکہ امن چاہتا ہے،  لیکن ایران وہ راستہ اختیار نہیں کر رہا،امریکی وزیرخارجہ

    امریکہ امن چاہتا ہے، لیکن ایران وہ راستہ اختیار نہیں کر رہا،امریکی وزیرخارجہ

    واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک پریس بریفنگ اس وقت غیر معمولی اور دلچسپ رخ اختیار کر گئی جب ان سے ان کے "DJ نام” کے بارے میں سوال کیا گیا، جس کے جواب میں انہوں نے ہنستے ہوئے کہا”You’re not ready for my DJ name” (آپ میرے DJ نام کے لیے تیار نہیں ہیں)۔

    یہ سوال اس وقت کیا گیا جب روبیو کو ایک فیملی ویڈنگ میں DJ ڈیک کے پیچھے دیکھا گیا تھا، جس پر صحافیوں نے ان سے ان کا DJ نام پوچھ لیا۔

    مزاحیہ انداز کے بعد مارکو روبیو نے گفتگو کا رخ ایران کی صورتحال کی طرف موڑ دیا اور کہا کہ امریکہ امن چاہتا ہے،
    لیکن ایران وہ راستہ اختیار نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور واشنگٹن ایران کے ساتھ معاہدہ چاہتے ہیں، تاہم ایران کی موجودہ پالیسی اسے معاشی تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔روبیو نے سخت لہجے میں ایک مشہور ریپر آئس کیوب کے جملے کو دہراتے ہوئے کہا،انہیں خود کو درست کر لینا چاہیے اس سے پہلے کہ وہ خود کو تباہ کر بیٹھیں،یہ جملہ انہوں نے ایران کی موجودہ پالیسیوں کے تناظر میں استعمال کیا۔

    پریس کانفرنس میں روبیو نے چین پر زور دیا کہ وہ ایران کو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے سے روکے۔ انہوں نے کہا کہ چین کو ایران سے واضح طور پر کہنا چاہیے کہ اس کی سرگرمیاں اسے عالمی سطح پر تنہائی کی طرف لے جا رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا “آپ کو بحری جہازوں پر حملے نہیں کرنے چاہئیں، نہ ہی عالمی معیشت کو یرغمال بنانا چاہیے۔”روبیو نے امریکی منصوبے “پروجیکٹ فریڈم” کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں تقریباً 23,000 افراد مختلف ممالک سے متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے اسے “دفاعی آپریشن” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ صرف اس وقت ردعمل دے گا جب اس پر حملہ کیا جائے گا۔روبیو نے دعویٰ کیا کہ امریکی پابندیوں کے باعث ایران کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی 70 فیصد تک پہنچ چکی ہے،ایرانی کرنسی شدید گراوٹ کا شکار ہے،اور ملک کی زیادہ تر تجارت متاثر ہوئی ہے،انہوں نے کہا کہ یہ سب ایران کی “جارحانہ پالیسیوں” کا نتیجہ ہے۔

    لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پر بات کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ اصل مسئلہ لبنان یا اسرائیل نہیں بلکہ حزب اللہ ہے، جو لبنان کی سرزمین سے سرگرم ہے اور خطے میں عدم استحکام کا سبب بن رہی ہے۔
    انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ایک پائیدار جنگ بندی ممکن ہے۔

    پریس کانفرنس کے دوران روبیو نے صحافیوں کے شور شرابے پر مزاحیہ انداز میں کہا “This is chaos guys” (یہ تو مکمل افراتفری ہے)،جس پر ایک صحافی نے جواب دیا: “Welcome to the White House”۔

  • بیٹیاں بڑے ہو کر بھی عوامی مقامات پر خود کو غیر محفوظ محسوس کریں گی،والدین کو خدشہ

    بیٹیاں بڑے ہو کر بھی عوامی مقامات پر خود کو غیر محفوظ محسوس کریں گی،والدین کو خدشہ

    برطانیہ میں خواتین اور بچیوں کی حفاظت اور صنفی مساوات سے متعلق ایک تازہ سروے نے تشویشناک صورتحال کو سامنے لایا ہے، جس کے مطابق بڑی تعداد میں والدین کو خدشہ ہے کہ ان کی بیٹیاں مستقبل میں بھی عوامی مقامات پر خود کو محفوظ محسوس نہیں کر سکیں گی۔

    یہ سروے فلاحی تنظیم پلان انٹرنیشنل یوکے کی جانب سے کیا گیا، جس میں سامنے آیا کہ تقریباً 80 فیصد والدین اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ ان کی بیٹیاں بڑی ہو کر عوامی مقامات پر عدم تحفظ کا شکار ہوں گی۔ مزید یہ کہ 40 فیصد والدین کا ماننا ہے کہ یہ احساسِ عدم تحفظ ان کی اپنی نسل کے مقابلے میں کم عمری میں ہی شروع ہو جائے گا۔سروے میں شامل خواتین کے تجربات بھی صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں،تقریباً 63 فیصد خواتین نے کہا کہ وہ کبھی نہ کبھی عوامی مقامات پر غیر محفوظ محسوس کر چکی ہیں،58 فیصد خواتین نے غیر مطلوب جسمانی یا جنسی ہراسانی کا سامنا کیا ہے،اور 41 فیصد کا خیال ہے کہ صنفی مساوات میں بہتری کے بجائے تنزلی ہو رہی ہے

    یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی خواتین کے لیے عوامی جگہیں مکمل طور پر محفوظ نہیں سمجھی جا رہیں۔سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ والدین کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں سے اہم سماجی موضوعات پر بات نہیں کرتی،42 فیصد والدین نے کبھی بھی اپنے بچوں سے صنفی مساوات پر بات نہیں کی،36 فیصد نے کبھی رضامندی کے موضوع پر گفتگو نہیں کی،جبکہ 27 فیصد والدین نے اعتراف کیا کہ وہ آن لائن خطرناک مواد سے بچوں کی حفاظت کے لیے خود کو تیار یا اہل محسوس نہیں کرتے،ماہرین کے مطابق یہ خاموشی مستقبل میں بچوں کی آگاہی اور تحفظ کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

    پلان انٹرنیشنل یوکے نے ان نتائج کی بنیاد پر نئی مہم دی فائن پرنٹ کا آغاز کیا ہے۔ اس مہم کا مقصد یہ اجاگر کرنا ہے کہ لڑکیاں جن حالات میں پروان چڑھتی ہیں وہ اب بھی غیر مساوی اور غیر محفوظ ہیں۔تنظیم کے مطابق یہ نتائج ان دعوؤں کی تردید کرتے ہیں کہ صنفی مساوات کا سفر مکمل ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس ہے، کیونکہ بہت سی خواتین اب بھی روزمرہ زندگی میں عدم تحفظ اور ہراسانی کا سامنا کر رہی ہیں۔
    حکومت کا ردعمل اور نئی حکمتِ عملی

    یہ سروے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانوی حکومت نے دسمبر میں خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کو آئندہ دس سال میں نصف کرنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی پیش کی تھی۔اس منصوبے کے تحت اسکولوں میں اساتذہ کو خصوصی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ لڑکوں میں ابھرنے والے منفی اور انتہاپسند رویوں کی ابتدائی علامات کو پہچان سکیں۔برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے اس موقع پر کہا تھا کہ خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ “آئندہ نسل کے لیے ہماری ذمہ داری” ہے، اور معاشرے میں پھیلنے والے زہریلے خیالات کو ابتدائی سطح پر روکنا ضروری ہے۔