ایم کیو ایم کے رہنما رہنما فاروق ستار نے کہا ہےکہ اگر کراچی کی طرف توجہ نہ دی گئی تو کراچی ایکشن کمیٹی بھی بنے گی۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ کوئی 100 فیصد درست نہیں، ہم 100 فیصد اپوزیشن کو غلط کہہ سکتے ہیں نہ 100فیصد خود کو درست، دونوں جانب سے غلطیاں ہوئی ہیں،انہوں نے کہا کہ اگر آئین پر عمل نہیں ہو رہا تو اپنے گریباں میں جھانکیں، آرٹیکل 7، 32 اور آرٹیکل 40 اے پرکوئی بات نہیں کرتا،ہمیں ایک قومی مصالحت اور قومی مفاہمت کی ضرورت ہے،آج آپ مسائل کو ایڈریس کریں ورنہ پھرکراچی سمیت دیگر شہروں سے انہیں وفاق کے زیرانتظام ہونے کا مطالبہ آئےگا، اگر آپ نے اس طرف توجہ نہ دی تو کراچی ایکشن کمیٹی بھی بنے گی
ایم کیو ایم کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے تحریک کے مرکزی رہنما زاہد ملک کی پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی ہے،سینیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار اور سید امین الحق بھی ملاقات کے موقع پر موجود تھے ،خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کا قیام پاکستان کی معاشی ترقی اور عوام کو مسائل سے نجات دلانے کا اہم قدم بن سکتا ہےآئین میں آرٹیکل 140 اے کی ترمیم کی جدوجہد جاری رکھیں گے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے پنجاب اور آزاد کشمیر میں تنظیم سازی سے متعلق کاوشوں پر زاہد ملک کے جذبے اور کام کو سراہا ،زاہد ملک کا کہنا تھا کہ تحریک کو متحد رکھنے میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے تاریخی کردار ادا کیا،زاہد ملک نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو پنجاب میں تنظیم سازی سے متعلق امور پر بریف کیا ،زاہد ملک نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات سے متعلق تیاری اور تنظیمی سرگرمیوں سے متعلق بھی رپورٹ پیش کی
