مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری نے کہا ہے کہ بینظر انکم سپورٹ پروگرام میں 25ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں لمحہ فکریہ ہیں، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام غریب عوام کو بھکاری بنانے کا پروگرام ہے، اس کو فوری ختم کیا جائے اور اس کی مد میں خرچ ہونے والی رقم انہی خواتین کو ہنر مند بنانے پر خرچ کی جائے
سیف اللہ قصوری کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مالی سال 2024-25ء کیلئے آڈٹ سال 2025-26ء کی رپورٹ غریب عوام کے حق پر ڈاکا ڈالنے اور قومی خزانے کی بدترین لوٹ مار کا ناقابل تردید ثبوت ہے، چھ لاکھ سے زائد نااہل افراد کو اربوں روپے کی ادائیگیوں سے واضح ہوتا ہے کہ بی آئی ایس پی میں شفافیت، نگرانی اور احتساب کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے،سرکاری ملازمین، پنشنرز، گاڑیوں کے مالکان، دہری رجسٹریشن رکھنے والے افراد اور جعلی اندراجات کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ حقیقی مستحقین اپنے بنیادی حقوق سے محروم رہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اسکینڈل کی اعلیٰ سطحی، آزاد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں۔ آڈٹ رپورٹ میں جن افسران، اہلکاروں اور عناصر کی غفلت یا ملی بھگت ثابت ہوتی ہے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل وصولی یقینی بنائی جائے،فلاحی منصوبوں کو سیاسی مقاصد اور کرپٹ نیٹ ورکس کے لیے استعمال کرنا قومی جرم ہے، بی آئی ایس پی کے تمام مشکوک ریکارڈز کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے، ذمہ دار افسران کو معطل کیا جائے اور تحقیقات کی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے تاکہ قومی دولت کی لوٹ مار کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کیا جا سکے۔
