Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • یہ کس قسم کا الیکشن تھا بدترین دھاندلی کر کے من پسند اسمبلیاں بنا دی گئیں؟مولانا فضل الرحمان

    یہ کس قسم کا الیکشن تھا بدترین دھاندلی کر کے من پسند اسمبلیاں بنا دی گئیں؟مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت اپنی نااہلی کی وجہ سے سرکاری تعلیمی اداروں کی حیثیت ختم کرکے انہیں نجی شعبے کو دے رہی ہے۔ جو اسکول تمہارے اپنے انتظام میں چل رہے ہیں، وہ تم سے چلائے نہیں جا رہے اور دوسری طرف دینی مدارس جو مکمل طور پر پرائیویٹ سیکٹر میں اپنے بل بوتے پر بہترین کام کر رہے ہیں، تم انہیں زبردستی سرکاری تحویل میں لانا چاہتے ہو۔

    پشین میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت مدارس کی طرف دیکھنے سے پہلے اسکولوں، کالجوں اور وہاں سے فارغ تحصیل بے روزگار نوجوانوں کے حوالے سے اپنی عبرتناک ناکامیاں تو چھپائے۔ ہم سے کہا جاتا ہے کہ مدارس والے فارم پر کریں تاکہ کوئی دہشت گرد مدرسے میں نہ آ جائے۔ کیا دہشت گرد یونیورسٹیوں کے ہاسٹلز، کالجوں اور اسکولوں سے نہیں پکڑے گئے؟ جب یونیورسٹیوں سے دہشت گرد پکڑے گئے اور وہاں سے لاشیں نکلیں، تب تو تم نے وہاں کے نظام میں کوئی تبدیلی نہیں کی، لیکن سارا دباؤ صرف اور صرف دینی مدارس پر ڈالا جا رہا ہے۔ میں دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ تم دینی مدارس کی خیر خواہی میں یہ اقدامات نہیں کر رہے، بلکہ تم امریکہ اور مغرب کی اندھی پیروی میں یہ سب کچھ کر رہے ہو۔

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ اس پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہوئیں اور مختلف لابیوں نے اس پر کام شروع کیا، لیکن الحمدللہ جمیعت علمائے اسلام نے کراچی میں پہلا ملین مارچ کیا اور پھر ملک بھر میں تحریک چلا کر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تمام سازشوں کو پاکستان میں شکست دے دی۔ ِاسرائیل کے ناپاک وجود کو ختم کرنے کے لیے پوری اسلامی دنیا کو ایک ہونا ہوگا پاکستان میں یہ صلاحیت موجود ہے۔ اصل مسئلہ حکمرانوں کے عزم اور ان کی قوتِ ارادی کا ہے جو کہ انتہائی کمزور ہے؛ ہمارے حکمران کمزور ہیں لیکن پاکستان کمزور نہیں۔ ان حکمرانوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اسلامی دنیا کے اتحاد کے لیے آگے بڑھیں گے، عالمی استعمار کے خلاف آواز بنیں گے یا مغرب کے جبر کے خلاف لڑیں گے، بالکل فضول ہے کیونکہ ان سے ہمیں کوئی توقع نہیں ہے۔

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے ختمِ نبوت کے حساس معاملے پر ایک غلط فیصلہ دیا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف پورے ملک میں ایک احتجاجی ہنگامہ برپا ہوا اور پھر مجھے خود سپریم کورٹ میں بلایا گیا۔ ہماری اصولی موقف کی بدولت چند گھنٹوں کے اندر اندر سپریم کورٹ کو اپنا وہ فیصلہ واپس لینا پڑا اور جس طرح ہم نے عدالت کو کہا اور جس طرح ہم نے لکھوایا، بالکل وہی فیصلہ سپریم کورٹ کی جانب سے صادر کیا گیا، جو ہماری نظریاتی فتح ہے۔

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ کون سی عقل ہے اور کیا یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند۔ یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ کہتے ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں دہشتگردی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ہم سب پاکستانی ہیں، معاملات کو ٹھیک کرو اور اس قوم کے افراد کو مطمئن کرو۔ یہ کس قسم کا الیکشن تھا جہاں بدترین دھاندلی کر کے اپنی من پسند اسمبلیاں بنا دی گئیں؟ سندھ کی اسمبلی جس طرح بنائی گئی اور پنجاب کی اسمبلی جس طرح وجود میں آئی، یہ ہمارے ملک کے پورے سیاسی نظام کے اوپر ایک بڑا داغ ہیں۔

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کو براہ راست مخاطب کرکے کہتا ہوں ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پاکستان کا متفقہ آئین بنا تھا، لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج آپ کی آنکھوں کے سامنے اگر اس آئین کو مسخ کیا جا رہا ہے، صوبوں کے حقوق تباہ و برباد کیے جا رہے ہیں تو آپ بتائیں کہ کیا آپ واقعی ذوالفقار علی بھٹو کے راستے پر چل رہے ہیں؟ آج جب ہم اس اٹھارویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ کی بات کرتے ہیں تو پیپلز پارٹی کیوں خاموش ہے اور کس بات کی کمزوری دکھا رہی ہے؟ ہم تو صوبوں کے حقوق کے لیے آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، پھر آپ کیوں پیچھے ہٹ رہے ہیں اور سودے بازی کر رہے ہیں؟ جمیعت اس آئین کی حفاظت آخری دم تک کرے گی۔

  • وفاقی وزیر مواصلات کی سعودی وفد کوموٹرویز کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی پیشکش

    وفاقی وزیر مواصلات کی سعودی وفد کوموٹرویز کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی پیشکش

    اسلام آباد: وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے سعودی پاکستان بزنس کونسل کے چیئرمین پرنس منصور بن محمد السعود نے ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے مختلف امور اور پاکستان و سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے سعودی وفد کو موٹرویز کے مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کی خصوصی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبے مواصلات کے شعبے میں تجارتی اور اقتصادی لحاظ سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ سعودی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ سرمایہ کاری کے مواقع سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے۔عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اہم ترقیاتی منصوبوں میں سعودی عرب کی شراکت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور سعودی پاکستان بزنس کونسل کے پلیٹ فارم سے دونوں برادر ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

    اس موقع پر پرنس منصور بن محمد السعود نے کہا کہ سعودی پاکستان بزنس کونسل پاکستان کے مواصلاتی شعبے میں شراکت داری اور سرمایہ کاری کے مواقع میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان کاروباری تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ منصوبے خطے میں اقتصادی ترقی اور باہمی خوشحالی کے لیے سودمند ثابت ہوں گے۔ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر اور مواصلات کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

  • امریکی صدر کے سونے کی ویڈیو وائرل،وائیٹ ہاؤس کا ردعمل بھی آ گیا

    امریکی صدر کے سونے کی ویڈیو وائرل،وائیٹ ہاؤس کا ردعمل بھی آ گیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد نئی بحث چھڑ گئی ہے، جس میں وہ اوول آفس میں ایک تقریب کے دوران چند لمحوں کے لیے آنکھیں بند کیے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

    وائرل ویڈیوز اور تصاویر میں 79 سالہ صدر اپنی کرسی پر پیچھے کی جانب جھکے نظر آتے ہیں، جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ شاید وہ تقریب کے دوران اونگھ گئے تھے یا سو گئے تھے۔یہ واقعہ وائٹ ہاؤس میں منعقد ہونے والی ایک تقریب کے دوران پیش آیا، جو ’’بیوٹی فل، کلین کول‘‘ منصوبے سے متعلق تھی۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس حوالے سے بحث نے زور پکڑ لیا۔تاہم وائٹ ہاؤس نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ریپڈ ریسپانس اکاؤنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ویڈیو میں صدر کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور ان کے سو جانے سے متعلق دعوے حقائق کے منافی ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بھی صدر ٹرمپ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی تاریخ کے سب سے متحرک، قابلِ رسائی اور ذہین صدور میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں۔دوسری جانب یہ معاملہ امریکی کانگریس تک بھی پہنچ گیا، جہاں ایک رکنِ کانگریس نے امریکی وزیر خارجہ کو ایسی ویڈیوز دکھائیں جن میں بظاہر صدر ٹرمپ مختلف تقریبات کے دوران آنکھیں بند کیے ہوئے نظر آتے ہیں۔اس پر جواب دیتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا، ’’میں نے کبھی انہیں سوتے نہیں دیکھا، حقیقت تو یہ ہے کہ یہ شخص سوتا ہی نہیں۔‘‘

    وائرل ویڈیو کے بعد ایک بار پھر سوشل میڈیا پر صدر ٹرمپ کی صحت اور مصروف طرزِ زندگی سے متعلق بحث نے جنم لے لیا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس مسلسل ان دعوؤں کی تردید کر رہا ہے۔

  • امریکا ایران جنگ کے دوران پاکستان ایک اہم سفارتی کردار کے طور پر ابھرا ،امریکی میڈیا

    امریکا ایران جنگ کے دوران پاکستان ایک اہم سفارتی کردار کے طور پر ابھرا ،امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان امریکا کا غیر متوقع مگر اہم اتحادی بن گیا

    امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 2026ء کی امریکا ایران جنگ کے دوران پاکستان ایک اہم سفارتی کردار کے طور پر ابھرا ہے، جہاں جنگ بندی کی کوششوں اور ایران و امریکا کے درمیان مذاکرات میں پاکستان نے کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا، رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ابتدائی جنگ بندی کرانے میں اہم کردار ادا کیا جبکہ اسلام آباد نے 1979ء کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات کی میزبانی بھی کی،
    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہونے کے باعث امریکا اور ایران دونوں کے لیے قابلِ قبول ثالث بن کر سامنے آیا، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی متعدد بار تعریف بھی کر چکے ہیں،مستقل معاہدے تک پہنچنا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے اور اگر پاکستان مطلوبہ نتائج نہ دے سکا تو اسے دوبارہ امریکی دباؤ یا ناراضی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • آزاد کشمیر میں عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہو گیا

    آزاد کشمیر میں عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہو گیا

    آزاد کشمیر الیکشن کمیشن نے قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات 27 جولائی 2026 کو منعقد ہوں گے۔

    امیدوار 9 جون سے 19 جون تک کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا سکیں گے۔کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال 20 جون کو ہوگی۔درست نامزد امیدواروں کی فہرست 20 جون کو جاری کی جائے گی۔نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں 21 سے 24 جون تک دائر کی جا سکیں گی۔الیکشن کمیشن اپیلوں کی سماعت 26 اور 27 جون کو کرے گا،اپیلوں پر فیصلے 28 اور 29 جون کو سنائے جائیں گے۔امیدوار 30 جون تک کاغذاتِ نامزدگی واپس لے سکیں گے۔انتخابی میدان میں موجود امیدواروں کی فہرست یکم جولائی کو جاری ہوگی۔امیدواروں کو انتخابی نشانات 2 جولائی کو الاٹ کیے جائیں گے۔حتمی فہرستِ امیدواران اور انتخابی نشانات 2 جولائی کو جاری ہوں گے۔آزاد کشمیر میں پولنگ 27 جولائی کو صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک ہوگی۔الیکشن کمیشن نے انتخابی شیڈول کے نفاذ کا فوری اعلان کر دیا۔عام انتخابات کے انعقاد کے لیے ریٹرننگ افسران کو شیڈول کے مطابق کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے،آزاد کشمیر میں انتخابی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز، الیکشن شیڈول نافذ کر دیا گیا،نوٹیفکیشن کے مطابق پولنگ 27 جولائی 2026 کو مقرر کی گئی ہے جبکہ کاغذاتِ نامزدگی 9 تا 19 جون وصول کیے جائیں گے

    الیکشن کمیشن کے اعلان کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آنے کا امکان ہے جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم کی تیاریوں کا آغاز بھی کر دیا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی نے کشمیری مہاجرین کی 12 نشستیں برقرار رکھنے سے متعلق ایک اہم قرارداد منظور کی تھی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ مہاجرین کی نمائندگی ایک تاریخی اور آئینی حقیقت ہے جسے برقرار رکھا جانا چاہیے۔منظور شدہ قرارداد کے مطابق انتخابی نظام سے متعلق پیچیدگیوں کے خاتمے اور سیاسی جماعتوں کے لیے قابل قبول اصلاحات متعارف کرانے کے لیے ضروری قانون سازی اسمبلی کے ذریعے عمل میں لائی جا سکتی ہے۔قرارداد میں مزید کہا گیا کہ آئینی اصلاحات عوام کے منتخب نمائندوں کا خصوصی اختیار اور مینڈیٹ ہیں، اس لیے اصلاحات کا معاملہ قانون ساز اسمبلی پر چھوڑا جائے۔ قرارداد میں سیاسی جماعتوں، بار ایسوسی ایشنز، بار کونسل، سول سوسائٹی اور آئینی ماہرین سے مشاورت کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

    سیاسی حلقوں کے مطابق انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے بعد آزاد کشمیر میں انتخابی ماحول مزید گرم ہونے کا امکان ہے اور مختلف جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کریں گی۔

  • سگریٹ کا غیرقانونی کاروبار،قومی خزانے کو 300 ارب کا نقصان ہو رہا،خواجہ آصف

    سگریٹ کا غیرقانونی کاروبار،قومی خزانے کو 300 ارب کا نقصان ہو رہا،خواجہ آصف

    اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ملک میں سگریٹ کے غیرقانونی کاروبار کے باعث حکومت کو ٹیکس کی مد میں سالانہ تقریباً 300 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ بجٹ کی تیاری اور ٹیکسوں کے حوالے سے مختلف شعبوں کے نمائندے ان سے رابطے کر رہے ہیں۔ سگریٹ کی قانونی صنعت سے وابستہ افراد کا مؤقف ہے کہ ٹیکس کی شرح میں کمی کی جائے تو غیرقانونی سگریٹ کا کاروبار کم ہو سکتا ہے اور قومی خزانے کی آمدن میں اضافہ ممکن ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ وہ عمومی طور پر اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں غیرقانونی اور اسمگل شدہ سگریٹ بنانے والی فیکٹریوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں تو یہ کاروبار ایک صوبے سے نکل کر دیگر صوبوں تک پھیل گیا۔

    خواجہ آصف نے مزید کہا کہ غیرقانونی سگریٹ کی تیاری اب نئے طریقوں سے جاری ہے اور اطلاعات ہیں کہ بعض عناصر پولٹری فارموں کے اندر مشینری نصب کرکے سگریٹ تیار کر رہے ہیں تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچ سکیں۔انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق غیرقانونی سگریٹ کی تجارت سے حکومت کو 300 ارب روپے کے ٹیکس ریونیو کا نقصان ہو رہا ہے۔ ان کے بقول ایک رائے یہ بھی ہے کہ ٹیکسوں میں کمی سے ٹیکس چوری کی حوصلہ شکنی ہوگی اور زیادہ لوگ قانونی طور پر ٹیکس ادا کرنے پر آمادہ ہوں گے۔

    وزیر دفاع نے ٹیکس وصولی کے نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں ٹیکس درست طریقے سے جمع کیا جائے تو پاکستان بین الاقوامی مالیاتی اداروں پر انحصار کم کرکے معاشی خودمختاری کی جانب بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے مارکیٹوں اور کاروباری مراکز کے حجم کے مقابلے میں ٹیکس وصولی کا جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

  • پنکی سے رابطہ پولیس اہلکاروں کو مہنگا پڑ گیا

    پنکی سے رابطہ پولیس اہلکاروں کو مہنگا پڑ گیا

    انسدادِ دہشت گردی محکمہ (سی ٹی ڈی) نے انمول عرف پنکی سے مبینہ روابط کے الزام میں دو پولیس اہلکاروں کو ملازمت سے برخاست کر دیا ہے۔ برخاست کیے جانے والوں میں ایک کانسٹیبل اور ایک اے ایس آئی شامل ہیں۔

    سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق دونوں اہلکاروں پر گزشتہ چند برسوں کے دوران انمول عرف پنکی سے رابطے رکھنے کا الزام تھا۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ایک اہلکار نے ایک رائیڈر کی گرفتاری کے بعد ملزمہ سے روابط بڑھائے تھے،ذرائع کا کہنا ہے کہ مکمل انکوائری رپورٹ کے بعد دونوں اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی اور انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا،چند روز قبل اہلکار علی قریشی اور کفیل کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش بھی کی گئی تھی۔ دورانِ تحقیقات دونوں اہلکاروں کے باضابطہ بیانات قلمبند کیے گئے۔

    سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق شواہد اکٹھے کرنے کے لیے دونوں اہلکاروں کے موبائل فونز کا فرانزک تجزیہ بھی کیا گیا، جبکہ ان کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی حاصل کرکے جانچ پڑتال کی گئی۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ تحقیقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد انکوائری مکمل کی گئی، جس کی روشنی میں دونوں اہلکاروں کو ملازمت سے برخاست کرنے کا فیصلہ کیا گیا

  • معاشرے میں طلاق کی تشہیر یا اس کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے۔سارہ چوہدری

    معاشرے میں طلاق کی تشہیر یا اس کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے۔سارہ چوہدری

    سابقہ اداکارہ سارہ چوہدری نے اپنی شادی ناکام ہونے کی وجہ اور طلاق سے متعلق خیالات پر کھل کر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسان کی زندگی میں پیش آنے والے تمام واقعات اللّٰہ کی تقدیر کا حصہ ہوتے ہیں، اس لیے انہیں کسی پچھتاوے کے بغیر قبول کرنا چاہیے۔

    حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سابقہ اداکارہ سارہ چوہدری نے اپنی ذاتی زندگی، شوبز سے کنارہ کشی اور شادی کے تجربے سے متعلق مختلف سوالات کے جواب دیے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ شوبز انڈسٹری چھوڑنے اور خود کو دینی زندگی کے مطابق ڈھالنے کے باوجود بھی ان کی شادی کیوں کامیاب نہ ہو سکی۔سارہ چوہدری کا کہنا تھا کہ طلاق بھی زندگی کے ان راستوں میں سے ایک ہے جو اللّٰہ کی طرف سے مقرر کیے جاتے ہیں، تاہم یہ پسندیدہ عمل نہیں، اس لیے معاشرے میں طلاق کی تشہیر یا اس کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ جہاں میاں بیوی کے درمیان صلح اور تعلقات کی بحالی ممکن ہو، وہاں کوشش ضرور کرنی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ تصور درست نہیں کہ اگر کوئی شخص اللّٰہ کی رضا کے لیے بڑی قربانیاں دے تو اس کی ازدواجی زندگی لازمی طور پر کامیاب ہی رہے گی۔ ان کے مطابق ہر انسان کی زندگی، اس کی آزمائشیں اور تعلقات تقدیر کے تابع ہوتے ہیں۔سابقہ اداکارہ نے اپنی علیحدگی کے بارے میں مختصراً بات کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں فریقین نے اپنی شادی کو برقرار رکھنے کے لیے بھرپور کوشش کی، لیکن ایک وقت ایسا آیا جب محسوس ہوا کہ مزید ساتھ چلنا ممکن نہیں رہا، جس کے بعد باہمی رضامندی سے علیحدگی کا فیصلہ کیا گیا۔ایک سوال کے جواب میں سارہ چوہدری نے کہا کہ انہیں اپنی زندگی کے کسی فیصلے یا واقعے پر کوئی پچھتاوا نہیں۔ ان کے بقول دین کی بہتر سمجھ نے انہیں یہ سکھایا ہے کہ زندگی میں پیش آنے والی ہر چیز اللّٰہ کی مرضی اور تقدیر کا حصہ ہے، اس لیے ماضی پر افسوس کرنے کے بجائے اسے قبول کرنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ اللّٰہ نے ہر انسان میں خوبیاں اور خامیاں رکھی ہیں اور ہر شخص کی برداشت کی ایک حد ہوتی ہے، اسی لیے بعض اوقات تمام تر کوششوں کے باوجود رشتے برقرار نہیں رہ پاتے۔

  • اداکارہ مومنہ اقبال کی ہراسانی کی درخواست،ثاقب چدھڑ کیخلاف مقدمہ درج

    اداکارہ مومنہ اقبال کی ہراسانی کی درخواست،ثاقب چدھڑ کیخلاف مقدمہ درج

    اداکارہ مومنہ اقبال کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے معاملے میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے رکنِ پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ مومنہ اقبال کی جانب سے فراہم کردہ شواہد اور شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا۔ مدعی کے مطابق ثاقب چدھڑ اور ان کے ساتھیوں نے اداکارہ کو بلیک میل کرنے اور دھمکیاں دینے کی کوشش کی۔مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے مبینہ طور پر دھمکی دی کہ اگر شادی نہ کی گئی تو متعلقہ ڈیٹا لیک کر دیا جائے گا۔ مومنہ اقبال کی بہن نے دھمکیوں سے متعلق ویڈیوز این سی سی آئی اے کو فراہم کیں، جنہیں دیگر ڈیجیٹل شواہد کے ساتھ تحویل میں لے کر فرانزک معائنے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے موبائل نمبر سے دھمکی آمیز پیغامات بھی بھیجے گئے۔ دستاویزات کے مطابق مومنہ اقبال کو جب ثاقب چدھڑ کی پہلی شادی کا علم ہوا تو انہوں نے شادی سے انکار کر دیا، جس کے بعد مبینہ طور پر انہیں پرائیویٹ ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کیا جانے لگا۔

    شکایت میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ 2023 میں ثاقب چدھڑ نے جھوٹے الزامات لگا کر اداکارہ کا ایک رشتہ ختم کروایا، جبکہ بعد ازاں مومنہ اقبال اور ان کے موجودہ شوہر کو بھی دھمکیاں دی گئیں۔ایف آئی آر کے مطابق ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور بعض ساتھیوں پر سائبر ہراسگی، بلیک میلنگ، غیر قانونی نگرانی اور اداکارہ کے اہلِ خانہ کو دھمکیاں دینے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ تفتیشی ادارے کا کہنا ہے کہ ملزم نے موبائل فون این سی سی آئی اے کے حوالے کرنے سے قبل اس میں موجود ڈیٹا اور مختلف ایپلی کیشنز حذف کر دی تھیں۔

    یاد رہے کہ اداکارہ مومنہ اقبال نے چند روز قبل این سی سی آئی اے میں ثاقب چدھڑ کے خلاف باضابطہ شکایت درج کروائی تھی، جس کے بعد ادارے نے تحقیقات کا آغاز کیا اور اب مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ تاہم الزامات کے حوالے سے ثاقب چدھڑ کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔

  • بلاول  کی ننھے یوٹیوبر شیراز اور مسکان سے ملاقات

    بلاول کی ننھے یوٹیوبر شیراز اور مسکان سے ملاقات

    گلگت بلتستان میں انتخابی سرگرمیوں کے سلسلے میں موجود پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے معروف ننھے یوٹیوبر شیراز اور ان کی بہن مسکان سے ملاقات کی، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔

    ملاقات کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے شیراز سے خوشگوار گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کراچی سے ان کے ویڈیوز دیکھتے اور انہیں فالو کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے شیراز کو اپنا بڑا مداح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے مل کر انہیں بے حد خوشی ہوئی ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے شیراز کی سماجی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ان کا سوشل میڈیا باقاعدگی سے دیکھتے ہیں اور یہ جان کر خوشی ہوتی ہے کہ کم عمری کے باوجود شیراز نہ صرف محنت سے شہرت حاصل کر رہے ہیں بلکہ اپنے علاقے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شیراز نے اپنے علاقے میں پانی کی فراہمی اور تعلیمی سہولیات کی بہتری کے لیے قابلِ تعریف اقدامات کیے ہیں، جو دوسروں کے لیے بھی ایک مثال ہیں۔

    اس موقع پر انہوں نے اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ گلگت بلتستان کے عوام سے خصوصی محبت رکھتے تھے اور انہوں نے علاقے کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے نمایاں خدمات انجام دی تھیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جس طرح ان کے بزرگوں نے گلگت بلتستان کے عوام کی خدمت کی، وہ بھی اسی روایت کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں اور اگر موقع ملا تو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مزید اقدامات کریں گے۔