امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد نئی بحث چھڑ گئی ہے، جس میں وہ اوول آفس میں ایک تقریب کے دوران چند لمحوں کے لیے آنکھیں بند کیے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
وائرل ویڈیوز اور تصاویر میں 79 سالہ صدر اپنی کرسی پر پیچھے کی جانب جھکے نظر آتے ہیں، جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ شاید وہ تقریب کے دوران اونگھ گئے تھے یا سو گئے تھے۔یہ واقعہ وائٹ ہاؤس میں منعقد ہونے والی ایک تقریب کے دوران پیش آیا، جو ’’بیوٹی فل، کلین کول‘‘ منصوبے سے متعلق تھی۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس حوالے سے بحث نے زور پکڑ لیا۔تاہم وائٹ ہاؤس نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ریپڈ ریسپانس اکاؤنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ویڈیو میں صدر کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور ان کے سو جانے سے متعلق دعوے حقائق کے منافی ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بھی صدر ٹرمپ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی تاریخ کے سب سے متحرک، قابلِ رسائی اور ذہین صدور میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں۔دوسری جانب یہ معاملہ امریکی کانگریس تک بھی پہنچ گیا، جہاں ایک رکنِ کانگریس نے امریکی وزیر خارجہ کو ایسی ویڈیوز دکھائیں جن میں بظاہر صدر ٹرمپ مختلف تقریبات کے دوران آنکھیں بند کیے ہوئے نظر آتے ہیں۔اس پر جواب دیتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا، ’’میں نے کبھی انہیں سوتے نہیں دیکھا، حقیقت تو یہ ہے کہ یہ شخص سوتا ہی نہیں۔‘‘
وائرل ویڈیو کے بعد ایک بار پھر سوشل میڈیا پر صدر ٹرمپ کی صحت اور مصروف طرزِ زندگی سے متعلق بحث نے جنم لے لیا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس مسلسل ان دعوؤں کی تردید کر رہا ہے۔
