Baaghi TV

معاشرے میں طلاق کی تشہیر یا اس کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے۔سارہ چوہدری

سابقہ اداکارہ سارہ چوہدری نے اپنی شادی ناکام ہونے کی وجہ اور طلاق سے متعلق خیالات پر کھل کر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسان کی زندگی میں پیش آنے والے تمام واقعات اللّٰہ کی تقدیر کا حصہ ہوتے ہیں، اس لیے انہیں کسی پچھتاوے کے بغیر قبول کرنا چاہیے۔

حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سابقہ اداکارہ سارہ چوہدری نے اپنی ذاتی زندگی، شوبز سے کنارہ کشی اور شادی کے تجربے سے متعلق مختلف سوالات کے جواب دیے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ شوبز انڈسٹری چھوڑنے اور خود کو دینی زندگی کے مطابق ڈھالنے کے باوجود بھی ان کی شادی کیوں کامیاب نہ ہو سکی۔سارہ چوہدری کا کہنا تھا کہ طلاق بھی زندگی کے ان راستوں میں سے ایک ہے جو اللّٰہ کی طرف سے مقرر کیے جاتے ہیں، تاہم یہ پسندیدہ عمل نہیں، اس لیے معاشرے میں طلاق کی تشہیر یا اس کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ جہاں میاں بیوی کے درمیان صلح اور تعلقات کی بحالی ممکن ہو، وہاں کوشش ضرور کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تصور درست نہیں کہ اگر کوئی شخص اللّٰہ کی رضا کے لیے بڑی قربانیاں دے تو اس کی ازدواجی زندگی لازمی طور پر کامیاب ہی رہے گی۔ ان کے مطابق ہر انسان کی زندگی، اس کی آزمائشیں اور تعلقات تقدیر کے تابع ہوتے ہیں۔سابقہ اداکارہ نے اپنی علیحدگی کے بارے میں مختصراً بات کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں فریقین نے اپنی شادی کو برقرار رکھنے کے لیے بھرپور کوشش کی، لیکن ایک وقت ایسا آیا جب محسوس ہوا کہ مزید ساتھ چلنا ممکن نہیں رہا، جس کے بعد باہمی رضامندی سے علیحدگی کا فیصلہ کیا گیا۔ایک سوال کے جواب میں سارہ چوہدری نے کہا کہ انہیں اپنی زندگی کے کسی فیصلے یا واقعے پر کوئی پچھتاوا نہیں۔ ان کے بقول دین کی بہتر سمجھ نے انہیں یہ سکھایا ہے کہ زندگی میں پیش آنے والی ہر چیز اللّٰہ کی مرضی اور تقدیر کا حصہ ہے، اس لیے ماضی پر افسوس کرنے کے بجائے اسے قبول کرنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ اللّٰہ نے ہر انسان میں خوبیاں اور خامیاں رکھی ہیں اور ہر شخص کی برداشت کی ایک حد ہوتی ہے، اسی لیے بعض اوقات تمام تر کوششوں کے باوجود رشتے برقرار نہیں رہ پاتے۔

More posts