خیبر پختونخوا میں گزشتہ کئی برسوں سے قائم حکومت کے تعلیمی دعووں کے برعکس صوبے کی سب سے بڑی درسگاہ جامعہ پشاور شدید مالی بحران سے دوچار ہے۔ پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کی جانب سے وزیراعلیٰ کو لکھے گئے خط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ادارہ اس وقت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جامعہ پشاور کے ملازمین کو تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ مارچ کی آدھی تنخواہیں ادا نہ ہونا اور تقریباً 162 ملین روپے کی پنشن روک دی جانا اس بحران کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس صورتحال نے اساتذہ اور دیگر ملازمین کو شدید ذہنی اور معاشی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔
اساتذہ تنظیم کے مطابق حکومتی سطح پر جامعات کے لیے گرانٹس میں کمی اور مالی خودمختاری کے نام پر اداروں کو وسائل کے بغیر چھوڑ دیا گیا ہے، جس کے باعث تعلیمی ادارے مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔ اساتذہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
پیوٹا نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ جامعہ پشاور کے لیے فوری طور پر 4 ارب روپے کی گرانٹ فراہم کی جائے اور پنشن فنڈ کو بحال کیا جائے تاکہ ملازمین کو ریلیف مل سکے اور ادارہ معمول کے مطابق کام جاری رکھ سکے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف ترقیاتی منصوبوں اور تشہیری مہمات پر بھاری اخراجات کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف تعلیمی ادارے بنیادی مالی مسائل کا شکار ہیں، جو حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھاتا ہے۔
جامعہ پشاور مالی بحران کا شکار، اساتذہ کا احتجاج
