اسلام آباد میں گزشتہ 12 برس کے دوران صرف سات نئے سرکاری اسکول قائم کیے جانے کا انکشاف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں ہوا، جہاں وفاقی دارالحکومت میں اسکول سے باہر بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور تعلیمی سہولیات کی کمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
نوید قمر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں سال 2014 سے اسکول سے باہر بچوں کی تعداد میں اضافے سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری تعلیم نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2014 سے اب تک اسلام آباد میں صرف سات نئے اسکول تعمیر کیے گئے ہیں، حالانکہ اس دوران آبادی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزارتِ تعلیم نے کئی بار ترقیاتی بجٹ کے لیے وزارت منصوبہ بندی سے رجوع کیا، تاہم مطلوبہ فنڈز فراہم نہیں کیے گئے۔ اس پر کمیٹی کے چیئرمین نوید قمر نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں تعلیم کو ترجیح نہیں دی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مالی مشکلات ہیں تو دیگر ترقیاتی منصوبوں میں بھی اسی تناسب سے کٹوتی ہونی چاہیے، کیونکہ سڑکوں اور عمارتوں سے زیادہ اہم سرمایہ کاری انسانی وسائل پر ہوتی ہے۔
نوید قمر نے کہا کہ آبادی بڑھ رہی ہے لیکن اس کے مطابق نئے اسکول نہیں بن رہے، جو ایک ناکام پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
اجلاس کے دوران رکن کمیٹی امین الحق نے بھی سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں اسکولوں میں داخلوں کے لیے لوگ سفارشیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں، جبکہ ہزاروں بچے اب بھی تعلیم سے محروم ہیں۔ انہوں نے سیکرٹری تعلیم سے استفسار کیا کہ اگر یہ صورتحال برقرار ہے تو متعلقہ انتظامیہ کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔
ڈی جی فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے بتایا کہ 2021 میں وفاقی اسکولوں میں 96 ہزار لڑکے اور ایک لاکھ 28 ہزار لڑکیاں زیر تعلیم تھیں، جبکہ 2024 تک یہ تعداد بڑھ کر 99 ہزار لڑکے اور ایک لاکھ 29 ہزار لڑکیاں ہو گئی۔ ان کے مطابق فی کلاس اوسطاً 32 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔
آڈٹ حکام نے اجلاس کو بتایا کہ 2014 سے اب تک فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کو 31 پلاٹ فراہم کیے گئے، تاہم ان پر خاطر خواہ تعلیمی منصوبے مکمل نہیں ہو سکے۔ آڈیٹر جنرل نے ڈیلی ویجز اساتذہ کے مسئلے کو بھی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیر مستقل ملازمت رکھنے والا استاد مؤثر انداز میں تدریسی ذمہ داریاں انجام نہیں دے سکتا۔
سیکرٹری تعلیم نے بتایا کہ 2023 سے اب تک ایک ہزار اساتذہ بھرتی کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید تقریباً 900 اساتذہ کی بھرتی کا عمل فیڈرل پبلک سروس کمیشن میں جاری ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ دو ماہ کے اندر وفاقی دارالحکومت میں تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے جامع پالیسی تیار کر کے کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کی جائے گی۔
اسلام آباد میں 12 برس میں صرف 7 نئے اسکول، پارلیمانی کمیٹی میں تعلیمی بحران پر تشویش
