تہران: ایران کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے امریکا اور اسرائیل کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران ایران پر کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کا جواب انتہائی سخت اور ایسا ہوگا جس پر حملہ آوروں کو ہمیشہ پچھتانا پڑے گا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے مخالفین کسی بھی غلط اندازے سے گریز کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی مسلح افواج ملک کی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج ہر قسم کے خطرے کا فوری، مؤثر اور بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن اگر موجودہ صورتحال کا غلط اندازہ لگانے کی کوشش کرے گا تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔
ایرانی حکام کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات 4 جولائی سے 9 جولائی تک ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں منعقد ہوں گی۔ اس سلسلے میں تہران، قم اور مشہد میں بڑے عوامی اجتماعات ہوں گے جبکہ عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا میں بھی خصوصی تقریبات اور تعزیتی اجتماعات کا انعقاد کیا جائے گا۔
ایران کا کہنا ہے کہ یہ کئی روزہ تقریبات نہ صرف قومی سطح پر اہمیت رکھتی ہیں بلکہ خطے بھر کے عوام اور مختلف ممالک سے آنے والے وفود بھی ان میں شرکت کریں گے۔ اسی وجہ سے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ تمام تقریبات پرامن ماحول میں مکمل ہو سکیں۔
ایرانی حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک کی مسلح افواج ہر ممکن خطرے پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی بیرونی جارحیت یا اشتعال انگیزی کا فوری جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے اور عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ایران کا امریکا اور اسرائیل کو سخت انتباہ، آخری رسومات کے دوران کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کی دھمکی
