Baaghi TV

تجاوزات کے خلاف کاروائی،اسلام آباد کلب اور گن اینڈ کنٹری کلب کی دستاویزات کی چھان بین

وفاقی دارالحکومت میں جاری انسدادِ تجاوزات مہم نے اب اشرافیہ کے مراکز کا رخ کر لیا، جہاں حکام نے بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا انکشاف کرتے ہوئے واضح پیغام دیا ہے کہ قانون کی نظر میں کوئی بھی بالاتر نہیں۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد کلب کے تقریباً 52 کنال رقبے کو جانچ پڑتال کے دائرے میں لایا گیا ہے، جہاں زمین کے استعمال اور الاٹمنٹ سے متعلق دستاویزات کی چھان بین جاری ہے۔ اسی طرح گنز اینڈ کنٹری کلب کا 252 کنال وسیع رقبہ بھی حکام کی نظر میں آ گیا ہے، جس کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ زمین نہ تو باضابطہ لیز پر ہے اور نہ ہی اس کی کوئی قانونی الاٹمنٹ موجود ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انسدادِ تجاوزات آپریشن بلا امتیاز جاری رہے گا اور کسی بھی ادارے یا شخصیت کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔ حکام کے مطابق سرکاری اراضی پر ناجائز قبضوں کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں، چاہے اس کا تعلق عام افراد سے ہو یا بااثر حلقوں سے۔

علاوہ ازیں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے انسدادِ تجاوزات آپریشن کی نگرانی کی، جس کے دوران کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے گرین بیلٹ پر قائم ایف سی کیمپ آفس کو مسمار کر دیا، بظاہر دیگر قابضین کو سخت پیغام دینے کے لیے یہ اقدام اٹھایا گیا،وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز آپریشن جاری ہے۔ کارروائی کے دوران میریٹ ہوٹل اور ایوب چوک کے قریب گرین بیلٹ پر قائم ایف سی کیمپ آفس کو بھی گرا دیا گیا۔اعلامیے کے مطابق یہ آپریشن وزیر داخلہ محسن نقوی کی نگرانی میں کیا گیا، جن کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔ غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کو بغیر کسی دباؤ اور امتیاز کے ختم کیا جا رہا ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ ایف سی کیمپ آفس کے لیے متبادل قانونی جگہ فراہم کی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تجاوزات اور لینڈ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے، اور کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کو ریاستی زمین پر قبضہ یا تعمیر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسلام آباد کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنا اور تجاوزات کا مکمل خاتمہ اولین ترجیح ہے۔ اعلامیے کے مطابق اس موقع پر چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف بھی موجود تھے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ سی ڈی اے کے ریکارڈ کے مطابق اسلام آباد کلب تقریباً 52 کنال اراضی پر غیر قانونی قبضے میں ہے، تاہم کلب انتظامیہ اس دعوے سے اختلاف کرتے ہوئے کہتی ہے کہ وہ اس معاملے کے حل کے لیے سی ڈی اے سے رابطے میں ہے۔اسی طرح گن اینڈ کنٹری کلب، جو 252 کنال پر قائم ہے، کے پاس بھی سی ڈی اے کی جانب سے کوئی الاٹمنٹ یا لیز دستاویز موجود نہیں ہے۔

حال ہی میں سی ڈی اے کے ایک افسر نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ سرکاری زمین واگزار کرانے کے لیے ان دونوں کلبوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔مزید برآں، سی ڈی اے کے اپنے ریکارڈ کے مطابق تقریباً 40 ہاؤسنگ سوسائٹیز کے زیر قبضہ 15 ہزار کنال امینٹی لینڈ موجود ہے۔ ان سوسائٹیز نے اپنے لے آؤٹ پلان جمع کراتے وقت یہ زمین سی ڈی اے کے حوالے کرنے کا وعدہ کیا تھا۔یہ امینٹی لینڈ سڑکوں، گرین بیلٹس، قبرستانوں، مساجد، اسکولوں اور پارکس کے لیے مختص تھی، تاہم کئی کیسز میں ہاؤسنگ سوسائٹیز نے اس زمین پر رہائشی اور کمرشل پلاٹس بنا لیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ معاملہ قومی احتساب بیورو کی نظر میں بھی ہے۔اسی طرح متعدد نجی گھروں کے مالکان نے بھی مختلف سیکٹرز میں اپنے گیراج اور لان بڑھا کر گرین بیلٹس اور خالی اراضی پر تجاوزات قائم کر رکھی ہیں۔

سی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران تجاوزات کے خلاف ادارے کی کارکردگی مؤثر رہی ہے، اور بری امام، سید پور اور بعض کچی آبادیوں میں بڑی مقدار میں سرکاری زمین واگزار کرائی گئی ہے۔ حکام کے مطابق مارکیٹوں سے تجاوزات کے خاتمے کے لیے بھی آپریشن جاری ہے۔

More posts