چینی سیٹلائٹس کی مدد سے حاصل ہونے والی تصاویر اور معلومات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا نے خاموشی سے اپنے جدید میزائل دفاعی نظام، تھاڈ (THAAD) اور پیٹریاٹ بیٹریاں اردن اور قریبی خطے میں منتقل کر دی ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی نہایت نازک مرحلے میں ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ تعیناتی 2026 کے اوائل میں کی گئی، جس کا مقصد خطے میں امریکی افواج کو ممکنہ خطرات خصوصاً ایرانی ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اردن کے موافق السلطی ایئر بیس پر مکمل تھاڈ بیٹری نصب کی گئی ہے، جس میں جدید AN/TPY-2 ریڈار سسٹم بھی شامل ہے، تاہم اس ریڈار کو کچھ تکنیکی مسائل کا سامنا بھی رہا۔
تفصیلات کے مطابق اس تعیناتی میں متعدد تھاڈ اور پیٹریاٹ سسٹمز شامل ہیں، جو خطے میں فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ایک اہم اسٹریٹجک قدم ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام نقل و حرکت چینی کمرشل سیٹلائٹس کے ذریعے منظر عام پر آئی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں اب صرف زمین پر نہیں بلکہ خلا میں بھی ایک دوسرے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال نے امریکا، چین اور ایران کے درمیان مقابلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جہاں میزائل ٹیکنالوجی، نگرانی اور خلائی انٹیلی جنس اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
مزید برآں، اطلاعات کے مطابق کچھ تھاڈ بیٹریاں جنوبی کوریا جیسے دیگر علاقوں سے منتقل کر کے مشرق وسطیٰ لائی گئی ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ امریکا خطے میں اپنی دفاعی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہا ہے۔
Blog
-

چینی سیٹلائٹس نے اردن میں امریکی میزائل دفاعی نظام کی نقل و حرکت بے نقاب کر دی
-

بنوں آپریشن میں دو دہشت گرد ہلاک، خودکش حملوں کا سہولت کار بھی جہنم واصل
بنوں میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کامیاب آپریشن کرتے ہوئے دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق مارے گئے دہشت گردوں میں اہم نام وحیداللہ عرف مختیار کا بھی شامل ہے، جو متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں مطلوب تھا۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق وحیداللہ نہ صرف بنوں میں ہونے والے خودکش حملے کا مرکزی سہولت کار تھا بلکہ مختلف حملوں میں بھی ملوث رہا۔ بتایا گیا ہے کہ 21 فروری کو بنوں میں ہونے والے خودکش حملے کے حملہ آور کو ہینڈل کرنے والا بھی یہی دہشت گرد تھا، جسے اس آپریشن کے دوران انجام تک پہنچایا گیا۔
فوجی حکام کے مطابق یہ کارروائی انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دی گئی، جس میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ آپریشن کے دوران کسی بھی شہری نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی، جو سیکیورٹی فورسز کی مؤثر حکمت عملی کا ثبوت ہے۔
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ اس کامیاب کارروائی کے ذریعے لیفٹیننٹ کرنل گل فراز کی شہادت کا بدلہ بھی لے لیا گیا ہے۔ سیکیورٹی اداروں کا عزم ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ایسی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
دوسری جانب صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز کی اس کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فورسز کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ -

اسرائیلی جدید ایتان ڈرون مار گرایا گیا: ایران
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ کشیدہ صورتحال کے دوران ایران کے مربوط فضائی دفاعی نظام نے اسرائیل کا جدید ترین ’ایتان‘ (Heron TP) اسٹریٹجک ڈرون تباہ کر دیا۔ اس پیش رفت کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق جدید ٹیکنالوجی سے لیس فضائی دفاعی نیٹ ورک نے دشمن کے ڈرونز کی بروقت نشاندہی، مسلسل نگرانی اور درست ہدف بندی کے ذریعے انہیں اپنے مشن مکمل کرنے سے پہلے ہی نشانہ بنا لیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی ایک منظم حکمت عملی کے تحت کی گئی جس میں جدید ریڈار اور میزائل سسٹمز کا مؤثر استعمال کیا گیا۔
سرکاری مؤقف کے مطابق مار گرائے گئے اہداف میں ’ہیرون ٹی پی‘ یا ’ایتان‘ ڈرون نمایاں تھا، جسے اسرائیل کا ایک نہایت جدید اور اہم اسٹریٹجک ڈرون سمجھا جاتا ہے۔ یہ ڈرون طویل فاصلے تک پرواز کرنے، حساس علاقوں کی نگرانی کرنے اور اہم معلومات جمع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسی لیے اسے جدید جنگی حکمت عملی میں خاص اہمیت حاصل ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ ایران کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کے لیے ایک بڑی پیش رفت سمجھی جائے گی۔ اس کے ساتھ یہ واقعہ خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے کیونکہ جدید ڈرون ٹیکنالوجی موجودہ دور کی جنگوں میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے اس دعوے پر ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جس کی وجہ سے اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق ہونا باقی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے دعوؤں کی تصدیق کے بعد ہی صورتحال کی مکمل تصویر سامنے آ سکتی ہے۔ -

اینڈرائیڈ فون چارج نہ ہو تو کیا کریں؟ آسان حل جانیں
آج کے جدید اسمارٹ فونز جہاں پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور اور مؤثر ہو چکے ہیں، وہیں ان میں خرابی کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ اینڈرائیڈ فون استعمال کرنے والے صارفین کو اکثر اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ ان کا فون چارج نہیں ہوتا یا مکمل طور پر بند ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس مسئلے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں سافٹ ویئر خرابی، بیٹری کی خرابی، یا فون کا گرنا اور نمی کا اثر شامل ہیں۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ فون کی بیٹری مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے اور صارف کو لگتا ہے کہ فون خراب ہو گیا ہے، حالانکہ اسے صرف مناسب وقت تک چارج کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر فون بالکل ڈیڈ ہو جائے تو اسے کم از کم 15 سے 30 منٹ تک چارج پر لگائے رکھنا چاہیے۔ اس دوران فون فوری طور پر آن نہیں ہوتا کیونکہ بیٹری کو ایک خاص حد تک چارج ہونا ضروری ہوتا ہے۔ لیتھیم آئیون بیٹریز میں ایک سلیپ موڈ بھی موجود ہوتا ہے جو بیٹری کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے عارضی طور پر پاور سپلائی روک دیتا ہے۔
اگر کچھ دیر چارج کرنے کے باوجود بھی فون آن نہ ہو تو سب سے پہلے چارجر، کیبل اور پاور اڈاپٹر کو اچھی طرح چیک کریں۔ اکثر مسئلہ بجلی کی ناقص فراہمی یا خراب کیبل کی وجہ سے بھی پیش آتا ہے۔
مزید یہ کہ بیٹری کی عمر بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ اسے بار بار مکمل زیرو تک ختم نہ ہونے دیا جائے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ فون کو اس وقت چارج کریں جب بیٹری 20 فیصد تک آ جائے اور اسے 80 فیصد تک چارج رکھنا بہتر ہوتا ہے۔ -

روس میں بم حملے کی سازش ناکام، جرمن خاتون گرفتار
روس میں ایک مبینہ بم حملے کی بڑی سازش کو ناکام بنا دیا گیا ہے، جس کے بعد سکیورٹی اداروں نے ایک جرمن خاتون کو گرفتار کر لیا ہے۔ روسی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ کارروائی بروقت انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی، جس کے نتیجے میں ایک ممکنہ خطرناک حملہ ٹال دیا گیا۔
روسی سکیورٹی ایجنسی کے مطابق گرفتار خاتون کے قبضے سے ایک دیسی ساختہ بم برآمد ہوا ہے، جو اس کے بیگ میں موجود تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ خاتون جنوبی روس میں ایک حساس سکیورٹی تنصیب کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتی تھی، تاہم کارروائی سے قبل ہی اسے حراست میں لے لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق خاتون کو قفقاز کے ایک شہر سے گرفتار کیا گیا، جہاں وہ مبینہ طور پر اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے قریب تھی۔ سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ آیا وہ اکیلی کام کر رہی تھی یا اس کے پیچھے کوئی منظم نیٹ ورک موجود ہے۔
روسی حکام نے اس کارروائی کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نہ صرف ممکنہ جانی نقصان کو روکا گیا بلکہ ملک میں سکیورٹی کے نظام کی مؤثریت بھی ثابت ہوئی ہے۔
دوسری جانب اس واقعے کے بعد سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور حساس تنصیبات پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے واقعات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے جبکہ روسی حکام نے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کا عندیہ دیا ہے۔ -

امریکی حملے کے بعد ایران نے مذاکرات کو بے معنی قرار دے دیا
اسلام آباد میں جاری مذاکرات کے پہلے مرحلے کے دوران ایرانی رکنِ پارلیمنٹ سید محمود نبویان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایرانی طیارے پر حالیہ حملے کے بعد سفارتی بات چیت کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔ ان کے بیان نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مزید واضح کر دیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق سید محمود نبویان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکا نے ایک بار پھر جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران کے خلاف کھلی دشمنی دکھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں مذاکرات محض وقت کا ضیاع ہیں اور اب ایران کو اپنے دفاع کے لیے واضح اور مضبوط حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اب کسی دباؤ میں آنے والا نہیں اور قوم دشمن عناصر کے خلاف بھرپور ردعمل دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کو جلد ہی ایرانی قوم کے سخت اور فیصلہ کن جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سید محمود نبویان کے اس بیان کو ایران کے سخت مؤقف کی عکاسی قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال اسی طرح کشیدہ رہی تو خطے میں امن کی کوششوں کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
دوسری جانب عالمی برادری نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ تاہم حالیہ پیش رفت کے بعد فوری طور پر کسی مثبت پیش رفت کی امید کم دکھائی دے رہی ہے۔ -

ایران امریکا جنگ بندی کا آخری دن، توسیع کیلئے سفارتکاری تیز
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری 15 روزہ عارضی جنگ بندی اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور کل اس کی مدت ختم ہونے والی ہے، جس کے باعث خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ اس نازک صورتحال کے پیش نظر متعدد ثالث ممالک نے سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں تاکہ جنگ بندی میں توسیع ممکن بنائی جا سکے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر اس وقت سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں اور دونوں ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ ان ممالک کی اولین ترجیح یہ ہے کہ موجودہ جنگ بندی میں توسیع کی جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کو روکا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران کو مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں باضابطہ طور پر شامل کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پس پردہ کوششیں جاری ہیں اور مختلف ممالک دونوں فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے سرگرم ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ پہلے مرحلے میں ہونے والی پیش رفت کو ضائع ہونے سے بچایا جائے اور آئندہ مذاکرات میں مزید ٹھوس نتائج حاصل کیے جائیں۔
ماہرین خارجہ امور کے مطابق اگر آئندہ 24 گھنٹوں میں جنگ بندی میں توسیع نہ ہو سکی تو خطے میں بحری اور فضائی سرگرمیوں میں دوبارہ شدت آ سکتی ہے، جس کے عالمی سطح پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے حساس علاقوں میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور ترکیہ ایران پر اثر انداز ہو سکتے ہیں جبکہ پاکستان اور مصر امریکہ کو مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ -

ایران امریکا کشیدگی، تیل کی قیمت دوبارہ 95 ڈالر سے تجاوز
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اس کے اثرات براہ راست توانائی کی عالمی منڈیوں پر دیکھے جا رہے ہیں۔ تازہ صورتحال کے مطابق خام تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور برینٹ کروڈ 95 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا ہے، جو ایک اہم نفسیاتی حد سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق خلیج فارس میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جہازرانی کے متاثر ہونے سے عالمی سپلائی چین کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ یہ آبی راستہ دنیا کی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سطح پر توانائی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمتوں میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف توانائی کے شعبے کو متاثر کیا ہے بلکہ دیگر مالیاتی منڈیوں میں بھی بے چینی پیدا کر دی ہے۔
یورپی اسٹاک مارکیٹس شدید دباؤ کا شکار ہیں اور اہم انڈیکسز میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ایشیائی مارکیٹس میں ابتدا میں معمولی بہتری دیکھی گئی تاہم جلد ہی سرمایہ کاروں نے منافع سمیٹنا شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ دوبارہ مندی کی طرف چلی گئی۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں میں اس وقت شدید خوف اور غیر یقینی صورتحال پائی جا رہی ہے۔ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی نہ آئی تو دنیا ایک نئی مہنگائی کی لہر کا سامنا کر سکتی ہے، جس کے اثرات خاص طور پر ترقی پذیر ممالک پر زیادہ ہوں گے جہاں توانائی کی قیمتیں پہلے ہی عوام کے لیے بوجھ بنی ہوئی ہیں۔ -

صادق خان کی پاکستان کی سفارتی کامیابی پر تعریف
میئر لندن صادق خان نے عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں پاکستان نے نہایت اہم اور مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے کہ دونوں حریف ممالک پاکستان پر اعتماد کر رہے ہیں۔
لندن کے معروف ٹریفالگر اسکوائر میں بیساکھی میلے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صادق خان نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششیں نہ صرف قابل تعریف ہیں بلکہ ہر پاکستانی کے لیے باعث فخر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں جب دنیا کو امن کی اشد ضرورت ہے، پاکستان کا کردار امید کی ایک کرن بن کر سامنے آیا ہے۔
صادق خان نے اپنے خطاب میں ایک دلچسپ نکتہ بھی اٹھایا اور کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو عام طور پر کسی کی تعریف نہیں کرتے، وہ بھی ان دنوں پاکستان کی تعریف کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ بات اس امر کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کے لوگ چاہتے ہیں کہ موجودہ جنگ بندی مستقل شکل اختیار کرے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خطے میں امن قائم ہوتا ہے تو اس کے مثبت اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔ -

نیتن یاہو کی مذمت، فوجی کی جانب سے مجسمہ حضرت عیسیٰ کی بے حرمتی پر ردعمل
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کو نقصان پہنچانے کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب سوشل میڈیا پر ایک تصویر تیزی سے وائرل ہوئی جس میں ایک اسرائیلی فوجی کو ہتھوڑے کے ذریعے مجسمے پر وار کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وہ اور اسرائیل کی بڑی اکثریت اس واقعے پر دلی طور پر رنجیدہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں بلکہ خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی فوج کے اعلیٰ حکام اس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں اور اس میں ملوث اہلکار کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل خود کو ایک ایسا ملک قرار دیتا ہے جہاں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو عبادت کی آزادی حاصل ہے اور اس اصول کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اسرائیل اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتا ہے اور اس سے متاثر ہونے والے افراد سے معذرت خواہ ہے۔ ان کے بیان کا مقصد عالمی سطح پر پیدا ہونے والی تشویش کو کم کرنا اور مذہبی ہم آہنگی کے حوالے سے اپنے مؤقف کو واضح کرنا تھا۔
دوسری جانب اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی نے بھی اس واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی پائی جاتی ہے، اور اس طرح کے واقعات صورتحال کو مزید حساس بنا سکتے ہیں۔