Baaghi TV

ایران امریکا کشیدگی، تیل کی قیمت دوبارہ 95 ڈالر سے تجاوز

‎ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اس کے اثرات براہ راست توانائی کی عالمی منڈیوں پر دیکھے جا رہے ہیں۔ تازہ صورتحال کے مطابق خام تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور برینٹ کروڈ 95 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا ہے، جو ایک اہم نفسیاتی حد سمجھی جاتی ہے۔
‎ماہرین کے مطابق خلیج فارس میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جہازرانی کے متاثر ہونے سے عالمی سپلائی چین کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ یہ آبی راستہ دنیا کی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سطح پر توانائی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
‎اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمتوں میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف توانائی کے شعبے کو متاثر کیا ہے بلکہ دیگر مالیاتی منڈیوں میں بھی بے چینی پیدا کر دی ہے۔
‎یورپی اسٹاک مارکیٹس شدید دباؤ کا شکار ہیں اور اہم انڈیکسز میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ایشیائی مارکیٹس میں ابتدا میں معمولی بہتری دیکھی گئی تاہم جلد ہی سرمایہ کاروں نے منافع سمیٹنا شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ دوبارہ مندی کی طرف چلی گئی۔
‎معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں میں اس وقت شدید خوف اور غیر یقینی صورتحال پائی جا رہی ہے۔ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی نہ آئی تو دنیا ایک نئی مہنگائی کی لہر کا سامنا کر سکتی ہے، جس کے اثرات خاص طور پر ترقی پذیر ممالک پر زیادہ ہوں گے جہاں توانائی کی قیمتیں پہلے ہی عوام کے لیے بوجھ بنی ہوئی ہیں۔

More posts