Baaghi TV

امریکی حملے کے بعد ایران نے مذاکرات کو بے معنی قرار دے دیا

‎اسلام آباد میں جاری مذاکرات کے پہلے مرحلے کے دوران ایرانی رکنِ پارلیمنٹ سید محمود نبویان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایرانی طیارے پر حالیہ حملے کے بعد سفارتی بات چیت کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔ ان کے بیان نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مزید واضح کر دیا ہے۔
‎ایرانی میڈیا کے مطابق سید محمود نبویان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکا نے ایک بار پھر جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران کے خلاف کھلی دشمنی دکھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں مذاکرات محض وقت کا ضیاع ہیں اور اب ایران کو اپنے دفاع کے لیے واضح اور مضبوط حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
‎انہوں نے مزید کہا کہ ایران اب کسی دباؤ میں آنے والا نہیں اور قوم دشمن عناصر کے خلاف بھرپور ردعمل دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کو جلد ہی ایرانی قوم کے سخت اور فیصلہ کن جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سید محمود نبویان کے اس بیان کو ایران کے سخت مؤقف کی عکاسی قرار دیا جا رہا ہے۔
‎تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال اسی طرح کشیدہ رہی تو خطے میں امن کی کوششوں کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
‎دوسری جانب عالمی برادری نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ تاہم حالیہ پیش رفت کے بعد فوری طور پر کسی مثبت پیش رفت کی امید کم دکھائی دے رہی ہے۔

More posts