ایران اور امریکہ کے درمیان جاری 15 روزہ عارضی جنگ بندی اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور کل اس کی مدت ختم ہونے والی ہے، جس کے باعث خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ اس نازک صورتحال کے پیش نظر متعدد ثالث ممالک نے سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں تاکہ جنگ بندی میں توسیع ممکن بنائی جا سکے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر اس وقت سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں اور دونوں ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ ان ممالک کی اولین ترجیح یہ ہے کہ موجودہ جنگ بندی میں توسیع کی جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کو روکا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران کو مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں باضابطہ طور پر شامل کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پس پردہ کوششیں جاری ہیں اور مختلف ممالک دونوں فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے سرگرم ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ پہلے مرحلے میں ہونے والی پیش رفت کو ضائع ہونے سے بچایا جائے اور آئندہ مذاکرات میں مزید ٹھوس نتائج حاصل کیے جائیں۔
ماہرین خارجہ امور کے مطابق اگر آئندہ 24 گھنٹوں میں جنگ بندی میں توسیع نہ ہو سکی تو خطے میں بحری اور فضائی سرگرمیوں میں دوبارہ شدت آ سکتی ہے، جس کے عالمی سطح پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے حساس علاقوں میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور ترکیہ ایران پر اثر انداز ہو سکتے ہیں جبکہ پاکستان اور مصر امریکہ کو مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ایران امریکا جنگ بندی کا آخری دن، توسیع کیلئے سفارتکاری تیز
