لاس اینجلس: معروف امریکی ریئلٹی ٹی وی اسٹار اور کاروباری شخصیت کائلی جینر ایک نئے قانونی تنازع کا سامنا کر رہی ہیں، جہاں ان کی سابق نجی شیف نے الزام عائد کیا ہے کہ حمل کے دوران غیر معمولی اور جسمانی طور پر سخت کام لینے کے باعث ان کا اسقاط حمل ہوگیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق شیف نے لاس اینجلس سپیریئر کورٹ میں دائر مقدمے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہیں 2024 کے آخر میں ملازمت پر رکھا گیا تھا۔ انہوں نے دسمبر 2024 میں اپنے سپروائزرز کو آگاہ کر دیا تھا کہ وہ تین ماہ کی حاملہ ہیں اور ان کا حمل خطرناک نوعیت کا ہے، اس لیے انہیں کام کے دوران خصوصی سہولیات اور احتیاط کی ضرورت ہوگی۔مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس اطلاع کے باوجود انہیں ہفتے میں پانچ دن مسلسل 11 سے 12 گھنٹے کام کروایا جاتا رہا اور آرام یا مناسب سہولت فراہم نہیں کی گئی۔ شکایت کے مطابق نئے سال کی شام انہیں بھاری خوراک اور سامان بغیر کسی مدد کے ایک جگہ سے دوسری جگہ اور ڈھلوان راستے پر منتقل کرنے کا حکم دیا گیا، جس کے باعث ان کی طبیعت بگڑ گئی، سانس لینے میں دشواری ہوئی اور انہیں چکر آنے لگے۔ صورتحال اس قدر خراب ہوئی کہ موقع پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں پانی اور ابتدائی امداد فراہم کی۔
درخواست گزار نے مزید الزام لگایا کہ یکم فروری 2025 کے قریب، جب وہ پانچ ماہ کی حاملہ تھیں، انہیں کائلی جینر کے بچے کی سالگرہ کی تقریب کے لیے پام اسپرنگز میں تعینات کیا گیا، جہاں تقریب کے بڑے انتظامات کے باوجود اضافی عملہ فراہم نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق جب انہوں نے کام کے بوجھ میں کمی اور مدد کی درخواست کی تو اسے نظر انداز کر دیا گیا۔مقدمے کے متن کے مطابق تقریب کے دوران شدید جسمانی تھکن اور دباؤ کے باعث وہ جذباتی طور پر ٹوٹ گئیں۔ اگلی صبح انہیں شدید خون بہنے کی شکایت ہوئی اور وہ خود گاڑی چلا کر اسپتال پہنچیں، جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچے کی دل کی دھڑکن بند ہو چکی ہے اور اسقاط حمل ہو گیا ہے۔
شیف کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس افسوسناک واقعے سے اپنے سپروائزرز کو آگاہ کیا، مگر ہمدردی کے بجائے ان پر تقریب کے بعد کچن اور ریفریجریٹر کو بے ترتیبی سے چھوڑنے کا الزام لگا دیا گیا۔ مقدمے میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ چند روز بعد انہیں دوبارہ شدید خون بہنے کا سامنا کرنا پڑا، وہ اپنے گھر کے باتھ روم میں بے ہوش ہوگئیں اور بعد ازاں شدید ذہنی دباؤ اور ڈپریشن میں مبتلا ہو گئیں۔درخواست گزار نے مزید الزام لگایا کہ ایک سپروائزر نے انہیں کہا، "بس کریں، آپ کائلی کو پریشان کر رہی ہیں، وہ بھی افسردہ ہو رہی ہیں۔”
سابق شیف نے مقدمے میں حمل کی بنیاد پر امتیازی سلوک، ہراسانی، مناسب طبی سہولیات فراہم نہ کرنے، غیر قانونی برطرفی، اجرت سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی اور انہیں آزاد کنٹریکٹر ظاہر کرنے جیسے الزامات عائد کرتے ہوئے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں تمام کام کے اوقات کی مکمل ادائیگی نہیں کی گئی۔درخواست کے مطابق انہوں نے بعد ازاں متعلقہ مینجمنٹ کمپنی کو بھی تحریری شکایت ارسال کی، تاہم مسئلہ حل نہ ہونے پر عدالت سے رجوع کیا۔ مقدمے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مئی 2025 میں انہیں قانونی کارروائی سے دستبردار ہونے کے بدلے تصفیے کی پیشکش کی گئی تھی۔
دوسری جانب کائلی جینر یا ان کے نمائندوں کی جانب سے ان الزامات پر تاحال باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یاد رہے کہ یہ دو ماہ سے بھی کم عرصے میں کائلی جینر کے خلاف دائر ہونے والا تیسرا مقدمہ ہے،
