ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ کسی شخص کی پہلی بار جنسی تعلق قائم کرنے کی عمر مستقبل میں اس کی صحت اور بڑھاپے کے معیار پر اثر ڈال سکتی ہے۔
محققین کے مطابق کم عمری میں جنسی زندگی کا آغاز کرنے والے افراد میں عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی کمزوری، ذہنی مسائل اور بعض دائمی بیماریوں کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہو سکتا ہے، تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ صرف ایک رویہ کسی شخص کی پوری زندگی یا صحت کا تعین نہیں کرتا۔چین کی شیڈونگ یونیورسٹی کے محققین نے ایک بڑے جینیاتی ڈیٹا بیس کا تجزیہ کرتے ہوئے ایسے جینیاتی عوامل کی نشاندہی کی جو اس عمر سے تعلق رکھتے ہیں جس میں افراد پہلی بار جنسی تعلق قائم کرتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا جلد یا دیر سے جنسی زندگی شروع کرنے سے وابستہ جینیاتی خصوصیات کا بڑھاپے میں صحت اور معیارِ زندگی سے بھی کوئی تعلق موجود ہے۔تحقیق کے مطابق جن افراد میں کم عمری میں جنسی تعلقات شروع کرنے سے متعلق جینیاتی رجحانات پائے گئے، ان میں بڑھاپے کے دوران جسمانی کمزوری ، کمزور صحت اور طویل عمر سے متعلق منفی اشاریے نسبتاً زیادہ دیکھے گئے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف کائشیان وانگ کے مطابق ٹیم نے اس تعلق کی ممکنہ وجوہات جاننے کے لیے 145 مختلف عوامل کا جائزہ لیا، جن میں سے 34 کو مزید تحقیق کے لیے اہم قرار دیا گیا۔محققین کے مطابق چار عوامل اس تعلق میں سب سے زیادہ نمایاں رہے، جن میں جسمانی کمزوری، ذہنی پریشانی یا اداسی، دائمی رکاوٹی پھیپھڑوں کی بیماری اور توجہ کی کمی و حد سے زیادہ سرگرمی کی خرابی شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کم عمری میں جنسی سرگرمی اور خراب صحت کے درمیان کوئی تعلق موجود ہے تو ان بیماریوں اور نفسیاتی مسائل کا اس میں اہم کردار ہو سکتا ہے۔وانگ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس تحقیق کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ صرف پہلی بار جنسی تعلق قائم کرنے کی عمر ہی مستقبل کی صحت کا فیصلہ کرتی ہے، بلکہ ابتدائی زندگی کے مختلف تجربات اکثر ذہنی صحت، دائمی بیماریوں اور جسمانی صلاحیت میں کمی جیسے عوامل کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں، جو وقت گزرنے کے ساتھ صحت پر مجموعی اثر ڈالتے ہیں۔
تحقیق کے شریک مصنف لونگ سن کے مطابق نتائج اس بات کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں کہ نوجوانی ہی سے صحت کے خطرات کی بروقت روک تھام اور مناسب مداخلت کی جائے تاکہ بعد کی زندگی میں بیماریوں اور جسمانی کمزوری کے امکانات کم کیے جا سکیں۔محققین نے یہ بھی کہا کہ جامع جنسی صحت کی تعلیم اور ایسے نوجوانوں کی بہتر رہنمائی ضروری ہے جو مختلف سماجی یا نفسیاتی خطرات کا سامنا کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ میں نوجوان پہلے کی نسبت زیادہ عمر میں جنسی تعلقات قائم کر رہے ہیں۔ قومی سرویز کے مطابق امریکیوں میں پہلی بار جنسی تعلق قائم کرنے کی اوسط عمر تقریباً 17 سال ہے، تاہم حالیہ برسوں میں اس عمر میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق جنریشن زی میں جنسی سرگرمیوں میں تاخیر کی وجوہات میں اسکرین ٹائم میں اضافہ، ڈیٹنگ کلچر میں تبدیلی، ذہنی صحت کے بڑھتے مسائل اور کووڈ-19 وبا کے اثرات شامل ہیں۔ بعض ماہرین اس رجحان کو "سیکس ریسیشن” کا نام بھی دیتے ہیں۔ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ اس تحقیق سے صرف ایک تعلق ظاہر ہوتا ہے، نہ کہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ کم عمری میں جنسی تعلقات براہِ راست بڑھاپے میں خراب صحت کا سبب بنتے ہیں۔ اس لیے ان نتائج کو دیگر سماجی، نفسیاتی اور طبی عوامل کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔
