متحدہ عرب امارات میں واٹس ایپ استعمال کرنے والے افراد، خصوصاً گروپ ایڈمنز کو خبردار کیا گیا ہے کہ گروپس میں شیئر کیا جانے والا مواد ان کے لیے قانونی مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس پر ہونے والی گفتگو کو مکمل طور پر نجی تصور کرنا ایک بڑی غلط فہمی ہے، کیونکہ قانون کے تحت ایسے پیغامات کو باقاعدہ اشاعت سمجھا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی پیغام کو آگے بھیجنا یا شیئر کرنا بھی سائبر کرائم قوانین کے تحت جرم بن سکتا ہے، خاص طور پر اگر وہ مواد گمراہ کن، توہین آمیز یا کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والا ہو۔ اس کے علاوہ بغیر اجازت کسی کی ذاتی گفتگو یا اسکرین شاٹس شیئر کرنا بھی سنگین قانونی نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
قانونی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اکثر صارفین یہ سمجھتے ہیں کہ پرائیویٹ گروپس محفوظ ہوتے ہیں، مگر حقیقت میں حکام ان پیغامات کو بھی قانونی طور پر ذمہ دارانہ اشاعت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک سادہ سا فارورڈ بھی کسی فرد کو قانونی گرفت میں لا سکتا ہے۔
اماراتی سائبر کرائم قانون کے تحت نہ صرف وہ شخص ذمہ دار ہو سکتا ہے جو مواد تخلیق کرے بلکہ وہ افراد بھی برابر کے ذمہ دار سمجھے جا سکتے ہیں جو اسے آگے پھیلاتے ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی گروپ ایڈمن غیر قانونی مواد کو جاننے کے باوجود گروپ میں رہنے دیتا ہے تو وہ بھی قانونی کارروائی کی زد میں آ سکتا ہے۔
قانون کے مطابق ایسے جرائم پر بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں، جو ڈھائی لاکھ درہم سے لے کر پانچ لاکھ درہم یا اس سے زائد تک ہو سکتے ہیں، جبکہ سنگین صورتوں میں قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔
واٹس ایپ گروپ ایڈمنز کیلئے سخت وارننگ، شیئرنگ پر قانونی خطرہ
