ملک بھر میں گیس کے نئے کنکشنز کی فراہمی پر ایک بار پھر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس کا اطلاق گھریلو اور کمرشل دونوں صارفین پر ہوگا۔ وزارتِ پیٹرولیم کے ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ بڑھتے ہوئے مالی دباؤ اور مہنگی درآمدی گیس کے باعث کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں نئے کنکشنز آر ایل این جی پر فراہم کیے جا رہے تھے، جو عام گیس کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگی ہے۔ اس کے نتیجے میں صارفین کو گیس کے بل چار گنا تک زیادہ ادا کرنا پڑ رہے تھے، جس سے عوامی سطح پر بھی شکایات میں اضافہ ہوا۔
یاد رہے کہ حکومت نے چند ماہ قبل ہی نئے گیس کنکشنز پر عائد پابندی ختم کی تھی، تاہم اب دوبارہ پابندی عائد کیے جانے سے شہریوں اور کاروباری حلقوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق نئے کنکشن کے حصول کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا تھا۔ ڈیمانڈ نوٹس کی فیس 6500 روپے سے بڑھا کر 23500 روپے کر دی گئی تھی، جبکہ ترجیحی بنیادوں پر کنکشن لینے والے صارفین سے مزید 25000 روپے اضافی وصول کیے جا رہے تھے۔ اس طرح ایک نئے آر ایل این جی کنکشن کے لیے مجموعی لاگت تقریباً 50 ہزار روپے تک پہنچ گئی تھی۔
ملک بھر میں نئے گیس کنکشنز پر دوبارہ پابندی عائد
