امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے بعد مسلم ممالک کو “ابراہیمی معاہدے” کا حصہ بن جانا چاہیے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہو رہی ہے اور امریکا ایک جامع اور مؤثر معاہدے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یا تو ایک بہترین معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا، اور اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے جو پہلے سے زیادہ شدید ہوگی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی فریق جنگ نہیں چاہتا، اسی لیے تمام کوششیں سفارتی حل کی جانب مرکوز ہیں۔
امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ہفتے کے روز سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان آل ثانی، پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے تفصیلی گفتگو کی۔
ٹرمپ کے مطابق انہوں نے ان رہنماؤں سے کہا کہ امریکا کی جانب سے اس پیچیدہ مسئلے کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کے بعد یہ مناسب ہوگا کہ مسلم ممالک بیک وقت ابراہیمی معاہدے میں شامل ہوں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکیے، مصر اور اردن جیسے ممالک کو اس تاریخی معاہدے کا حصہ بننے پر غور کرنا چاہیے جبکہ متحدہ عرب امارات اور بحرین پہلے ہی اس معاہدے میں شامل ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ممکن ہے چند ممالک کے پاس معاہدے میں شامل نہ ہونے کی مخصوص وجوہات ہوں، تاہم زیادہ تر ممالک کو خطے میں امن اور استحکام کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔
ٹرمپ نے مسلم ممالک کو ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونے کا مشورہ دے دیا
