امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز کی بحالی اور جوہری پروگرام کے معاملے پر دونوں ممالک کے سخت مؤقف سامنے آ گئے ہیں۔
ایک امریکی عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ ایران کو جوہری فضلے سے دستبرداری کے بدلے ایک ڈالر بھی نہیں دیا جائے گا۔
امریکی عہدیدار کے مطابق ایران پر عائد پابندیوں میں کسی بھی قسم کی نرمی کا انحصار امریکا کی شرائط پوری کرنے پر ہوگا، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات پر۔
انہوں نے کہا کہ بحری ناکہ بندی میں نرمی بھی اسی صورت ممکن ہوگی جب ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے گا۔
امریکی حکام کے مطابق ایران کو 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا نظام مکمل طور پر معمول پر لانا ہوگا تاکہ عالمی تجارتی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
دوسری جانب ایک ایرانی عہدیدار نے امریکی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کا عمل مرحلہ وار طریقے سے مکمل کیا جائے گا۔
ایرانی حکام کے مطابق اس عمل میں سب سے پہلے سمندر میں موجود بارودی سرنگوں کو ہٹایا جائے گا جبکہ امریکا کو ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنا ہوگی۔
ایرانی عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ ایران اپنے تقریباً 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی بحالی کو بھی اس عمل کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ مذاکرات میں کچھ پیشرفت ضرور ہوئی ہے لیکن اہم معاملات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل تجارت کا انتہائی اہم راستہ ہے اور یہاں کشیدگی یا بحری رکاوٹیں عالمی معیشت اور توانائی مارکیٹ پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہیں۔
عالمی سطح پر سرمایہ کار اور حکومتیں اب امریکا ایران مذاکرات کے اگلے مرحلے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ان مذاکرات کے نتائج مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی تیل کی قیمتوں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا اور ایران کے سخت مؤقف سامنے آ گئے
