Baaghi TV


ایران جنگ کے اثرات، سوڈان میں غذائی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ

‎ایران سے جڑے حالیہ تنازع اور عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی ایندھن و کھاد کی قیمتوں نے سوڈان میں پہلے سے موجود غذائی بحران کو مزید سنگین بنانے کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔
‎سوڈان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کسانوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عالمی سطح پر ایندھن اور کھاد مہنگی ہونے کے باعث وہ اس موسم گرما میں کم کاشتکاری کرنے پر مجبور ہوں گے، جس سے خوراک کی پیداوار مزید متاثر ہو سکتی ہے۔
‎رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کسانوں اور زرعی شعبے سے وابستہ ماہرین نے بتایا کہ ایران سے متعلق کشیدگی نے ان مسائل میں اضافہ کر دیا ہے جو پہلے ہی خانہ جنگی کے باعث پیدا ہو چکے ہیں۔
‎ماہرین کے مطابق جوار، باجرہ اور تل جیسی اہم فصلیں سب سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں، جو نہ صرف مقامی خوراک بلکہ برآمدات کے لیے بھی اہم سمجھی جاتی ہیں۔
‎سوڈان اس وقت کھاد کی نصف سے زیادہ ضروریات خلیجی ممالک سے پوری کرتا ہے، اسی وجہ سے خلیجی خطے میں پیدا ہونے والی بے یقینی اور سپلائی مسائل نے سوڈانی معیشت اور زراعت پر براہِ راست اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔
‎اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق سوڈان اس وقت شدید انسانی بحران کا شکار ہے جہاں فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جاری جنگ نے ملک کو تقریباً مکمل طور پر درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
‎ادھر امدادی بجٹ میں کمی کے باعث صورتحال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔
‎اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ مانیٹر کے مطابق سوڈان میں تقریباً ایک کروڑ 95 لاکھ افراد شدید بھوک کا شکار ہیں، جو ملک کی کل آبادی کا 40 فیصد سے زیادہ بنتے ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں قحط جیسے حالات پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر تیل اور کھاد کی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو سوڈان میں زرعی پیداوار مزید کم ہو سکتی ہے، جس سے غذائی قلت اور انسانی بحران میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔

More posts