عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ کانگو اور یوگنڈا میں تیزی سے پھیلنے والی ایبولا وبا پر قابو پانے کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں جبکہ مشتبہ ہلاکتوں کی تعداد 220 تک پہنچ گئی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے افریقی یونین کے ایک آن لائن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایبولا کیسز کی بروقت نشاندہی نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوئی اور اب طبی ٹیمیں وبا پر قابو پانے کے لیے “وقت کے پیچھے بھاگ رہی ہیں”۔
انہوں نے خبردار کیا کہ آنے والے دنوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
ٹیڈروس نے اعلان کیا کہ وہ منگل کو کانگو کا دورہ کریں گے جہاں وہ عالمی ادارۂ صحت کے ہنگامی طبی امور کے سربراہ چیکوے ایہیکویازو کے ہمراہ متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیں گے۔
دوسری جانب یوگنڈا نے بھی مزید دو ایبولا کیسز کی تصدیق کی ہے جس کے بعد ملک میں تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد سات ہو گئی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق کانگو کے ہمسایہ ممالک بھی شدید خطرے سے دوچار ہیں اور انہیں فوری حفاظتی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ وائرس مزید نہ پھیل سکے۔
عالمی ادارۂ صحت نے اس وبا کو بین الاقوامی سطح پر صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال قرار دے دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس مرتبہ ایبولا کی نایاب “بونڈی بوجیو” قسم سامنے آئی ہے، جس کے لیے ابھی تک کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب نہیں۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ کانگو کے اِیتوری اور شمالی کیوو صوبوں میں سیکیورٹی کی خراب صورتحال بھی وبا پر قابو پانے میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے کیونکہ وہاں طبی ٹیموں کی رسائی محدود ہے۔
ماہرین صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ وبا مزید افریقی ممالک تک پھیل سکتی ہے اور ایک بڑے انسانی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا وبا بے قابو، ہلاکتیں 220 تک پہنچ گئیں
