Baaghi TV

Blog

  • برکس اجلاس مشترکہ اعلامیے کے بغیر ختم، بھارت کو سفارتی دھچکا

    برکس اجلاس مشترکہ اعلامیے کے بغیر ختم، بھارت کو سفارتی دھچکا

    بھارت کو سفارتی محاذ پر ایک اور مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب نئی دہلی میں ہونے والا برکس وزرائے خارجہ اجلاس مشترکہ اعلامیے کے بغیر ہی اختتام پذیر ہوگیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر رکن ممالک کے درمیان اختلافات برقرار رہے جس کے باعث اتفاقِ رائے نہ ہوسکا۔برکس اجلاس کے میزبان کے طور پر بھارت رکن ممالک کو مشترکہ اعلامیے پر متفق کرنے میں ناکام رہا، جس کے بعد اجلاس کے اختتام پر مجبوراً صدارتی یا چیئر اسٹیٹمنٹ جاری کی گئی۔
    چیئر اسٹیٹمنٹ میں کہا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، خصوصاً غزہ جنگ کے معاملے پر بعض برکس ممالک کے درمیان اختلافِ رائے موجود تھا۔ تاہم برکس وزرائے خارجہ نے غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیا۔اعلامیے میں غزہ میں فوری، مستقل اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا گیا، جبکہ شہری آبادی کے تحفظ اور انسانی بحران کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

    چیئر اسٹیٹمنٹ کے مطابق برکس ممالک نے یک طرفہ جبر پر مبنی اقدامات اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر عائد کی جانے والی پابندیوں کی مذمت کی۔برکس وزرائے خارجہ نے بحیرۂ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کی آزادی اور محفوظ تجارتی راستوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔اس کے علاوہ رکن ممالک نے عالمی تجارتی تنظیم کے قواعد کے خلاف یک طرفہ ٹیرف اور غیر ٹیرف اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی تجارت میں منصفانہ اور متوازن نظام کی حمایت کی۔

  • ایران 20 سال کیلئے جوہری پروگرام معطل کرے، ہم ڈیل کیلئے تیار ہیں،ٹرمپ

    ایران 20 سال کیلئے جوہری پروگرام معطل کرے، ہم ڈیل کیلئے تیار ہیں،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران 20 سال کیلئے جوہری پروگرام معطل کرے، ہم ڈیل کیلئے تیار ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے روانگی کے بعد طیارے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تائیوان کیلئے ہتھیاروں کی منظوری نہیں دی، مجھے نہیں لگتا تائیوان کے معاملے پر کوئی جنگ ہوگی۔ان کا کہنا ہے کہ ایران 20 سال کیلئے جوہری پروگرام معطل کرے، ہم ڈیل کیلئے تیار ہیں، چینی کمپنیوں پر ایرانی تیل کی خریداری پر پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ چند دن میں ہوگا، جنگ بندی کا فیصلہ دوسرے ممالک کی درخواست پر کیا۔ٹرمپ نے کہا کہ چین ہم سے اربوں ڈالر کا سویا بین خریدے گا، آبنائے ہرمز کے ذریعے ایران یومیہ 500 ملین ڈالر کا کاروبار کرتا تھا، ناکہ بندی کے ذریعے ہم نے ایران کی تجارت روک دی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایک بار پھر تعریف کی۔

  • پنکی کے موبائل سے 869 نمبر ملے،سہولت کاروں کو بھی پکڑا جا رہا،پولیس

    پنکی کے موبائل سے 869 نمبر ملے،سہولت کاروں کو بھی پکڑا جا رہا،پولیس

    کراچی پولیس چیف آزاد خان کا کہنا ہے کہ منشیات فروشی کےکیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کے موبائل سے 869 نمبر ملے ہیں جن میں 132 کراچی کے نمبرز بھی ہیں۔

    کراچی میں کی گئی پریس کانفرنس کے دوران کراچی پولیس چیف آزاد خان نے کہا کہ پنکی کا کیس ہمارے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے، ہم اسے منطقی انجام تک پہنچائیں گے،ملزمہ انمول عرف پنکی 2014 سے کام کر رہی تھی، دیکھیے گا پنکی کا برانڈ نیم ہی اس کا پھندا بنے گا، ہم کیس میں صرف کراچی تک محدود نہیں، جو لوگ اس سے نشہ لے کر بیچتے تھے ان کو پکڑا ہے، ملزمہ کے سہولت کاروں کوبھی پکڑا جا رہا ہے، سچل میں پنکی کے پرانے گھر میں ریڈ کی، وہاں سے بھی منشیات مل گئی ہے،انمول عرف پنکی سے ڈیڑھ کلو کوکین برآمد ہوئی، یہ منشیات باہر سے آتی تھی، ملزمہ کے بینک اکاونٹس کی تفصیلات لی گئی ہیں، ملزمہ کی جانب سے3 کروڑ کی ٹرانزیکشن کی گئی ہے، اس نیٹ ورک میں افریقا کے لوگ بھی ہیں، ملزمہ پنجاب میں تھی، پنکی کیس سے متعلق ایف آئی اے اور سائبر کرائم کے ساتھ رابطہ کر لیا گیا ہے، کیس کی بڑے پیمانے پر تفتیش کی جاری ہے، ملزمہ انمول عرف پنکی کے موبائل سے 869 نمبر ملے ہیں جس میں سے 132 کراچی کے نمبر ہیں، 639 نمبرز کی لوکیشن ٹریس ہو گئی، 9رائیڈرز رکھے ہوئے تھے، 8 پنجاب کے تھے، یہ ہمارے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے، ہر ملوث ملزم کے خلاف کارروائی ہوگی۔

  • ایران مذاکرات چاہتا ہے لیکن امریکا پر بھروسہ نہیں ،ایرانی وزیرخارجہ

    ایران مذاکرات چاہتا ہے لیکن امریکا پر بھروسہ نہیں ،ایرانی وزیرخارجہ

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جنگ کا آغاز نہیں کیا اپنا دفاع کیا، ہم جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کا ذمے دار ایران نہیں، ایران کے خلاف جنگ میں ملوث ممالک کے علاوہ آبنائے ہرمز سب کے لیے کھلا ہے، آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ہمیں اعتماد میں لینا ہو گا،ایران کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں بنانا چاہتا، ہمارا ایٹمی پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے، ایران کے مسئلے کا حل بات چیت کے سوا کچھ اور نہیں ہے، ایران مذاکرات چاہتا ہے لیکن امریکا پر بھروسہ نہیں ہے،ایران کسی بھی دباؤ اور کارروائی کے خلاف بھرپور مزاحمت کرے گا، 40 دن کی جنگ کے بعد امریکا کو ایران پر جارحیت سے کوئی مقصد حاصل نہ ہوا تو پھر امریکا نے مذاکرات کی بات کی، ہمیں امریکا پر بالکل بھی بھروسہ نہیں ہے، ہمارے پاس امریکا پر اعتبار کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے،ایران کے کسی معاملے کا عسکری حل نہیں ہے، ایران سالوں سے ایران امریکا کی ظالمانہ پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی صرف عزت کی زبان سمجھتے ہیں، جو عسکری کارروائی سے حاصل نہیں ہو سکا وہ مذاکرات سے بھی حاصل نہیں ہو سکتا، امریکا کے ساتھ کسی بھی ڈیل سے پہلے تمام چیزیں واضح ہونی چاہئیں، موجودہ مذاکرات میں بھروسے کا فقدان ہے لیکن مجھے امید ہے کہ حکمت اور سفارتکاری کامیاب ہوں گے۔

  • بار بار کیپیٹل پر چڑھائی اور اداروں پر حملے سیاسی رویہ نہیں،رانا ثناء اللہ

    بار بار کیپیٹل پر چڑھائی اور اداروں پر حملے سیاسی رویہ نہیں،رانا ثناء اللہ

    وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے سینیٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر سیاسی اقدامات کے نتائج ہمیشہ سنگین ہوتے ہیں اور ماضی کے تجربات سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بار بار کیپیٹل پر چڑھائی اور ریاستی اداروں پر حملے کسی بھی صورت سیاسی رویہ قرار نہیں دیے جا سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں اینٹی اسٹیٹ پراپیگنڈا کرنے کی کوشش کی گئی، جس سے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ قانون اور جیل رولز ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتے، اس لیے تمام معاملات کو قواعد و ضوابط کے مطابق چلایا جانا چاہیے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی کارکنوں پر ظلم اور زیادتی نہیں ہونی چاہیے اور سیاسی اختلافات کو قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر حل کیا جانا ضروری ہے۔

  • بھارت اور یو اے ای کے مابین دفاع،توانائی سمیت دیگر معاہدوں پر دستخط

    بھارت اور یو اے ای کے مابین دفاع،توانائی سمیت دیگر معاہدوں پر دستخط

    بھارت اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے درمیان دفاع، توانائی اور سرمایہ کاری کے اہم معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔

    ان معاہدوں پر دستخط بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ یو اے ای کے دوران ہوئے،اس دورے کے دوران بھارت اور یو اے ای کے درمیان دفاع، توانائی اور سرمایہ کاری کےاہم معاہدوں پر دستخط ہوئے،بھارتی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ بھارت اور یو اے ای نے اسٹرٹیجک دفاعی تعاون اورتیل ذخائر سے متعلق معاہدے کیے،بھارت اور یو اے ای کے درمیان مائع پیٹرولیم گیس کی فراہمی پربھی اتفاق کیا گیا، بھارتی انفرا اسٹرکچر،آربی ایل بینک اورسمن کیپیٹل میں یو اے ای کی جانب سے 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔

  • انمول پنکی کے انکشافات کے بعد پنجاب کے منشیات نیٹ ورک میں بھی ہلچل

    انمول پنکی کے انکشافات کے بعد پنجاب کے منشیات نیٹ ورک میں بھی ہلچل

    انمول پنکی کے انکشافات کے بعد پنجاب کے منشیات نیٹ ورک میں بھی ہلچل مچ گئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق لاہور پولیس نے کراچی پولیس سے رابطہ کرکے پنجاب بھر کے مبینہ ڈرگ ڈیلرز کی فہرست اور انمول پنکی کے بیانات طلب کرلیے ہیں۔

    پنجاب بھر میں منشیات فروشوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا، لاہور کے مقدمات کی تفتیش کیلئے بھی کراچی پولیس سے تفصیلات حاصل کرلی گئیں۔پولیس ذرائع کے مطابق انمول پنکی کا ریکٹ کراچی سے لاہور میں بھی آپریٹ کرتا رہا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پنکی کے پنجاب میں ڈرگ ڈیلرز سے متعلق انکشافات کو لاہور پولیس کے ساتھ شیئر کیا جائے گا، لاہور پولیس کو ملزمہ پنکی کے بیانات اور منشیات ریکٹ کا ریکارڈ فراہم کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق لاہور میں انمول پنکی کو 2024ء میں اس وقت کے پولیس نارکوٹکس یونٹ نے گرفتار کیا تھا۔

    علاوہ ازیں منشیات سے متعلق کیس میں انمول عرف پنکی کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
    ، 2019 میں تھانہ لیاقت آباد میں منشیات ایکٹ کی دفعہ 9C کے تحت درج مقدمے میں مزید پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مقدمے میں طاہر سلیم کو بھی نامزد کیا گیا ہے، جس نے دورانِ تفتیش مؤقف اختیار کیا کہ وہ انمول عرف پنکی کا مبینہ مال فروخت کرتا رہا ہے۔تحقیقات کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جبکہ ڈی آئی جی انویسٹیگیشن نے سی آر او برانچ کو خصوصی ٹاسک سونپا ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ دس سال کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ تمام مقدمات میں ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی ریکارڈ مرتب کیا جا سکے۔مزید بتایا گیا ہے کہ اگر کسی بھی مرحلے پر تفتیش میں غفلت سامنے آئی تو ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی.

  • منی پور،مسیحی تنظیم کے صدر سمیت تین عیسائی رہنما قتل

    منی پور،مسیحی تنظیم کے صدر سمیت تین عیسائی رہنما قتل

    بھارت کی ریاست منی پور میں عیسائی تنظیم کے صدر سمیت تین مذہبی رہنماؤں کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا، جبکہ حملے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلح افراد نے گھات لگا کر عیسائی رہنماؤں کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ حملے کے نتیجے میں عیسائی تنظیم کے صدر سمیت تین اہم مذہبی شخصیات جان کی بازی ہار گئیں۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔واقعے کے بعد ریاست بھر میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ عیسائی رہنماؤں پر قاتلانہ حملے کے خلاف مقامی تنظیموں اور شہریوں نے احتجاجی مظاہرے کیے جبکہ کئی علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال بھی کی گئی۔ احتجاج کے باعث کاروباری مراکز، سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے بند رہے۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل بھی منی پور میں علیحدگی پسندوں نے آسام رائفلرز کے ایک کیمپ پر قبضہ کر لیا تھا، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔ اس تازہ واقعے کے بعد ریاست میں امن و امان کی صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • امریکہ چین تعلقات، مفادات کی سیاست اور دنیا کا مستقبل،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ چین تعلقات، مفادات کی سیاست اور دنیا کا مستقبل،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ چین تعلقات: دوستی نہیں، مفادات کی سیاست کا نیا باب

    عالمی کشیدگی کے دور میں امریکہ اور چین کی قربت دنیا پر کیسے اثر انداز ہوگی؟

    واشنگٹن اور بیجنگ مستقل دوستی نہیں بلکہ مفاداتی تعاون کی حقیقت

    تجزیہ شہزاد قریشی

    دنیا اس وقت ایک نازک دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہے، دوسری جانب مختلف خطوں میں جنگیں، تجارتی تنازعات اور جغرافیائی کشیدگی نے غیر یقینی صورتحال پیدا کر رکھی ہے۔ ایسے ماحول میں امریکہ اور چین جیسے دو بڑی معاشی اور عسکری طاقتوں کے تعلقات پوری دنیا پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آتی ہے یا اعلیٰ سطحی سفارتی روابط بڑھتے ہیں تو اس کے مثبت اثرات عالمی معیشت، تجارت اور امن پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی منڈیوں میں استحکام آ سکتا ہے، سرمایہ کاری کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے اور سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں کم ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی نظریں ہمیشہ واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات پر مرکوز رہتی ہیں۔ تاہم ایک حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ امریکہ اور چین کے تعلقات خالصتاً اعتماد پر نہیں بلکہ مفادات پر استوار ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے معاشی شراکت دار بھی ہیں اور اسٹریٹجک حریف بھی۔ تجارت میں تعاون موجود ہے، مگر ٹیکنالوجی، دفاع، بحیرہ جنوبی چین اور تائیوان جیسے معاملات پر اختلافات بھی شدید ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعلقات میں وقتی گرمجوشی مستقل دوستی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔

    بین الاقوامی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے بلکہ قومی مفادات مستقل ہوتے ہیں۔ امریکہ اپنی عالمی برتری برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ چین ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر اپنا کردار مزید مضبوط بنانے کی کوشش میں ہے۔ اس لیے دونوں کے درمیان تعلقات میں کبھی تعاون اور کبھی مقابلہ جاری رہنا ایک فطری امر ہے۔ اگر امریکہ اور چین تعلقات میں توازن پیدا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو دنیا کو معاشی اور سیاسی استحکام مل سکتا ہے، لیکن اس تعلق کو مستقل دوستی کے بجائے مفاداتی تعاون کہنا زیادہ حقیقت پسندانہ ہوگا، کیونکہ عالمی سیاست جذبات سے نہیں بلکہ مفادات سے چلتی ہے۔

  • حنا الطاف کو دوران شوٹنگ ہراسانی کا سامنا

    حنا الطاف کو دوران شوٹنگ ہراسانی کا سامنا

    پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ حنا الطاف نے ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران پیش آنے والے خوفناک اور غیر محفوظ تجربے سے متعلق انکشاف کرتے ہوئے خواتین کو درپیش ہراسانی کے مسئلے پر آواز بلند کر دی۔

    اداکارہ نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں بتایا کہ شوٹنگ سیٹ پر موجود ایک شخص کے رویے نے انہیں شدید غیر محفوظ اور بے حد غیر آرام دہ محسوس کروایا۔ حنا الطاف کے مطابق جیسے ہی اس شخص نے ان سے بات کی، انہیں فوری طور پر اندازہ ہو گیا کہ صورتِ حال محفوظ نہیں، جس کے بعد انہوں نے فوری طور پر خود کو اس ماحول سے الگ کر لیا۔حنا الطاف نے مزید بتایا کہ انہوں نے اس واقعے سے متعلق متعلقہ پروڈکشن ہاؤس کو بھی آگاہ کیا اور اس شخص کے رویے کے خلاف رپورٹ درج کروائی۔ اداکارہ کے مطابق خواتین کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ خوف اور دباؤ کے بغیر اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دے سکیں۔

    اداکارہ کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے ان کے حوصلے اور بہادری کو سراہا جا رہا ہے۔ متعدد صارفین نے مطالبہ کیا کہ ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ خواتین کو کام کی جگہوں پر ہراسانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔سوشل میڈیا پر ایک صارف نے لکھا کہ “آپ نے آواز اٹھا کر بہت بہادری کا مظاہرہ کیا”، جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ “خواتین کو ہر شعبے میں ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، محفوظ ورک پلیس وقت کی اہم ضرورت ہے۔”حنا الطاف کی جانب سے اس حساس معاملے پر کھل کر بات کرنے کو سوشل میڈیا پر ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ صارفین کا کہنا ہے کہ شوبز سمیت ہر شعبے میں خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔