Baaghi TV

Blog

  • ستھرا پنجاب پروگرام گوجرخان میں کرپشن یا کام چوری،ورکرز کا احتجاج، شہر کچرا کنڈی بن گیا

    ستھرا پنجاب پروگرام گوجرخان میں کرپشن یا کام چوری،ورکرز کا احتجاج، شہر کچرا کنڈی بن گیا

    بایومیٹرک مانیٹرنگ کا سنسنی خیز انکشاف 40 ہزار تنخواہ کے بدلے 26 ہزار کیوں؟ غیر حاضر ملازمین کا احتجاج کے نام پر بلیک میلنگ کا دھندہ بے نقاب
    عوامی حلقوں کا شدید غم و غصہ گلیاں گندگی سے تعفن زدہ، سوزوکیوں پر چکر لگا کر غائب ہونے والے بھوت ورکرز کے خلاف فوری انکوائری اور برطرفی کا مطالبہ

    گوجرخان(قمرشہزاد)حکومتِ پنجاب کا اربوں روپے کا ستھرا پنجاب پروگرام گوجرخان میں افسر شاہی، سینیٹری ورکرز کی کام چوری اور مبینہ بلیک میلنگ کی نذر ہو گیا۔ ایک طرف صفائی ملازمین نے تنخواہوں کی کٹوتی اور اعزازیہ نہ ملنے کا رونا رو کر سڑکوں پر احتجاج شروع کر رکھا ہے، تو دوسری طرف شہر کی گلی محلے اور تجارتی مراکز کچرا کنڈی کا منظر پیش کر رہے ہیں، جس نے حکومتی دعووں کے پرخچے اڑا دیے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق احتجاجی ورکرز کا مؤقف ہے کہ ان کی تنخواہ 40 ہزار روپے مقرر ہے مگر انہیں صرف 26 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں، جو ان کے معاشی استحصال کے مترادف ہے۔ دوسری جانب آپریشنل مینیجر بابر شکیل نے اس احتجاج کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے سنسنی خیز حقائق سامنے رکھ دیے۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ 40 ہزار روپے کی پوری تنخواہ کے لیے ماہانہ 26 دن کی حاضری لازمی ہے، جبکہ تمام ورکرز کی حاضری کا نظام مکمل طور پر بائیومیٹرک ہے۔ اس ڈیجیٹل حاضری کی مانیٹرنگ براہِ راست اعلیٰ حکام کر رہے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ تنخواہیں صرف ان ورکرز کی کاٹی گئی ہیں جو ڈیوٹی سے غائب رہتے ہیں اور جن کی حاضری پوری نہیں ہے۔

    دوسری جانب، اس سارے ڈرامے پر گوجرخان کے شہریوں کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ عوامی حلقوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے چشم کشا حقائق سے پردہ اٹھایا ہے کہ احتجاج کرنے والے یہ مٹھی بھر ورکرز کبھی گلیوں یا سڑکوں پر صفائی کرتے نظر نہیں آئے۔ صفائی کے نام پر صرف یہ ہوتا ہے کہ سرکاری سوزوکیاں اتی ہیں، ورکرز چکر لگا کر غائب ہو جاتے ہیں اور گندگی کے ڈھیر جوں کے توں پڑے رہتے ہیں جب ان پر سختی کی جائے یا کام لیا جائے تو یہ لوگ افسران کو بلیک میل کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے اپنائے ہیں۔شہر کی سماجی و عوامی تنظیموں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور مانیٹرنگ حکام سے اس سنگین معاملے پر فوری اور سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی اعلیٰ سطحی انکوائری ہونی چاہیے۔ اگر افسران ورکرز کا حق مار رہے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے، لیکن اگر بائیومیٹرک ریکارڈ کے مطابق ورکرز کی حاضری کم ہے اور وہ محض اپنی کام چوری چھپانے کے لیے شہر کو یرغمال بنا رہے ہیں، تو ایسے اشتعال انگیز، شر پسند اور بلیک میلر ڈیلی ویجز و سرکاری ملازمین کو فوری طور پر نوکریوں سے برخاست کیا جائے۔ گوجرخان کے عوام نے دوٹوک کہا ہے کہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ کام چوروں اور بلیک میلروں کی جیبوں میں جانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔

  • چین کا دورہ بہت اچھا رہا،ٹرمپ

    چین کا دورہ بہت اچھا رہا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چین کا دورہ بہت اچھا رہا، چین کے ساتھ شاندار تجارتی معاہدے طے پائے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ایران کے معاملے پر وہ مسائل حل کیے جو دوسرے نہیں کرسکتے تھے، ایران کو جوہری ہتھیار نہیں بنانے چاہیئں، آبنائے ہرمز کھلی رہنی چاہئے۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چینی صدر سے ایران تنازع کو ختم کرنے پر بات ہوئی۔

    چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ تنازع کا جلد حل خطے کے مفاد میں ضروری ہے، مذاکراتی چینل کو جلد از جلد دوبارہ کھولا جانا چاہئے۔وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ مکمل جنگ بندی ضروری، تاکہ امن و استحکام بحال ہوسکے، امریکی صدر اور صدر شی کے درمیان متعدد نئے اتفاقِ رائے قائم ہوئے ہیں۔

    علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے امریکا کو ’زوال پزیر ملک‘ قرار دے کر دراصل سابق صدر جو بائیڈن کے دورِ حکومت پر تنقید کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بائیڈن کی پالیسیوں نے امریکا کو شدید نقصان پہنچایا تاہم میری حکومت کے 16 ماہ میں امریکا نے دوبارہ عالمی طاقت کے طور پر تیزی سے ترقی کی ہے۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ شی جن پنگ نے امریکا کی تنزلی کا ذکر ’انتہائی شائستگی‘ سے کیا ہے،صدر ٹرمپ کے مطابق چینی صدر دراصل بائیڈن انتظامیہ کے 4 برسوں میں ہونے والے نقصان کی جانب اشارہ کر رہے تھے، کھلی سرحدوں، مہنگے ٹیکس، جرائم، متنازع سماجی پالیسیوں اور خراب تجارتی معاہدوں نے امریکا کو کمزور کیا،اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ اب اسٹاک مارکیٹ، روزگار اور بیرونی سرمایہ کاری میں غیر معمولی بہتری آئی ہے

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان اعلیٰ سطحی سربراہی ملاقات کے پہلے روز عالمی منڈیوں نے محتاط مگر مثبت ردِعمل ظاہر کیا۔ تجارتی کشیدگی میں ممکنہ کمی کی امید پر عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی دیکھی گئی جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی واقع ہوئی، اگرچہ خلیجی خطے کے جغرافیائی خطرات بدستور برقرار رہے۔عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت 0.40 فیصد کمی کے بعد 105.21 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 0.07 فیصد کمی کے ساتھ 100.95 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔ تاجروں کے مطابق یہ معمولی کمی اس امید کا نتیجہ تھی کہ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان مذاکرات عالمی تجارت کو مستحکم بنانے اور فوری معاشی تناؤ کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

    تیل کی قیمتوں میں نرمی نے سرمایہ کاروں کو خطرہ مول لینے پر آمادہ کیا، خاص طور پر ٹیکنالوجی اور برآمدات سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں دلچسپی بڑھی۔S&P 500 تقریباً 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیاجبکہ نیسڈیک کمپوزٹ میں 1 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جس کی قیادت سیمی کنڈکٹر اور مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں نے کی۔ سرمایہ کاروں نے ان اطلاعات کا خیر مقدم کیا کہ واشنگٹن، وسیع تر مذاکرات کے حصے کے طور پر، چین پر AI چپس کی برآمدی پابندیوں میں نرمی کر سکتا ہے۔

  • آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کا میر چاکر خان رند یونیورسٹی سبی کا دورہ

    آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کا میر چاکر خان رند یونیورسٹی سبی کا دورہ

    بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کی کردار سازی اور معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایف سی بلوچستان نارتھ کے آئی جی میجر جنرل عاطف مجتبیٰ نے میر چاکر خان رند یونیورسٹی سبی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات، تعلیمی ماحول، سہولیات اور طلبہ کے لیے کیے گئے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔

    دورے کے دوران آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل کا عملی اور مثبت کردار محفوظ بلوچستان اور خوشحال پاکستان کے لیے نہایت اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم، شعور اور مثبت سوچ ہی ملک کی ترقی اور استحکام کی بنیاد ہیں۔میجر جنرل عاطف مجتبیٰ نے یونیورسٹی انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے وائس چانسلر، فیکلٹی ممبران اور انتظامی عملے کی جانب سے معیاری تعلیم کے فروغ اور نوجوانوں کی بہتر تربیت کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔

    اس موقع پر طلبہ نے بھی تعلیمی سرگرمیوں، سہولیات اور اپنے مستقبل کے اہداف سے متعلق اظہارِ خیال کیا، جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے مہمان خصوصی کو ادارے کی تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس کی اپیلوں پر تحریری حکم جاری

    190 ملین پاؤنڈ کیس کی اپیلوں پر تحریری حکم جاری

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کی اپیلوں پر تحریری حکم جاری کر دیا۔

    عدالت نے بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلاء کو 20 مئی کو دلائل کی حتمی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ امید ہے کہ فریقین جان بوجھ کر سماعت سے غیر حاضر نہیں ہوں گے، نہ غیر ضروری التواء مانگیں گے، سلمان صفدر نے بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ہدایات لینے کے لیے التواء کی درخواست دی ، نیب نے سلمان صفدر کی التواء کی درخواست کی مخالفت کی، گزشتہ سماعت پر فریقین کو حاضری یقینی بنانے اور اپیل پر دلائل کی ہداہت کی گئی تھی، آج کی سماعت میں دلائل کی بجائے سلمان صفدر نے کمزور وجوہات پر التواء کی درخواست دی۔

    عدالتی حکم نامے میں یہ بھی لکھا ہے کہ چونکہ مرکزی اپیلیں سلمان صفدر کی جانب سے دائر کی گئی تھیں اور اس کیس کی حساسیت اور اہمیت بہت زیادہ ہے اس لیے آخری اور حتمی مہلت دی جا رہی ہے، سلمان صفدر تمام ضروری اقدامات کر لیں اور آئندہ سماعت پر 20 مئی کو اپیلوں پر دلائل دیں۔

  • محسن نقوی سے امریکہ کے نائب وزیرِ خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیائی امور کی ملاقات

    محسن نقوی سے امریکہ کے نائب وزیرِ خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیائی امور کی ملاقات

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے امریکہ کے نائب وزیرِ خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیائی امور کی اہم ملاقات ہوئی، جس میں پاک امریکہ تعلقات، خطے کی سکیورٹی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ پیش رفت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم بنانے پر زور دیا گیا جبکہ سکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی اور انسدادِ منشیات کے شعبوں میں اشتراکِ کار بڑھانے کے مختلف پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا گیا۔وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں پاک امریکہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور دوطرفہ تعاون پر مبنی ہیں۔

    ملاقات میں خطے میں امن و استحکام، مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اور مستقبل میں تعاون کے فروغ کے حوالے سے بھی مثبت پیش رفت پر اتفاق کیا گیا۔

  • انمول عرف پنکی کی نشاندہی پر گھر پر چھاپہ،کوکین برآمد

    انمول عرف پنکی کی نشاندہی پر گھر پر چھاپہ،کوکین برآمد

    کراچی میں منشیات فروشی کے خلاف پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے مبینہ کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کی نشاندہی پر سچل کے علاقے میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر بھاری مقدار میں کوکین اور پیکنگ میٹریل برآمد کر لیا۔

    ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق کارروائی کے دوران گھر سے کوکین کے علاوہ منشیات کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والے خصوصی پیکٹس بھی قبضے میں لیے گئے۔ پولیس نے اس حوالے سے سچل تھانے میں سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والی منشیات انمول عرف پنکی نے مختلف علاقوں میں سپلائی کے لیے گھر میں چھپا رکھی تھی۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمہ ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے شہر کے مختلف حصوں میں کوکین فراہم کرتی رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی کو پہلے ہی قتل کے ایک مقدمے میں گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ دورانِ تفتیش منشیات کے کاروبار سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر کوکین سپلائی کا باقاعدہ نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا۔

    تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ انمول عرف پنکی نے مبینہ طور پر انٹرنیٹ کے ذریعے کوکین تیار کرنے کا طریقہ سیکھا اور بعد ازاں اپنے نام سے منشیات کا ایک الگ برانڈ بھی متعارف کرایا۔ پولیس کے مطابق ملزمہ نے ابتدا میں اپنے سابق شوہر کے ساتھ مل کر یہ کاروبار شروع کیا، جو پیشے کے اعتبار سے وکیل تھا اور مبینہ طور پر ایک بین الاقوامی کوکین گینگ سے منسلک رہا ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں جبکہ منشیات سپلائی چین کے مزید روابط کا سراغ لگانے کی کوشش جاری ہے

  • عمان کے ساحل کے قریب مشتبہ ڈرون حملہ،بھارتی پرچم بردار جہاز  ڈوب گیا

    عمان کے ساحل کے قریب مشتبہ ڈرون حملہ،بھارتی پرچم بردار جہاز ڈوب گیا

    عمان کے ساحل کے قریب مشتبہ ڈرون حملے کے بعد ایک بھارتی پرچم بردار جہاز ڈوب گیا۔

    برطانوی میری ٹائم سکیورٹی فرم کے مطابق بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز ایم ایس وی حاجی علی مشتبہ ڈرون حملے کے بعد آبنائے ہرمز کےجنوب میں عمان کے ساحل کے پاس ڈوب گیا، اس پر عملے کے 14 ارکان سوار تھے، تاہم عملے کے تمام افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا،بھارتی وزارت خارجہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بدھ کے روز حملے کے بعد جہاز کے عملے کو عمانی حکام نے ریسکیو کرکے محفوظ مقام پر منتقل کیا۔

    بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی پرچم بردار جہاز پر حملہ ناقابل قبول ہے، تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے اور خطرے میں ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے، بحری نیویگیشن اور تجارتی آزادی میں رکاوٹ ڈالنے سے گریز کیا جانا چاہیے،میری ٹائم سکیورٹی فرم کے مطابق یہ جہاز حال ہی میں صومالیہ سے روانہ ہوا تھا اور متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ جا رہا تھا اور اس میں مویشی لادے گئے تھے۔ ادارے کے مطابق عالمی توجہ اب تک زیادہ تر بڑے آئل ٹینکروں کی سکیورٹی پر مرکوز رہی ہے، لیکن خطے میں جاری کشیدگی کے باعث چھوٹے بحری جہاز بھی تیزی سے خطرات کی زد میں آ رہے ہیں۔

  • طبی عملے کی غفلت،ہارٹ سرجری کے دوران مریض کے جسم میں قینچی چھوڑ دی

    طبی عملے کی غفلت،ہارٹ سرجری کے دوران مریض کے جسم میں قینچی چھوڑ دی

    فیصل آباد میں طبی غفلت کا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں اوپن ہارٹ سرجری کے دوران مریض کے سینے میں قینچی چھوڑ دی گئی۔

    فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ایم ایس ڈاکٹر ندیم کے مطابق ٹوبہ ٹیک سنگھ کے رہائشی 22سالہ ثقلین کا آپریشن کیا گیا تھالیکن اسٹاف نرسز نے غفلت کرتے ہوئے اوپن ہارٹ سرجری کے دوران مریض کے جسم میں قینچی چھوڑ دی،3 ہفتے تک تکلیف جھیلنے کے بعد دوبارہ آپریشن کر کے قینچی نکال لی گئی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق ایم ایس کاکہناہےکہ تحقیقات میں اسٹاف نرسز کی غفلت سامنےآئی۔جنہوں نے آپریشن کے بعد طبی آلات کی گنتی مکمل نہیں کی تھی جو کہ سنگین غفلت ہے،ذمہ دار دونوں اسٹاف نرسز کی خدمات اسپتال سے واپس لے لی گئی ہیں اور ان کے خلاف مزید کارروائی کے لیے سیکرٹری صحت کو مراسلہ بھیج دیا گیا ہے۔

  • چینی کاروباری وفد کی وزیرِ اعظم سے ملاقات

    چینی کاروباری وفد کی وزیرِ اعظم سے ملاقات

    آئی بی آئی بیجنگ یونائیٹڈ ٹیکنالوجی کے بانی، صدر اور کنٹرولنگ شیئر ہولڈر چیان شیاو جون کی قیادت میں 11 رکنی اعلیٰ سطح چینی کاروباری وفد نے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے وزیرِ اعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔

    وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تاریخی تعلقات قائم ہیں۔ انہوں نے صدر شی جن پنگ کی مدبرانہ قیادت میں چین کی شاندار ترقی کو سراہا اور کہا کہ وہ رواں ماہ کے آخر میں اپنے دورۂ چین کے منتظر ہیں۔وزیرِ اعظم نے آئی بی آئی گروپ کے پاکستان میں اپنے ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر قائم کرنے کے فیصلے کو سراہا اور پاکستان و چین کے درمیان کاروباری سطح پر بڑھتے ہوئے تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر نہایت حوصلہ افزا ہے کہ آئی بی آئی ڈیجیٹل، معیشت میں تعاون، سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعتی اشتراک کو فروغ دے گا۔

    پاکستانی معیشت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جناب چیان شیاو جون نے کہا کہ آئی بی آئی پاکستان کی معیشت میں ڈیجیٹل اصلاحات میں معاونت کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئی بی آئی کے ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر کا قیام اس ضمن میں انتہائی مثبت ثابت ہوگا اور پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کو چینی مارکیٹ تک رسائی فراہم کرکے بے شمار مواقع مہیا کرے گا۔

    یہ وفد وزیرِ اعظم کے ستمبر 2025 میں دورۂ بیجنگ کے دوران منعقدہ پاکستان-چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس کے تسلسل میں پاکستان کا دورہ کر رہا ہے۔ملاقات میں وفاقی وزیرِ سرمایہ کاری جناب قیصر احمد شیخ، وفاقی وزیرِ تجارت جناب جام کمال خان، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام محترمہ شزہ فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیرِ پیٹرولیم جناب علی پرویز ملک، معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار جناب ہارون اختر، معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

  • سرکاری ملازمین کے اثاثوں کی نگرانی،ایف بی آر کو اختیارات دینے کا فیصلہ

    سرکاری ملازمین کے اثاثوں کی نگرانی،ایف بی آر کو اختیارات دینے کا فیصلہ

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سرکاری افسران کے اثاثوں کی نگرانی اور شفافیت بڑھانے کے لیے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے ایف بی آر کو مشکوک اثاثوں کی تحقیقات کے اختیارات دینے کا فیصلہ کر لیا۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور دیگر اعلیٰ حکام نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید نگرانی کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جو سرکاری ملازمین کے اثاثوں اور دولت میں غیر معمولی اضافے پر “ریڈ فلیگ” الرٹس جاری کرے گا۔حکام کے مطابق ایف بی آر کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ایسے سرکاری ملازمین کی جانچ پڑتال اور تحقیقات کر سکے جن کے اثاثے ان کے ظاہر کردہ ذرائع آمدن سے زیادہ ہوں، خصوصاً وہ افسران جو مسلسل تین برس تک اپنے اثاثہ جات کے گوشوارے جمع کراتے رہیں۔وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نبیل اعوان نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ دسمبر 2026 سے گریڈ 17 سے گریڈ 22 تک کے تمام سرکاری افسران کے اثاثوں اور مالی تفصیلات کو ایک ڈیجیٹل ڈکلیئریشن سسٹم کے ذریعے عوامی طور پر دستیاب کر دیا جائے گا۔ یہ نظام ایف بی آر کے تعاون سے تیار کیا جا رہا ہے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ مجوزہ نظام کے تحت افسران کو نہ صرف اپنے ذاتی اثاثوں بلکہ اہلِ خانہ کے اثاثوں اور بیرونِ ملک دوروں کی مکمل تفصیلات بھی جمع کرانا ہوں گی۔حکام کے مطابق ایف بی آر کے چیئرمین اور ممبر ان لینڈ ریونیو سمیت متعلقہ افسران کو اختیار ہوگا کہ AI کی مدد سے ہونے والی جانچ پڑتال کے دوران اگر کسی سرکاری افسر کے اثاثوں میں مشکوک یا غیر معمولی اضافہ سامنے آئے تو فوری تحقیقات کا آغاز کیا جا سکے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد سرکاری اداروں میں شفافیت، احتساب اور بدعنوانی کی روک تھام کو مؤثر بنانا ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے مالی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔