کراچی پولیس چیف آزاد خان کا کہنا ہے کہ منشیات فروشی کےکیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کے موبائل سے 869 نمبر ملے ہیں جن میں 132 کراچی کے نمبرز بھی ہیں۔
کراچی میں کی گئی پریس کانفرنس کے دوران کراچی پولیس چیف آزاد خان نے کہا کہ پنکی کا کیس ہمارے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے، ہم اسے منطقی انجام تک پہنچائیں گے،ملزمہ انمول عرف پنکی 2014 سے کام کر رہی تھی، دیکھیے گا پنکی کا برانڈ نیم ہی اس کا پھندا بنے گا، ہم کیس میں صرف کراچی تک محدود نہیں، جو لوگ اس سے نشہ لے کر بیچتے تھے ان کو پکڑا ہے، ملزمہ کے سہولت کاروں کوبھی پکڑا جا رہا ہے، سچل میں پنکی کے پرانے گھر میں ریڈ کی، وہاں سے بھی منشیات مل گئی ہے،انمول عرف پنکی سے ڈیڑھ کلو کوکین برآمد ہوئی، یہ منشیات باہر سے آتی تھی، ملزمہ کے بینک اکاونٹس کی تفصیلات لی گئی ہیں، ملزمہ کی جانب سے3 کروڑ کی ٹرانزیکشن کی گئی ہے، اس نیٹ ورک میں افریقا کے لوگ بھی ہیں، ملزمہ پنجاب میں تھی، پنکی کیس سے متعلق ایف آئی اے اور سائبر کرائم کے ساتھ رابطہ کر لیا گیا ہے، کیس کی بڑے پیمانے پر تفتیش کی جاری ہے، ملزمہ انمول عرف پنکی کے موبائل سے 869 نمبر ملے ہیں جس میں سے 132 کراچی کے نمبر ہیں، 639 نمبرز کی لوکیشن ٹریس ہو گئی، 9رائیڈرز رکھے ہوئے تھے، 8 پنجاب کے تھے، یہ ہمارے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے، ہر ملوث ملزم کے خلاف کارروائی ہوگی۔
