Baaghi TV

امریکہ چین تعلقات، مفادات کی سیاست اور دنیا کا مستقبل،تجزیہ:شہزاد قریشی

امریکہ چین تعلقات: دوستی نہیں، مفادات کی سیاست کا نیا باب

عالمی کشیدگی کے دور میں امریکہ اور چین کی قربت دنیا پر کیسے اثر انداز ہوگی؟

واشنگٹن اور بیجنگ مستقل دوستی نہیں بلکہ مفاداتی تعاون کی حقیقت

تجزیہ شہزاد قریشی

دنیا اس وقت ایک نازک دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہے، دوسری جانب مختلف خطوں میں جنگیں، تجارتی تنازعات اور جغرافیائی کشیدگی نے غیر یقینی صورتحال پیدا کر رکھی ہے۔ ایسے ماحول میں امریکہ اور چین جیسے دو بڑی معاشی اور عسکری طاقتوں کے تعلقات پوری دنیا پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آتی ہے یا اعلیٰ سطحی سفارتی روابط بڑھتے ہیں تو اس کے مثبت اثرات عالمی معیشت، تجارت اور امن پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی منڈیوں میں استحکام آ سکتا ہے، سرمایہ کاری کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے اور سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں کم ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی نظریں ہمیشہ واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات پر مرکوز رہتی ہیں۔ تاہم ایک حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ امریکہ اور چین کے تعلقات خالصتاً اعتماد پر نہیں بلکہ مفادات پر استوار ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے معاشی شراکت دار بھی ہیں اور اسٹریٹجک حریف بھی۔ تجارت میں تعاون موجود ہے، مگر ٹیکنالوجی، دفاع، بحیرہ جنوبی چین اور تائیوان جیسے معاملات پر اختلافات بھی شدید ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعلقات میں وقتی گرمجوشی مستقل دوستی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔

بین الاقوامی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے بلکہ قومی مفادات مستقل ہوتے ہیں۔ امریکہ اپنی عالمی برتری برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ چین ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر اپنا کردار مزید مضبوط بنانے کی کوشش میں ہے۔ اس لیے دونوں کے درمیان تعلقات میں کبھی تعاون اور کبھی مقابلہ جاری رہنا ایک فطری امر ہے۔ اگر امریکہ اور چین تعلقات میں توازن پیدا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو دنیا کو معاشی اور سیاسی استحکام مل سکتا ہے، لیکن اس تعلق کو مستقل دوستی کے بجائے مفاداتی تعاون کہنا زیادہ حقیقت پسندانہ ہوگا، کیونکہ عالمی سیاست جذبات سے نہیں بلکہ مفادات سے چلتی ہے۔

More posts