Baaghi TV

Blog

  • ٹرمپ کا چین کا دورہ مکمل،واپس روانہ

    ٹرمپ کا چین کا دورہ مکمل،واپس روانہ

    امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے چین کا دو روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد بیجنگ سے روانگی اختیار کر لی۔ غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے اپنے دورے کے دوران چینی صدر سمیت اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کیں جبکہ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان بھی تفصیلی مذاکرات ہوئے۔

    رپورٹس کے مطابق ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، عالمی صورتحال، تجارت اور خطے کی سکیورٹی سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مذاکرات کے دوران کئی اہم فیصلے بھی کیے گئے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایران کے معاملے پر خصوصی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ ایرانکے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں اور آبنائے ہرمز ہر صورت کھلی رہنی چاہیے۔

    صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ چین کے ساتھ شاندار تجارتی معاہدے بھی طے پائے ہیں، جو دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

  • سوتیلی بیٹی سے زیادتی کے مجرم کو عمرقید کی سزا

    سوتیلی بیٹی سے زیادتی کے مجرم کو عمرقید کی سزا

    لاہور کی سیشن عدالت نے سوتیلی بیٹی سے زیادتی کے مجرم کو عمرقید کی سزا سنادی۔

    لاہور میں تھانہ چوہنگ پولیس اسٹیشن میں 2024ء میں درج مقدمے پر ایڈیشنل سیشن جج ظفریاب چدھڑ نے فیصلہ سنادیا، سوتیلی بیٹی سے زیادتی کا الزام ثابت ہونے پر مجرم کو عمر قید کی سزا سنادی۔پراسیکیوٹر کے مطابق متاثرہ لڑکی کی والدہ نے پہلے شوہر سے طلاق کے بعد مجرم سے شادی کی تھی، مجرم نے سوتیلی بیٹی سے حمل ضائع کروانے کی کوشش کی۔پراسیکیوٹر رضوان محمود نے 17 گواہوں پر جرح کروائی۔ مجرم کے خلاف بیوی نے تھانہ چوہنگ میں مقدمہ درج کروایا تھا۔

  • پنجگور ،گاڑی پر فائرنگ،3 افراد کی موت،5 زخمی

    پنجگور ،گاڑی پر فائرنگ،3 افراد کی موت،5 زخمی

    بلوچستان کے ضلع پنجگور میں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 5 زخمی ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق واقعہ پنجگور کے علاقے کاٹاگری میں پیش آیا، جہاں نامعلوم حملہ آوروں نے ایک گاڑی کو نشانہ بنا کر اندھا دھند فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں سوار 3 افراد موقع پر جاں بحق ہوگئے جبکہ 5 افراد زخمی ہوئے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور جاں بحق افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو ٹیچنگ اسپتال منتقل کردیا گیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، جبکہ ملزمان کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • مولانا شیخ ادریس قتل کیس،7 ملزمان گرفتار

    مولانا شیخ ادریس قتل کیس،7 ملزمان گرفتار

    چارسدہ میں چند روز قبل قاتلانہ حملے میں شہید ہونے والے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سابق رکن اسمبلی مولانا شیخ ادریس قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے 7 اہم ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

    تفتیشی حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے مبینہ ملزمان کو مردان ریجن سے حراست میں لیا گیا، جن سے مختلف پہلوؤں پر تفتیش جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے محرکات اور ممکنہ سہولت کاروں تک رسائی کے لیے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ کے مختلف علاقوں میں جیوفینسنگ کا عمل بھی جاری ہے تاکہ حملے میں ملوث افراد کی نقل و حرکت اور رابطوں کا سراغ لگایا جا سکے۔ اس کے علاوہ ایک مبینہ ٹارگٹ کلر کے چارسدہ سے فرار ہونے کی ویڈیو بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے زیرِ جائزہ ہے۔تفتیشی حکام نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز میں مبینہ ٹارگٹ کلر کو پشاور کے علاقے چمکنی اور کوہاٹ روڈ پر دیکھا گیا۔ تحقیقات کے مطابق ملزم واردات کے روز صبح تقریباً ساڑھے پانچ بجے موٹرسائیکل پر چمکنی سے سروس روڈ کے ذریعے چارسدہ پہنچا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات میں سیف سٹی ٹیم اور دیگر تفتیشی یونٹس بھی معاونت فراہم کر رہے ہیں، جبکہ جدید ٹیکنالوجی اور سی سی ٹی وی شواہد کی مدد سے ملزمان کے نیٹ ورک تک رسائی کی کوششیں جاری ہیں۔

    واضح رہے کہ 5 مئی کو چارسدہ میں نامعلوم دہشت گردوں نے معروف عالم دین اور جے یو آئی کے سابق رکن اسمبلی مولانا شیخ ادریس کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا، جس کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

  • کتوں کا عالم ارواح میں اللہ سے شکوہ،تحریر:ملک سلمان

    کتوں کا عالم ارواح میں اللہ سے شکوہ،تحریر:ملک سلمان

    پنجاب کے 38ڈپٹی کمشنرز،151اسسٹنٹ کمشنرز اور میونسپل کمیٹی والے ہی ہمارے قاتل نہیں، اس قتل و غارت گری کا حکم دینے والے، بربریت میں ساتھ دینے والے اور ظلم پر خاموش رہنے والے پارلیمنٹیرین اور تمام سرکاری افسران بھی مجرم ہیں جنہوں نے ظلم کو روکنے کی بجائے ظالم کا ساتھ دینے کو ترجیح دی۔

    اے مالک کائنات تم نے کُنْ کہنا ہے اور فَیَکونُ۔ اے اللہ تجھے تیری منصفی کا واسطہ ہم پر ظلم کرنے والوں کو تباہ و برباد کر دے۔

    بے گھر کتوں کی نسل کشی اور ان پر مظالم کی انتہا کرنے میں پنجاب پہلے، سندھ دوسرے، آزاد کشمیر تیسرے، وفاق چوتھے، خیبر پختونخوا پانچویں، بلوچستان چھٹے اور گلگت بلتستان ساتویں نمبر پر ہے۔اے رب کائنات ریاست پاکستان کے مسلمانوں سے دیگر ممالک کے غیر مسلم کہیں اچھے اور نیک ہیں، کافر ممالک میں کتوں کو گھر کا فرد سمجھا جاتا ہے ناصرف کھانا فراہم کیا جاتا ہے بلکہ گرمی سردی میں گھروں اور دفاتر میں پناہ دی جاتی ہے۔ یہ کیسا اسلامی ملک اور کیسے مسلمان ہیں جو اپنے نبیﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے کی بجائے جانوروں پر ظلم کرتے ہیں۔
    اسلامی تعلیمات میں جانوروں خاص طور پر کتوں کے ساتھ حسن سلوک واحد عمل ہے جس پر کافر کو بھی جنت کی بشارت مل گئی اور جانوروں پر ظلم کے بدلے مسلمانوں کو بھی جہنم اور عذاب کی وعید کی گئی۔

    اے اللہ ہم تو بھوک سے نڈھال تھے ایسے میں انتہائی غیر معیاری اور باسی کیک کو بھی تیرا شکر ادا کرتے کھانے کو لپکے لیکن معلوم نہیں تھا کہ اس کیک پر پنجاب کی ضلعی انتظامیہ نے strychnineزہر لگایا ہوا تھا۔ اے اللہ ان ظالم انسانوں کے زہر ملے کیک سے کئی منٹ تک درد کی شدت اور تڑپ سے جو تکلیف ہوئی اس کا اندازہ شاید ان انسانوں کو نہیں ہوسکتا۔ اے رب کائنات زہر اور فائرنگ سے ایک ایک قطرہ کرکے خون نکلنے اور رگیں کٹنے سے جو تکلیف پہنچی کیا تم اس تکلیف کا بدلہ نہیں لو گے؟
    اے سب سے بڑے تخت کے مالک ہمارے خون ناحق کے بدلے ان زمینی تخت والوں کے تخت الٹا دے۔
    اے اللہ مساجد تو تیرا گھر ہیں، تیرے نبیﷺ کے دور میں مسجد نبوی میں کتے داخل ہوتے تھے مگر نہ تو صحابہ مسجد دھوتے اور نہ ہی کتوں کو مارتے۔ جن مساجد سے جانوروں کے حقوق اور ان سے صلہ رحمی کی تعلیمات دی جانی چاہئے تھیں ان مساجد کے لاؤڈ سپیکر سے بدبخت ڈپٹی کمشنرز کے دھمکی آمیز اعلانات کیے جارہے ہیں کہ جہاں بھی کتا نظر آیا زہر دے کر مار دیا جائے گا۔ اے اللہ ان مولویوں نے پنجاب حکومت کے وظیفے کے بدلے یا فرعون بنے ڈی سی کے حکم کے سامنے سر جھکاتے ہوئے خلاف اسلام و انسانیت اعلان کر دیا۔
    اے اللہ تم نے ایک اونٹنی پر ظلم کے بدلے پوری قوم پر عذاب نازل کیا تھا اے اللہ ان بدبختوں کو بھی زمین میں نگل لے۔

    ایک اور کتیا زاروقطار روتے ہوئے دربار الہی میں انصاف کیلئے گرگراتے ہوئے بولی کہ اے پرودگار عالم انصاف کا تقاضہ ہے کہ میرے بچوں کو یتیم کرنے والوں کے بچوں کو بھی یتیم کر، جس درندگی سے ماؤں کے سامنے ان کے بچے مارے گئے اسی طرح ان ظالموں کو بھی اولاد کا دکھ دے۔

    اے منصف اعلیٰ یہ زمین تو ہماری تھی یہ انسان تو بعد میں آئے پہلے انہوں نے ہمارے جنگلات چھین کر کنکریٹ بچھا دیے، پھر بھی ہم ان کے ساتھ باخوشی رہتے رہے اور روٹی کے چند لقموں کیلئے گلیوں بازاروں اور کوڑے کے ڈھیڑ سے رزق اکٹھا کرتے۔ انہی انسانوں نے ہمارے کچھ ساتھیوں کو گاڑیوں کے نیچے دیگر تو کبھی پتھر مار کر زخمی کیا، زخموں کا اعلاج نہ ہونے سے جب وہ باؤلے ہو کر کاٹنے لگے تو چند باؤلے کتوں کی وجہ سے لاکھوں کو تڑپا تڑپا کر مارنا کہاں کا انصاف؟

    ہمارے نام پر بنائے گئے ادارے اور ویٹنڑی ہسپتالوں میں کرپشن تو کی جاتی ہے مگر ہمارا اعلاج نہیں۔
    اے اللہ کئی مہینوں سے جاری اس بربریت اور خون ریزی کو روکنے کیلئے کسی نے کوشش نہیں کی۔
    صحافیوں سے امید تھی کہ یہ ہماری آواز بنیں گے لیکن ان قلم فروشوں نے ہماری آواز بننے سے اس لیے انکار کردیا کہ انہوں نے سرکاری ٹھیکے اور کام نکلوانے ہوتے ہیں اس لیے یہ بھی اس قتل ناحق پر ہماری آواز نہ بنے۔

    سول سوسائٹی اور جانوروں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے کچھ شہریوں نے انتظامی افراد کو ہمیں پکڑنے اور مارنے سے روکنے کی کوشش کی تو ان بے ضمیر سرکاری کارندوں نے سول سوسائٹی کے ان افراد پر کار سرکار میں مداخلت کے پرچے کروا کے بند کردیا۔
    جب کبھی بین الاقواموں خبروں میں کتوں کا ذکر ہوتا تھا تو یہ سن کر بہت خوشی ہوتی کہ پاکستان کے سٹریٹ ڈاگ کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین کتوں میں ہوتا ہے۔

    اے رب کائنات ہمیں لگتا تھا کہ باقی ادارے تو کرپٹ ہیں لیکن کم از کم اس وطن عزیز کی پاک افواج جس طرح باقی شہریوں کی حفاطت کرتی ہیں ہم بھی تو اس وطن کا حصہ ہیں وہ ہمیں ضرور بچائیں گے لیکن شومئی قسمت کہ ہمارا درد، ناحق بہتا لہو اور چیخ و پکار ان تک بھی نہ پہنچ سکی۔

    سول سرکاری محکموں میں ہر طرف لٹیرے اور بے حس لوگ ہیں سوچا کہ عدلیہ تو ہمارا ساتھ دے گی لیکن وہاں بھی ایک جج صاحب نے ہماری قتل وغارت کو روکنے کے احکامات جاری کرکے دوبارہ پوچھا تک نہیں، سول افسران جو پہلے ہی عدالتی احکامات کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں انہوں نے پہلے سے بھی زیادہ زور و شور سے سرعام فائرنگ اور زہر سے خون ریزی جاری رکھی لیکن کسی جج نے نہ تو ان کو روکا اور نہ توہین عدالت کی کاروائی کی۔ اے منصف اعلیٰ تیری عدالت سے خالی ہاتھ واپس نہیں جاسکتے۔

    یا اللہ پنجاب اور وطن عزیز پاکستان میں مظالم اذیتوں اور بربریت کا شکار معصوم و بے گھر کتےخون ناحق بہانے میں ملوث ہر ظالم کے انجام کے لیے تیرے کُنْ فَیَکونُ کے منتظر ہیں۔

  • رزق کی تقسیم،تحریر: بینا علی

    رزق کی تقسیم،تحریر: بینا علی

    "اور وہ سب سے بہترین رزق دینے والاہے۔”
    ہجرت کو مقدرِ زیست بنے ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا۔ نئے شہر کی اجنبیت ابھی دل پر پوری طرح طاری تھی۔شہر اور لوگ نئے تھے اور زندگی ایک نئے انداز سے خود کو ترتیب دے رہی تھی۔ انہی دنوں ایک صبح میں کچن میں ناشتہ تیار کر رہی تھی کہ اچانک ایک چڑا اور چڑیا کھڑکی کے قریب آ بیٹھے۔ ان کی چہچہاہٹ میں جیسے رزق کی خاموش التجا شامل تھی۔کھڑکی پر مضبوط جالی لگی ہوئی تھی اور اسے کھولنے کا کوئی راستہ نہ تھا، اس لیے بظاہر انہیں کچھ دینا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ مگر جب اللہ کسی کے لیے رزق کا فیصلہ کر دے تو وہ اس کے لیے راستے بھی خود بنا دیتا ہے۔ اچانک میری نظر جالی کے ایک سوراخ پر پڑی۔ میں نے بریڈ کے چند چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کیے اور احتیاط سے اس سوراخ کے ذریعے باہر ڈال دیے۔ چند ہی لمحوں بعد وہ پھدکتے ہوئے آئے اور خوشی خوشی اپنا حصہ لے گئے۔ یہ ایک معمولی سا واقعہ تھا، مگر دل پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔اب یہ روز کا معمول بن چکا ہے۔ وہ ہر صبح اور عصر کے بعد آتے ہیں اور اپنے ساتھ چند دوسری چڑیوں کو بھی لے آتے ہیں۔ جالی کا وہ چھوٹا سا سوراخ ان کے لیے رزق کا دروازہ بن گیا ہے،ایک ایسا دروازہ جسے میں نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے کھولا۔یہ منظر دیکھ کر میں اللہ تعالیٰ کے نظامِ رزق پر حیران رہ گئی۔ ہم خود بھی غمِ روزگار کے تحت ہجرت کرکے اس نئے شہر میں آ بسے ہیں۔ ہمارے لیے بھی رزق کے دروازے وہیں سے کھلتے ہیں جہاں تک ہماری سوچ نہیں پہنچتی۔ اور پھر اللہ تعالیٰ ہمارے ہاتھوں انہی بے زبان پرندوں کا رزق بھی ان تک پہنچا دیتا ہے۔

    کتنی عظیم ہے وہ ذات جو آسمان کی وسعتوں میں اڑنے والے پرندوں کو بھی نہیں بھولتی اور پردیس میں بسنے والے انسانوں کو بھی اپنی رحمت سے محروم نہیں کرتی۔ وہی دل میں خیال ڈالتا ہے اور وہی اسباب مہیا کرتا ہے۔ کبھی جالی کا ایک چھوٹا سا سوراخ اللہ کی رحمت کا وسیلہ بن جاتا ہے، اور کبھی ایک انسان کے ہاتھ اس کی عطا بانٹنے کا ذریعہ۔واقعی، رزق کی تقسیم کا نظام عقل کو حیران اور دل کو مطمئن کر دیتا ہے۔ ہم صرف وسیلہ ہیں، دینے والا تو صرف اللہ ربّ العزت ہے۔ اس کے خزانے بے شمار ہیں وہ جسے دینا چاہے وہاں سے دیتا ہے جہاں سے گمان بھی نہیں ہوتا اور جب اپنے بندوں کو نوازتا ہے تو ان کے ذریعے اپنی دوسری مخلوق کا رزق بھی پہنچا دیتا ہے۔ بے شک رازق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔

  • ڈی سی شپ سدا نہیں رہنی،تحریر:ملک سلمان

    ڈی سی شپ سدا نہیں رہنی،تحریر:ملک سلمان

    معرکہ حق (بنیان مرصوص) میں شاندار کامیابی کے بعد بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت اور سپہ سالار چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر کی دنیا کے بااثر ترین ملٹری سربراہان میں سر فہرست کے اعزاز کے حوالے سے لکھنا چاہ رہا تھا لیکن سوشل میڈیا پر ضلعی انتظامیہ کی طرف سے معصوم کتوں کو مارنے کی بے شمار ویڈیوز دیکھی تو تب سے شدید افسردہ ہوں، کئی گھنٹوں سے آنکھیں نم ناک، دل بوجھل اور نیند کوسوں دور ہے۔

    فیلڈ مارشل کی بدولت آج پاکستان دنیا کی افق پر چمک رہا ہے لیکن یہی پاکستان خاص طور پر پنجاب اللہ کی مخلوق کیلئے مقتل بنا دیا گیا ہے۔ لاہور سمیت پنجاب بھر کے ڈپٹی کمشنرز نے ڈی سی شپ بچانے کیلئے معصوم و بے گھر کتوں کی لاشوں کے ڈھیڑ لگا دیے۔

    جنگ میں بھی جانوروں کو قتل نہیں کیا جاتا، تاریخ انسانی میں شاید ہی کسی نے اتنی سنگدلی سے معصوم و بے گھروں کتوں کو اس طرح اذیت دے کر مارا ہوگا۔پنجاب کے حکمران اور ڈی سیز کی اکثریت زندہ فرعون بنے ہوئے ہیں، حقیقی خدا کو بھول کر خود کو زمینی خدا ڈکلئیر کرچکے ہیں۔ قرآن میں جتنی دفعہ بھی کتے کا ذکر ہوا مثبت انداز میں ہوا، اصحاب کہف کے واقع میں بھی کتے کی وفادری کی وجہ سے اسے جنت کی بشارت دی گئی۔
    فتح مکہ کے موقع پر رسول ﷺ صحابہ کے ہمراہ جارہے تھے کہ راستے میں ایک کتیا اپنے بچوں کودودھ پلارہی تھی، اللہ کے نبیﷺ نے لشکر کو راستہ بدلنے کا حکم دیا اورصحابی جعیل بن سراقہ کو کتیا اور اس کی بچوں کی حفاظت پر متعین فرمایا کہ دس ہزار کا لشکر گزرتے وقت ان کو نقصان نہ پہنچے۔

    ہمارے نبی تو رحمت العالمین ہیں اور انکا حکم ہے کہ جانوروں کے ساتھ ظلم نہ کرو ان کے ساتھ رحم دلی کا معاملہ کریں۔ کیا حکمران اور ضلعی انتظامیہ اللہ کی بے آواز لاٹھی چلنے اور اس کا عذاب آنے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے ماضی کے فرعونوں کے حال سے سبق نہیں سیکھا؟ ماضی میں کتنے ہی ظالم حکمران و افسران ذہنی مسائل کا شکار ہوکر لاوارثوں کے طرح ہسپتالوں میں مرے تو بہت ساروں نے خودکشیاں کیں جبکہ بے شمار کو اولاد کا دکھ ملا۔ بے سہارا ور بے زبانوں پر ظلم کا بدلہ اس دنیا اور آخرت دونوں میں ہر صورت ملتا ہے۔

    پنجاب اینیمل برتھ کنٹرول پالیسی 2021 قوانین کے مطابق بے گھر کتوں کو مارنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے پالیسی بنائی گئی تھی برتھ کنٹرول کیلئے نیوٹرلائز کیا جائے گا۔ ریہیبلیٹیشن اور شیلٹر فراہم کیا جائے گا۔ کتوں کو ویکسینیشن اور رجسٹرڈ کرکے ٹریکنگ سسٹم کے ساتھ سوسائٹی کا حصہ بنایا جائے گا برتھ کنٹرول اور ویکسینیشن میں ناکامی پر لوکل گورنمنٹ، لائیوسٹاک اور ضلعی انتظامیہ سمیت متعلقہ محکموں اور سرکاری ملازمین کا احتساب کرنے کی بجائے انہی کو منصف بنا کر معصوم کتوں کی نسل کشی پر لگا دینا بدترین ظلم اور بدیانتی نہیں؟ ویٹنری ہسپتال اور مانٹیرنگ کمیٹیاں صرف دکھاوے اور کرپشن کیلئے بنائی جاتی ہیں؟ڈیٹا اینالسز نکال کر دیکھ لیں قیام پاکستان سے لیکر اب تک کتا کاٹنے کے اتنے کیسز نہیں ہیں جتنے کتا مارمہم سے لیکر اب تک سامنے آئے ہیں،

    جب سے کتا مار مہم شروع گئی کی گئی ہے تب سے کتا کاٹنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا کتا اگر مرتا نہیں ہے تو وہ زخموں کی وجہ سے باؤلا ہو جاتا ہے۔ آج تک کسی صحت مند کتے نے کسی شہری کو نہیں کاٹا بلکہ جتنے بھی واقعات ہوئے اس کے پس منظر میں پہلے محلے داروں نے ان کتوں کو زخمی کیا اور پھر وہ انہی زخموں کا علاج نہ ہونے سے باؤلے ہوگئے اور باؤلے پن میں شہریوں پر حملہ کیا۔

    عدلیہ سے سوال ہے کہ یہ توہین عدالت نہیں کہ آپ کے حکم امتناعی کے باوجود ضلعی انتظامیہ سرعام کتوں کو مار رہی ہے، فرعونیت کی اخیر ہے کہ مساجد میں اعلانات کے زریعے شہریوں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ پالتو کتوں کو گھروں میں بند رکھو ورنہ ضلعی انتظامیہ زہر دے کر مار دے گی۔ کورٹ آرڈر کو جوتے کی نوک پر رکھنے والے ڈپٹی کمشنرز کے خلاف کاروائی کیوں نہیں ہورہی؟چیف جسٹس سے گزارش ہے کہ انصاف کا ترازو اس بات کا متقاضی ہے کہ اس قتل و غارت کو روکنے کیلئے فوری ایکشن لیں ورنہ جب آپ حقیقی منصف کی عدالت میں جائیں گے تو وہاں آپ مجرم ٹھہرائے جائیں گے۔

    جناب فیلڈ مارشل آپکی بدولت جس پاکستان کو آج دنیا بھر میں عزت مل رہی ہے مجھے ڈر ہے کہ دنیا کے مہذب ممالک اور جانوروں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیمیں وطن عزیز پاکستان کو بے زبان جانوروں کے قاتل، وحشیوں اور درندوں کی سٹیٹ ڈکلئیر کردیں گے۔ کتوں کے ساتھ صدیوں کے تعلق کو بھول کر چند ناخوشگوار واقعات کی آڑ میں ان کا قتل عام شروع کردینا کسی طور پر بھی جسٹیفائیڈ نہیں۔ کتوں کو مارنا یا انسانوں سے دور کرنا حل نہیں یہ ہزاروں سال سے انسانوں کے ساتھ رہنے کے عادی ہیں انکو انسانوں سے دور نہ کرو،

    یہ جانور نہ صرف معصوم اور پیارے ہیں بلکہ اس زمین کیلئے ضروری بھی ہیں انہیں ختم کرکے ماحولیاتی تبدیلیوں کو مزید سنگین اور خطرناک حد تک نہ لیکر جائیں۔ حکومت اور سرکاری انتظامی مشینری کو چاہئے کہ ان بے گھر کتوں کو زہر نہیں ویکسینشن کریں تاکہ یہ بھی معاشرے کا پرامن اور خوبصورت کردار بن کر زندگی گزار سکیں۔
    ان بے زبانوں کو روٹی ملنی چاہئے۔ زخمی کتوں کو فوری طور پر علاج معالجہ فراہم کیا جائے تو باؤلے ہو کر کاٹے گے نہیں۔

    کتوں کو مارنے کے واقعات کے دوران بے شمار شہری فائرنگ سے زخمی ہوئے، اسی طرح کتوں کو مارنے کیلئے پھینکے گئے strychnine زہر سے بچوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ زخمیوں اور جانبحق بچوں کے ورثاء کو ڈرا دھماکر چپ کروایا گیا۔ ضلعی انتظامیہ کی فائرنگ اور زہر سے زخمی ہونے والے شہریوں کی ہلاکتوں او زخمیوں کا ذمہ دار کون؟
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟تحریر: بینا علی

    میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟تحریر: بینا علی

    ڈیرہ غازی خان کے ایک نجی اسکول میں چھت گرنے سے چار معصوم بچے شہید اور متعدد زخمی ہو گئے جبکہ بعض زخمی بچوں کی حالت تاحال تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسا المیہ ہے جس نے ہر حساس دل کو لہولہان کر دیا ہے۔ مائیں اپنے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے تیار کر کے دعاؤں کے حصار میں اسکول روانہ کرتی ہیں مگر جب واپسی کفن میں لپٹے چہروں کے ساتھ ہو تو یہ صرف ایک خبر نہیں رہتی بلکہ قیامت بن جاتی ہے۔ یہ اس ماں کا نوحہ ہے جس کی گود دس برس بعد ہری ہوئی تھی مگر چند لمحوں کی غفلت نے اس کی دنیا اجاڑ دی۔ کسی گھر میں معمولی سا پلستر بھی اکھڑ جائے تو اہلِ خانہ فوراً متوجہ ہو جاتے ہیں پھر ایک ایسی عمارت، جہاں روزانہ سینکڑوں بچے موجود ہوں، اس کی خستہ حالی اسکول انتظامیہ کی نظروں سے کیسے اوجھل رہی؟ کیا فیسیں صرف عمارتوں کی زیبائش، اشتہارات اور نام نہاد معیار کے لیے وصول کی جاتی ہیں؟ کیا بچوں کی جانوں کی کوئی قیمت نہیں؟ مجھے یاد ہے کہ حال ہی میں میرے شوہرِ محترم کا ڈرائیونگ لائسنس بننا تھا۔ ان سے مختلف ٹیسٹ لیے گئے تاکہ یہ یقین کیا جا سکے کہ وہ گاڑی چلانے کے اہل ہیں تب جا کر لائسنس جاری کیا گیا افسوس کہ سینکڑوں بچوں کے مستقبل اور جانیں جن اداروں کے حوالے کی جاتی ہیں، ان کے لیے نہ کوئی مؤثر جانچ کا نظام ہے نہ حفاظتی معائنوں کی پابندی، اور نہ ہی کسی غفلت پر فوری احتساب اربابِ اختیار کو اب بیانات سے آگے بڑھنا ہو گا۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ پورے ملک میں تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا ہنگامی بنیادوں پر سروے کیا جائے۔ ایسی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو اسکولوں کی عمارتوں، چھتوں، بجلی کے نظام، ہنگامی راستوں اور حفاظتی انتظامات کا باقاعدہ معائنہ کریں۔ ہر اسکول کے لیے “سیفٹی سرٹیفکیٹ” لازم قرار دیا جائے، اور جو ادارے حفاظتی اصول پورے نہ کریں، انہیں فوری طور پر بند کر دیا جائے۔اس کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی حق دیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کے اسکول کی عمارت اور حفاظتی انتظامات کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کر سکیں۔ تعلیمی اداروں میں سال میں کم از کم دو مرتبہ حفاظتی مشقیں کروائی جائیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بچوں اور اساتذہ کو محفوظ طریقے سے نکالا جا سکے۔ یہ وقت صرف افسوس کرنے کا نہیں، بلکہ جاگنے کا ہے۔ اگر آج بھی غفلت کے ذمہ داروں کا احتساب نہ ہوا تو کل کسی اور ماں کی گود اجڑے گی کسی اور باپ کا سہارا چھن جائے گا اور پھر یہی سوال فضا میں گونجے گا:
    “میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟”

  • قاضیاں مبینہ زیادتی کیس، واقعہ سابقہ قتل کیس سے جوڑنے کی کوشش، تحقیقات کا دائرہ وسیع

    قاضیاں مبینہ زیادتی کیس، واقعہ سابقہ قتل کیس سے جوڑنے کی کوشش، تحقیقات کا دائرہ وسیع

    زیادتی کا الزام یا انتقامی کارروائی؟ قاضی عتیق نے الزامات کو گواہی سے روکنے کی سازش قرار دیا خاتون نے کا ویڈیو بیان بھی جاری
    گوجر خان زیادتی مقدمے کی شفاف انکوائری اور موبائل ڈیٹا سی ڈی آر چیک کرنے کا مطالبہ پولیس کا میرٹ پر تفتیش کا عزم

    گوجر خان (قمرشہزاد)گوجر خان کے نواحی علاقے قاضیاں میں خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے مقدمے نے ایک نئی اور انتہائی پیچیدہ صورتحال اختیار کر لی ہے، جس کے تانے بانے چند ہفتے قبل ہونے والے ایک ہائی پروفائل قتل کیس سے ملتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات اور مقامی ذرائع کے مطابق، اس واقعے کو محض ایک جرم کے طور پر نہیں بلکہ سابقہ دشمنی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جبکہ وکٹم خاتون نے بھی ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسکے ساتھ زیادتی کی گئی ہے تین ماہ بعد رپورٹ آئے گی حقائق سامنے آ جائیں گے دو ملزمان مجھے بیڈ روم لے گے میں بھاگتی رہی دونوں نے زیادتی کی تیسرے نے ویڈیو بنائی۔

    تفصیلات کے مطابق، چند ہفتے قبل قاضیاں میں قاضی عمیر نامی نوجوان کو سرعام قتل کر دیا گیا تھا، جس میں قاضی عتیق نامی شہری زخمی ہوئے تھے۔ اس قتل کیس میں قاضی حیدر اور قاضی کلیم نامزد ملزمان ہیں۔ اب حالیہ واقعے میں ملزم قاضی حیدر کی ملازمہ نے قاضی عتیق کے بیٹے اور بھانجے پر زیادتی کا الزام عائد کیا ہے، جسے قاضی عتیق نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔قاضی عتیق کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ مقدمہ سراسر بے بنیاد اور ایک سوچی سمجھی سازش ہے، جس کا واحد مقصد انہیں قتل کیس میں گواہی دینے سے روکنا اور دباؤ ڈالنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وقوعہ کے وقت ان کا بیٹا گھر پر موجود تھا اور مخالف فریق قانونی گرفت سے بچنے کے لیے خواتین کو ڈھال بنا کر انتقامی کارروائی کر رہا ہے۔انہوں نے اے ایس پی گوجر خان سے مطالبہ کیا ہے کہ مقدمے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ جدید تکنیکی شواہد، موبائل لوکیشن (CDR) اور حقائق کو مدنظر رکھا جائے تاکہ سچ سامنے آ سکے اور کسی بے گناہ کی ساکھ کو نقصان نہ پہنچے۔ دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی تفتیش جاری ہے اور تمام سائنسی و قانونی پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے میرٹ پر فیصلہ کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ تھانہ گوجرخان کی چوکی قاضیاں کی حدود میں درندگی کا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ملزمان نے گھر میں گھس کر ایک شادی شدہ خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ پولیس نے خاتون کی درخواست پر فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے اور ذرائع کے مطابق ایک ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    قاضیاں کی رہائشی مسمات ش نے پولیس کو دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ان کے شوہر کام پر اور بچے سکول گئے ہوئے تھے کہ صبح نو بجے کے قریب وہ گھر کا فرش دھو رہی تھی قاضی مہتاب اور قاضی حماس نامی ملزمان ایک نامعلوم ساتھی کے ہمراہ زبردستی گھر میں داخل ہوئے۔ ملزمان نے خاتون کو کمرے میں لے جا کر باری باری زیادتی کا نشانہ بنایا جبکہ ان کا تیسرا نامعلوم ساتھی اس گھناؤنے فعل کی ویڈیو بناتا رہا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی انچارج چوکی قاضیاں لیاقت شاہ نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور متاثرہ خاتون کو طبی معائنے کے لیے لیڈی کانسٹیبل کے ہمراہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال گوجرخان منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 382/26 بجرم 375A اور 292 ت پ کے تحت درج کر کے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ دوسری جانب گوجرخان سرکل میں خواتین اور بچوں کیساتھ ہراسانی اور زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر عوامی حلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    عوامی حلقوں نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ اب تک رپورٹ ہونے والے کسی بھی کیس میں نہ تو پولیس کا روایتی نیفے میں پستول چلنے پولیس مقابلے والا خوف نظر آیا اور نہ ہی ایسے کیسز کو کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ سی سی ڈی کے حوالے کیا گیا۔ شہریوں نے آئی جی پنجاب اور آر پی او راولپنڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے مقدمات کے ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے کیسسز فوری طور پر سی سی ڈی کے سپرد کیے جائیں تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رہ سکے اور خواتین اور بچے خود کو محفوظ تصور کر سکیں۔

  • ستھرا پنجاب پروگرام گوجرخان میں کرپشن یا کام چوری،ورکرز کا احتجاج، شہر کچرا کنڈی بن گیا

    ستھرا پنجاب پروگرام گوجرخان میں کرپشن یا کام چوری،ورکرز کا احتجاج، شہر کچرا کنڈی بن گیا

    بایومیٹرک مانیٹرنگ کا سنسنی خیز انکشاف 40 ہزار تنخواہ کے بدلے 26 ہزار کیوں؟ غیر حاضر ملازمین کا احتجاج کے نام پر بلیک میلنگ کا دھندہ بے نقاب
    عوامی حلقوں کا شدید غم و غصہ گلیاں گندگی سے تعفن زدہ، سوزوکیوں پر چکر لگا کر غائب ہونے والے بھوت ورکرز کے خلاف فوری انکوائری اور برطرفی کا مطالبہ

    گوجرخان(قمرشہزاد)حکومتِ پنجاب کا اربوں روپے کا ستھرا پنجاب پروگرام گوجرخان میں افسر شاہی، سینیٹری ورکرز کی کام چوری اور مبینہ بلیک میلنگ کی نذر ہو گیا۔ ایک طرف صفائی ملازمین نے تنخواہوں کی کٹوتی اور اعزازیہ نہ ملنے کا رونا رو کر سڑکوں پر احتجاج شروع کر رکھا ہے، تو دوسری طرف شہر کی گلی محلے اور تجارتی مراکز کچرا کنڈی کا منظر پیش کر رہے ہیں، جس نے حکومتی دعووں کے پرخچے اڑا دیے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق احتجاجی ورکرز کا مؤقف ہے کہ ان کی تنخواہ 40 ہزار روپے مقرر ہے مگر انہیں صرف 26 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں، جو ان کے معاشی استحصال کے مترادف ہے۔ دوسری جانب آپریشنل مینیجر بابر شکیل نے اس احتجاج کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے سنسنی خیز حقائق سامنے رکھ دیے۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ 40 ہزار روپے کی پوری تنخواہ کے لیے ماہانہ 26 دن کی حاضری لازمی ہے، جبکہ تمام ورکرز کی حاضری کا نظام مکمل طور پر بائیومیٹرک ہے۔ اس ڈیجیٹل حاضری کی مانیٹرنگ براہِ راست اعلیٰ حکام کر رہے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ تنخواہیں صرف ان ورکرز کی کاٹی گئی ہیں جو ڈیوٹی سے غائب رہتے ہیں اور جن کی حاضری پوری نہیں ہے۔

    دوسری جانب، اس سارے ڈرامے پر گوجرخان کے شہریوں کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ عوامی حلقوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے چشم کشا حقائق سے پردہ اٹھایا ہے کہ احتجاج کرنے والے یہ مٹھی بھر ورکرز کبھی گلیوں یا سڑکوں پر صفائی کرتے نظر نہیں آئے۔ صفائی کے نام پر صرف یہ ہوتا ہے کہ سرکاری سوزوکیاں اتی ہیں، ورکرز چکر لگا کر غائب ہو جاتے ہیں اور گندگی کے ڈھیر جوں کے توں پڑے رہتے ہیں جب ان پر سختی کی جائے یا کام لیا جائے تو یہ لوگ افسران کو بلیک میل کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے اپنائے ہیں۔شہر کی سماجی و عوامی تنظیموں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور مانیٹرنگ حکام سے اس سنگین معاملے پر فوری اور سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی اعلیٰ سطحی انکوائری ہونی چاہیے۔ اگر افسران ورکرز کا حق مار رہے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے، لیکن اگر بائیومیٹرک ریکارڈ کے مطابق ورکرز کی حاضری کم ہے اور وہ محض اپنی کام چوری چھپانے کے لیے شہر کو یرغمال بنا رہے ہیں، تو ایسے اشتعال انگیز، شر پسند اور بلیک میلر ڈیلی ویجز و سرکاری ملازمین کو فوری طور پر نوکریوں سے برخاست کیا جائے۔ گوجرخان کے عوام نے دوٹوک کہا ہے کہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ کام چوروں اور بلیک میلروں کی جیبوں میں جانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔