بھارت کی ریاست منی پور میں عیسائی تنظیم کے صدر سمیت تین مذہبی رہنماؤں کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا، جبکہ حملے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلح افراد نے گھات لگا کر عیسائی رہنماؤں کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ حملے کے نتیجے میں عیسائی تنظیم کے صدر سمیت تین اہم مذہبی شخصیات جان کی بازی ہار گئیں۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔واقعے کے بعد ریاست بھر میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ عیسائی رہنماؤں پر قاتلانہ حملے کے خلاف مقامی تنظیموں اور شہریوں نے احتجاجی مظاہرے کیے جبکہ کئی علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال بھی کی گئی۔ احتجاج کے باعث کاروباری مراکز، سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے بند رہے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل بھی منی پور میں علیحدگی پسندوں نے آسام رائفلرز کے ایک کیمپ پر قبضہ کر لیا تھا، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔ اس تازہ واقعے کے بعد ریاست میں امن و امان کی صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
