Baaghi TV

ڈی سی شپ سدا نہیں رہنی،تحریر:ملک سلمان

malik salman

معرکہ حق (بنیان مرصوص) میں شاندار کامیابی کے بعد بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت اور سپہ سالار چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر کی دنیا کے بااثر ترین ملٹری سربراہان میں سر فہرست کے اعزاز کے حوالے سے لکھنا چاہ رہا تھا لیکن سوشل میڈیا پر ضلعی انتظامیہ کی طرف سے معصوم کتوں کو مارنے کی بے شمار ویڈیوز دیکھی تو تب سے شدید افسردہ ہوں، کئی گھنٹوں سے آنکھیں نم ناک، دل بوجھل اور نیند کوسوں دور ہے۔

فیلڈ مارشل کی بدولت آج پاکستان دنیا کی افق پر چمک رہا ہے لیکن یہی پاکستان خاص طور پر پنجاب اللہ کی مخلوق کیلئے مقتل بنا دیا گیا ہے۔ لاہور سمیت پنجاب بھر کے ڈپٹی کمشنرز نے ڈی سی شپ بچانے کیلئے معصوم و بے گھر کتوں کی لاشوں کے ڈھیڑ لگا دیے۔

جنگ میں بھی جانوروں کو قتل نہیں کیا جاتا، تاریخ انسانی میں شاید ہی کسی نے اتنی سنگدلی سے معصوم و بے گھروں کتوں کو اس طرح اذیت دے کر مارا ہوگا۔پنجاب کے حکمران اور ڈی سیز کی اکثریت زندہ فرعون بنے ہوئے ہیں، حقیقی خدا کو بھول کر خود کو زمینی خدا ڈکلئیر کرچکے ہیں۔ قرآن میں جتنی دفعہ بھی کتے کا ذکر ہوا مثبت انداز میں ہوا، اصحاب کہف کے واقع میں بھی کتے کی وفادری کی وجہ سے اسے جنت کی بشارت دی گئی۔
فتح مکہ کے موقع پر رسول ﷺ صحابہ کے ہمراہ جارہے تھے کہ راستے میں ایک کتیا اپنے بچوں کودودھ پلارہی تھی، اللہ کے نبیﷺ نے لشکر کو راستہ بدلنے کا حکم دیا اورصحابی جعیل بن سراقہ کو کتیا اور اس کی بچوں کی حفاظت پر متعین فرمایا کہ دس ہزار کا لشکر گزرتے وقت ان کو نقصان نہ پہنچے۔

ہمارے نبی تو رحمت العالمین ہیں اور انکا حکم ہے کہ جانوروں کے ساتھ ظلم نہ کرو ان کے ساتھ رحم دلی کا معاملہ کریں۔ کیا حکمران اور ضلعی انتظامیہ اللہ کی بے آواز لاٹھی چلنے اور اس کا عذاب آنے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے ماضی کے فرعونوں کے حال سے سبق نہیں سیکھا؟ ماضی میں کتنے ہی ظالم حکمران و افسران ذہنی مسائل کا شکار ہوکر لاوارثوں کے طرح ہسپتالوں میں مرے تو بہت ساروں نے خودکشیاں کیں جبکہ بے شمار کو اولاد کا دکھ ملا۔ بے سہارا ور بے زبانوں پر ظلم کا بدلہ اس دنیا اور آخرت دونوں میں ہر صورت ملتا ہے۔

پنجاب اینیمل برتھ کنٹرول پالیسی 2021 قوانین کے مطابق بے گھر کتوں کو مارنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے پالیسی بنائی گئی تھی برتھ کنٹرول کیلئے نیوٹرلائز کیا جائے گا۔ ریہیبلیٹیشن اور شیلٹر فراہم کیا جائے گا۔ کتوں کو ویکسینیشن اور رجسٹرڈ کرکے ٹریکنگ سسٹم کے ساتھ سوسائٹی کا حصہ بنایا جائے گا برتھ کنٹرول اور ویکسینیشن میں ناکامی پر لوکل گورنمنٹ، لائیوسٹاک اور ضلعی انتظامیہ سمیت متعلقہ محکموں اور سرکاری ملازمین کا احتساب کرنے کی بجائے انہی کو منصف بنا کر معصوم کتوں کی نسل کشی پر لگا دینا بدترین ظلم اور بدیانتی نہیں؟ ویٹنری ہسپتال اور مانٹیرنگ کمیٹیاں صرف دکھاوے اور کرپشن کیلئے بنائی جاتی ہیں؟ڈیٹا اینالسز نکال کر دیکھ لیں قیام پاکستان سے لیکر اب تک کتا کاٹنے کے اتنے کیسز نہیں ہیں جتنے کتا مارمہم سے لیکر اب تک سامنے آئے ہیں،

جب سے کتا مار مہم شروع گئی کی گئی ہے تب سے کتا کاٹنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا کتا اگر مرتا نہیں ہے تو وہ زخموں کی وجہ سے باؤلا ہو جاتا ہے۔ آج تک کسی صحت مند کتے نے کسی شہری کو نہیں کاٹا بلکہ جتنے بھی واقعات ہوئے اس کے پس منظر میں پہلے محلے داروں نے ان کتوں کو زخمی کیا اور پھر وہ انہی زخموں کا علاج نہ ہونے سے باؤلے ہوگئے اور باؤلے پن میں شہریوں پر حملہ کیا۔

عدلیہ سے سوال ہے کہ یہ توہین عدالت نہیں کہ آپ کے حکم امتناعی کے باوجود ضلعی انتظامیہ سرعام کتوں کو مار رہی ہے، فرعونیت کی اخیر ہے کہ مساجد میں اعلانات کے زریعے شہریوں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ پالتو کتوں کو گھروں میں بند رکھو ورنہ ضلعی انتظامیہ زہر دے کر مار دے گی۔ کورٹ آرڈر کو جوتے کی نوک پر رکھنے والے ڈپٹی کمشنرز کے خلاف کاروائی کیوں نہیں ہورہی؟چیف جسٹس سے گزارش ہے کہ انصاف کا ترازو اس بات کا متقاضی ہے کہ اس قتل و غارت کو روکنے کیلئے فوری ایکشن لیں ورنہ جب آپ حقیقی منصف کی عدالت میں جائیں گے تو وہاں آپ مجرم ٹھہرائے جائیں گے۔

جناب فیلڈ مارشل آپکی بدولت جس پاکستان کو آج دنیا بھر میں عزت مل رہی ہے مجھے ڈر ہے کہ دنیا کے مہذب ممالک اور جانوروں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیمیں وطن عزیز پاکستان کو بے زبان جانوروں کے قاتل، وحشیوں اور درندوں کی سٹیٹ ڈکلئیر کردیں گے۔ کتوں کے ساتھ صدیوں کے تعلق کو بھول کر چند ناخوشگوار واقعات کی آڑ میں ان کا قتل عام شروع کردینا کسی طور پر بھی جسٹیفائیڈ نہیں۔ کتوں کو مارنا یا انسانوں سے دور کرنا حل نہیں یہ ہزاروں سال سے انسانوں کے ساتھ رہنے کے عادی ہیں انکو انسانوں سے دور نہ کرو،

یہ جانور نہ صرف معصوم اور پیارے ہیں بلکہ اس زمین کیلئے ضروری بھی ہیں انہیں ختم کرکے ماحولیاتی تبدیلیوں کو مزید سنگین اور خطرناک حد تک نہ لیکر جائیں۔ حکومت اور سرکاری انتظامی مشینری کو چاہئے کہ ان بے گھر کتوں کو زہر نہیں ویکسینشن کریں تاکہ یہ بھی معاشرے کا پرامن اور خوبصورت کردار بن کر زندگی گزار سکیں۔
ان بے زبانوں کو روٹی ملنی چاہئے۔ زخمی کتوں کو فوری طور پر علاج معالجہ فراہم کیا جائے تو باؤلے ہو کر کاٹے گے نہیں۔

کتوں کو مارنے کے واقعات کے دوران بے شمار شہری فائرنگ سے زخمی ہوئے، اسی طرح کتوں کو مارنے کیلئے پھینکے گئے strychnine زہر سے بچوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ زخمیوں اور جانبحق بچوں کے ورثاء کو ڈرا دھماکر چپ کروایا گیا۔ ضلعی انتظامیہ کی فائرنگ اور زہر سے زخمی ہونے والے شہریوں کی ہلاکتوں او زخمیوں کا ذمہ دار کون؟
ملک سلمان
maliksalman2008@gmail.com

More posts