زیادتی کا الزام یا انتقامی کارروائی؟ قاضی عتیق نے الزامات کو گواہی سے روکنے کی سازش قرار دیا خاتون نے کا ویڈیو بیان بھی جاری
گوجر خان زیادتی مقدمے کی شفاف انکوائری اور موبائل ڈیٹا سی ڈی آر چیک کرنے کا مطالبہ پولیس کا میرٹ پر تفتیش کا عزم
گوجر خان (قمرشہزاد)گوجر خان کے نواحی علاقے قاضیاں میں خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے مقدمے نے ایک نئی اور انتہائی پیچیدہ صورتحال اختیار کر لی ہے، جس کے تانے بانے چند ہفتے قبل ہونے والے ایک ہائی پروفائل قتل کیس سے ملتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات اور مقامی ذرائع کے مطابق، اس واقعے کو محض ایک جرم کے طور پر نہیں بلکہ سابقہ دشمنی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جبکہ وکٹم خاتون نے بھی ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسکے ساتھ زیادتی کی گئی ہے تین ماہ بعد رپورٹ آئے گی حقائق سامنے آ جائیں گے دو ملزمان مجھے بیڈ روم لے گے میں بھاگتی رہی دونوں نے زیادتی کی تیسرے نے ویڈیو بنائی۔
تفصیلات کے مطابق، چند ہفتے قبل قاضیاں میں قاضی عمیر نامی نوجوان کو سرعام قتل کر دیا گیا تھا، جس میں قاضی عتیق نامی شہری زخمی ہوئے تھے۔ اس قتل کیس میں قاضی حیدر اور قاضی کلیم نامزد ملزمان ہیں۔ اب حالیہ واقعے میں ملزم قاضی حیدر کی ملازمہ نے قاضی عتیق کے بیٹے اور بھانجے پر زیادتی کا الزام عائد کیا ہے، جسے قاضی عتیق نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔قاضی عتیق کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ مقدمہ سراسر بے بنیاد اور ایک سوچی سمجھی سازش ہے، جس کا واحد مقصد انہیں قتل کیس میں گواہی دینے سے روکنا اور دباؤ ڈالنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وقوعہ کے وقت ان کا بیٹا گھر پر موجود تھا اور مخالف فریق قانونی گرفت سے بچنے کے لیے خواتین کو ڈھال بنا کر انتقامی کارروائی کر رہا ہے۔انہوں نے اے ایس پی گوجر خان سے مطالبہ کیا ہے کہ مقدمے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ جدید تکنیکی شواہد، موبائل لوکیشن (CDR) اور حقائق کو مدنظر رکھا جائے تاکہ سچ سامنے آ سکے اور کسی بے گناہ کی ساکھ کو نقصان نہ پہنچے۔ دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی تفتیش جاری ہے اور تمام سائنسی و قانونی پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے میرٹ پر فیصلہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ تھانہ گوجرخان کی چوکی قاضیاں کی حدود میں درندگی کا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ملزمان نے گھر میں گھس کر ایک شادی شدہ خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ پولیس نے خاتون کی درخواست پر فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے اور ذرائع کے مطابق ایک ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
قاضیاں کی رہائشی مسمات ش نے پولیس کو دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ان کے شوہر کام پر اور بچے سکول گئے ہوئے تھے کہ صبح نو بجے کے قریب وہ گھر کا فرش دھو رہی تھی قاضی مہتاب اور قاضی حماس نامی ملزمان ایک نامعلوم ساتھی کے ہمراہ زبردستی گھر میں داخل ہوئے۔ ملزمان نے خاتون کو کمرے میں لے جا کر باری باری زیادتی کا نشانہ بنایا جبکہ ان کا تیسرا نامعلوم ساتھی اس گھناؤنے فعل کی ویڈیو بناتا رہا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی انچارج چوکی قاضیاں لیاقت شاہ نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور متاثرہ خاتون کو طبی معائنے کے لیے لیڈی کانسٹیبل کے ہمراہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال گوجرخان منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 382/26 بجرم 375A اور 292 ت پ کے تحت درج کر کے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ دوسری جانب گوجرخان سرکل میں خواتین اور بچوں کیساتھ ہراسانی اور زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر عوامی حلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
عوامی حلقوں نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ اب تک رپورٹ ہونے والے کسی بھی کیس میں نہ تو پولیس کا روایتی نیفے میں پستول چلنے پولیس مقابلے والا خوف نظر آیا اور نہ ہی ایسے کیسز کو کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ سی سی ڈی کے حوالے کیا گیا۔ شہریوں نے آئی جی پنجاب اور آر پی او راولپنڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے مقدمات کے ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے کیسسز فوری طور پر سی سی ڈی کے سپرد کیے جائیں تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رہ سکے اور خواتین اور بچے خود کو محفوظ تصور کر سکیں۔
