Baaghi TV

Blog

  • پاکستان نے پہلی بار چین میں ’پانڈا بانڈ‘ جاری کر دیا

    پاکستان نے پہلی بار چین میں ’پانڈا بانڈ‘ جاری کر دیا

    ‎پاکستان نے پہلی بار چین کی مالیاتی منڈی میں “پانڈا بانڈ” جاری کر کے ایک اہم معاشی سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق ابتدائی مرحلے میں 1.75 ارب چینی یوآن، یعنی تقریباً 25 کروڑ امریکی ڈالر حاصل کیے گئے ہیں۔
    ‎وزارت خزانہ نے بتایا کہ اس بانڈ پر 2.5 فیصد منافع دیا جائے گا، جبکہ اس اقدام کے ذریعے پاکستان کو پہلی مرتبہ چین کی مقامی سرمایہ کاری مارکیٹ تک براہِ راست رسائی حاصل ہوئی ہے۔
    ‎وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اس وقت بیجنگ میں موجود ہیں جہاں وہ اس مالیاتی منصوبے کی نگرانی کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق “پانڈا بانڈ” کا مجموعی ہدف ایک ارب ڈالر رکھا گیا ہے، جبکہ پہلے مرحلے میں 250 ملین ڈالر مالیت کے بانڈ جاری کیے گئے ہیں۔
    ‎پانڈا بانڈ دراصل چین کی مقامی مارکیٹ میں غیر ملکی حکومت یا ادارے کی جانب سے چینی کرنسی “یوآن” میں جاری کیے جانے والے بانڈز ہوتے ہیں۔ ان کا نام چین کی قومی علامت پانڈا کے نام پر رکھا گیا ہے، بالکل اسی طرح جیسے جاپان میں “سامورائی بانڈ” اور بھارت میں “مصالحہ بانڈ” مشہور ہیں۔
    ‎آسان الفاظ میں، پاکستان چین کی مارکیٹ سے یوآن کرنسی میں قرض حاصل کرے گا، جسے بعد میں سود سمیت واپس کرنا ہوگا۔ اس منصوبے کے تحت چینی سرمایہ کار بانڈز خرید کر پاکستان کو یوآن فراہم کریں گے، جنہیں پاکستان درآمدی ادائیگیوں اور مالیاتی ضروریات کے لیے استعمال کر سکے گا۔
    ‎وزارت خزانہ کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملے گا بلکہ معیشت کو استحکام دینے اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کے اعتماد کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔
    ‎معاشی ماہرین کے مطابق پانڈا بانڈ کا اجرا پاکستان کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے کیونکہ اس سے ملک کو ڈالر پر انحصار کم کرنے اور متبادل مالیاتی ذرائع تک رسائی حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔

  • انسٹا گرام کی نئی ایپ “انسٹنٹس” متعارف، تصاویر خودکار طور پر غائب ہو جائیں گی

    انسٹا گرام کی نئی ایپ “انسٹنٹس” متعارف، تصاویر خودکار طور پر غائب ہو جائیں گی

    ‎انسٹا گرام نے صارفین کے لیے ایک نئی اور منفرد ایپ “انسٹنٹس” متعارف کرا دی ہے، جس کا مقصد حقیقی زندگی کے لمحات کو فوری اور قدرتی انداز میں شیئر کرنا ہے۔
    ‎کمپنی کے مطابق اس نئی ایپ میں صارفین ایسی تصاویر شیئر کر سکیں گے جو ایک بار دیکھے جانے کے بعد خودکار طور پر غائب ہو جائیں گی، جبکہ اگر تصویر نہ دیکھی جائے تو وہ صرف 24 گھنٹوں تک دستیاب رہے گی۔
    ‎انسٹنٹس ایپ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں تصاویر کو ایڈٹ کرنے کی سہولت موجود نہیں ہوگی۔ صارف صرف ایک کلک کے ذریعے تصویر کھینچ کر فوراً شیئر کر سکیں گے، تاکہ تصاویر زیادہ قدرتی اور حقیقی محسوس ہوں۔
    ‎کمپنی نے واضح کیا ہے کہ فون گیلری میں موجود پرانی تصاویر اپ لوڈ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تمام تصاویر صرف ایپ کے اندر موجود کیمرے کے ذریعے ہی لی جا سکیں گی۔ البتہ صارفین تصاویر پر مختصر ٹیکسٹ ضرور شامل کر سکیں گے، لیکن فلٹرز یا دیگر ایڈیٹنگ فیچرز دستیاب نہیں ہوں گے۔
    ‎انسٹا گرام کے مطابق اس ایپ کو خاص طور پر “ریئل لائف شیئرنگ” کے تصور کے تحت ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ لوگ بغیر مصنوعی فلٹرز کے اپنی اصل زندگی کے لمحات دوستوں اور فالوورز کے ساتھ شیئر کر سکیں۔
    ‎کمپنی نے بتایا کہ انسٹنٹس ایپ کو الگ سے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ انسٹا گرام کے اندر بھی استعمال کیا جا سکے گا۔ صارفین انسٹا گرام ان باکس کے نیچے دائیں کونے میں انسٹنٹس فیچر دیکھ سکیں گے، جہاں وہ منتخب افراد کو تصاویر بھیج سکیں گے۔
    ‎سکیورٹی اور پرائیویسی کے حوالے سے کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ انسٹنٹس تصاویر کے اسکرین شاٹس لینا ممکن نہیں ہوگا۔ تاہم اگر کسی صارف نے تصویر خود بھیجی ہو تو وہ اسے ایک پرائیویٹ فولڈر میں محفوظ کر سکے گا۔

  • چینی جہازوں کی آبنائے ہرمز سے آمدورفت دوبارہ شروع

    چینی جہازوں کی آبنائے ہرمز سے آمدورفت دوبارہ شروع

    ‎ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی بحری جہازوں کی آبنائے ہرمز سے آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ ایرانی خبر ایجنسی فارس کے مطابق یہ پیش رفت ایران اور متعلقہ فریقوں کے درمیان انتظامی پروٹوکولز پر مفاہمت کے بعد سامنے آئی ہے۔
    ‎رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے بعض چینی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے، جس کے بعد کل سے ان جہازوں کی نقل و حرکت بحال ہونا شروع ہو گئی۔
    ‎ایرانی میڈیا کے مطابق یہ اجازت مخصوص انتظامی اور سکیورٹی قواعد و ضوابط کے تحت دی گئی ہے تاکہ خطے میں بحری آمدورفت کو منظم اور محفوظ بنایا جا سکے۔
    ‎یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ایران، امریکا اور مغربی ممالک کے درمیان جاری تناؤ کے سبب اس اہم بحری راستے میں جہازوں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے چین جیسے بڑے درآمد کنندہ ملک کے جہازوں کی آمدورفت کی بحالی عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے چینی جہازوں کو اجازت دینا دونوں ممالک کے قریبی اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ چین پہلے ہی ایران کے توانائی شعبے میں اہم شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔
    ‎دوسری جانب عالمی مبصرین خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تجارت، تیل کی قیمتوں اور معیشت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

  • پاکستان نے بھارت میں مذاکرات کی آوازوں کو مثبت پیش رفت قرار دے دیا

    پاکستان نے بھارت میں مذاکرات کی آوازوں کو مثبت پیش رفت قرار دے دیا

    ‎پاکستان نے بھارت میں مذاکرات اور تعلقات بہتر بنانے کے حوالے سے سامنے آنے والی آوازوں کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھارتی حکومت کے ردعمل کا انتظار کر رہا ہے۔
    ‎ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ بھارت میں اب مذاکرات کی باتیں کرنے والی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، جو خطے میں امن کے لیے خوش آئند اشارہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امید کرتا ہے کہ بھارتی حکومت بھی ان آوازوں پر مثبت ردعمل دے گی۔
    ‎ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کو اس وقت کسی ٹریک ٹو یا بیک ڈور ڈپلومیسی سے متعلق معلومات نہیں ہیں، تاہم پاکستان خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے بامعنی مذاکرات اور سفارتکاری پر یقین رکھتا ہے۔
    ‎دفتر خارجہ کے ترجمان نے بنوں کی فتح خیل پولیس چیک پوسٹ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت بھی کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے باقاعدہ ڈی مارش دیا گیا ہے۔
    ‎ترجمان کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی افغان سرزمین سے کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کاروں کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
    ‎علاقائی سفارتکاری کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان امریکا اور چین کے درمیان جاری رابطوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔ وزیراعظم کے متوقع دورۂ چین کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ تاریخ حتمی ہونے پر باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
    ‎ترجمان دفتر خارجہ نے سی بی ایس کی ایرانی طیارے سے متعلق رپورٹ کو بھی مسترد کرتے ہوئے اسے “گمراہ کن اور حقائق کے منافی” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ ایرانی طیارہ جنگ بندی کے دوران سفارتی عملے اور انتظامی امور کے سلسلے میں اسلام آباد آیا تھا۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی جانب سے مذاکرات کے لیے نرم سفارتی پیغام خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ بھارت میں بھی بعض حلقوں کی جانب سے بات چیت کی حمایت کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • نجی اسکولوں پر ایک ماہ سے زائد ایڈوانس فیس لینے پر پابندی

    نجی اسکولوں پر ایک ماہ سے زائد ایڈوانس فیس لینے پر پابندی

    ‎وفاقی دارالحکومت میں نجی اسکولوں کے لیے نئے سخت قواعد متعارف کروا دیے گئے ہیں، جن کے تحت اب کوئی بھی پرائیویٹ اسکول ایک ماہ سے زائد ایڈوانس فیس وصول نہیں کر سکے گا۔
    ‎پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) نے والدین کے استحصال کو روکنے اور تعلیمی اداروں میں شفافیت لانے کے لیے یہ اہم فیصلہ کیا ہے۔ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کو بھاری جرمانے، آڈٹ اور حتیٰ کہ سیل کیے جانے جیسی سخت کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
    ‎پیرا کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق تعلیمی سیشن کے 12 مہینوں سے زائد کسی بھی قسم کی فیس وصول کرنا مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ والدین سے اضافی، غیر قانونی یا غیر ضروری فیسیں لینے والے اداروں کے خلاف “زیرو ٹالرنس” پالیسی اپنائی جائے گی۔
    ‎چیئرمین پیرا ڈاکٹر غلام علی ملاح نے کہا کہ طلبہ اور والدین کا استحصال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں کو قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا ہوگا اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
    ‎انہوں نے مزید بتایا کہ والدین کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے خصوصی شکایت سیل بھی قائم کر دیا گیا ہے تاکہ عوام اپنی شکایات آسانی سے درج کرا سکیں۔
    ‎پیرا نے غیر قانونی طور پر چلنے والے نجی اسکولوں کے خلاف بھی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے مستقبل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور تمام اداروں کو رجسٹریشن اور قواعد و ضوابط کی پابندی کرنا ہوگی۔
    ‎والدین نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بعض نجی اسکول کئی ماہ کی فیس ایڈوانس وصول کرکے والدین پر اضافی مالی دباؤ ڈالتے تھے، جس سے متوسط طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہو جاتا تھا۔

  • لیسکو کی نئی سولر پالیسی، 14 کلو واٹ سے زائد سسٹم کیلئے ذاتی ٹرانسفارمر لازمی

    لیسکو کی نئی سولر پالیسی، 14 کلو واٹ سے زائد سسٹم کیلئے ذاتی ٹرانسفارمر لازمی

    ‎لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے نیٹ میٹرنگ کے تحت سولر سسٹم نصب کرنے والے صارفین کے لیے نئی پالیسی متعارف کروا دی ہے، جس کے تحت 14 کلو واٹ سے زائد صلاحیت کے سولر سسٹمز پر ذاتی ٹرانسفارمر لگانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
    ‎لیسکو حکام کے مطابق نئی پالیسی کا مقصد ہائی لوڈ سولر سسٹمز کو بہتر انداز میں ریگولیٹ کرنا اور بجلی کے ترسیلی نظام پر بڑھتے دباؤ کو کم کرنا ہے۔
    ‎کمپنی کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق وہ صارفین جو 14 کلو واٹ تک کا سولر سسٹم لگانا چاہتے ہیں، ان کے لیے پرانا طریقہ کار ہی برقرار رہے گا اور وہ معمول کے مطابق نیٹ میٹرنگ حاصل کر سکیں گے۔
    ‎تاہم 14 کلو واٹ سے زائد صلاحیت کے سولر سسٹمز نصب کرنے والے صارفین کو اب اپنا الگ ٹرانسفارمر خرید کر نصب کرنا ہوگا۔ لیسکو نے واضح کیا ہے کہ ذاتی ٹرانسفارمر کے بغیر ایسے صارفین کو نیٹ میٹرنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
    ‎نئی پالیسی کے تحت لیسکو اور صارف کے درمیان پانچ سالہ معاہدہ بھی کیا جائے گا، جس کے مطابق صارف کو مقررہ مدت تک بجلی پیدا کرنے اور اسے قومی گرڈ میں شامل کرنے کی اجازت ہوگی۔
    ‎لیسکو نے سولر نیٹ میٹرنگ کے پورے عمل کو ڈیجیٹل بنانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق اب درخواستیں صرف مجاز کمپنیوں کے ذریعے مکمل طور پر آن لائن جمع کروائی جا سکیں گی تاکہ شفافیت اور آسانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎درخواست کی منظوری کے بعد نیپرا کی جانب سے جنریشن لائسنس جاری کیا جائے گا جبکہ آخری مرحلے میں لیسکو متعلقہ سولر سسٹم کو قومی گرڈ کے ساتھ منسلک کرے گا۔
    ‎لیسکو حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف بڑے پیمانے پر بجلی پیدا کرنے والے صارفین کے لیے لائسنسنگ کا نظام بہتر ہوگا بلکہ تکنیکی نگرانی اور بجلی کے نظام کا استحکام بھی مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔
    ‎دوسری جانب بعض صارفین نے نئی شرط پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذاتی ٹرانسفارمر کی شرط سے سولر سسٹم کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس سے متوسط طبقے کے لیے بڑے سولر منصوبے لگانا مشکل ہو سکتا ہے۔

  • ‎آبنائے ہرمز میں رکاوٹ ہم نے نہیں، امریکا نے ناکہ بندی مسلط کی، ایرانی وزیر خارجہ

    ‎آبنائے ہرمز میں رکاوٹ ہم نے نہیں، امریکا نے ناکہ بندی مسلط کی، ایرانی وزیر خارجہ

    ‎ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی بلکہ اس اہم آبی گزرگاہ پر ناکہ بندی امریکا کی جانب سے مسلط کی گئی ہے۔
    ‎نئی دہلی میں برکس وزرائے خارجہ اجلاس کی سائیڈ لائن پر ایک انٹرویو دیتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ اس وقت آبنائے ہرمز سب سے زیادہ امریکی جارحیت اور امریکی ناکہ بندی سے متاثر ہو رہی ہے۔
    ‎انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی نظر میں آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہوئی ہے، تاہم وہاں سے گزرنے والے جہازوں کو ایرانی بحری افواج کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا تاکہ محفوظ آمدورفت یقینی بنائی جا سکے۔
    ‎عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا اور امید ہے کہ یہ صورتحال امریکا کی جانب سے عائد کی گئی “غیر قانونی ناکہ بندی” کے خاتمے کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔
    ‎ایرانی وزیر خارجہ کے بیان نے ایک بار پھر خلیج اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، کیونکہ یہ آبی راستہ دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہِ راست اثر ڈال رہی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتے تناؤ کے باعث خطے میں بحری سکیورٹی خدشات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں کے لیے راستہ کھلا رکھنے کے دعوے کے باوجود خطے میں امریکی اور اتحادی بحری موجودگی صورتحال کو مزید حساس بنا رہی ہے۔

  • پاکستان کبھی ٹوٹے گا نہیں :را کے سابق سربراہ کا بڑا اعتراف

    پاکستان کبھی ٹوٹے گا نہیں :را کے سابق سربراہ کا بڑا اعتراف

    ‎بھارت کی خفیہ ایجنسی “را” کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دولت نے کہا ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی بھارتی کوششیں الٹا خود بھارت کو تنہائی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
    ‎برطانوی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سابق بھارتی انٹیلی جنس چیف نے کہا کہ یہ تاثر کہ پاکستان ٹوٹ جائے گا یا بکھر جائے گا، ایک پرانی اور غیر حقیقی کہانی ہے۔
    ‎انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ “پاکستان نہ ٹوٹے گا اور نہ ہی ختم ہوگا، ایسا کبھی نہیں ہونے والا۔”
    ‎امرجیت سنگھ دولت کے اس بیان کو خطے کی سیاست اور پاک بھارت تعلقات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ وہ بھارت کی حساس ترین خفیہ ایجنسی کے سربراہ رہ چکے ہیں اور جنوبی ایشیا کی سکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔
    ‎انہوں نے اپنے انٹرویو میں اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ پاکستان کو مسلسل کمزور یا غیر مستحکم ریاست کے طور پر پیش کرنا زمینی حقائق کے برعکس ہے۔ ان کے مطابق خطے میں مستقل کشیدگی اور محاذ آرائی دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایک سابق بھارتی خفیہ سربراہ کا یہ بیان اس بیانیے کے برعکس ہے جو بعض حلقوں کی جانب سے برسوں سے پیش کیا جاتا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات جنوبی ایشیا میں بہتر سفارتی ماحول کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔
    ‎دوسری جانب سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بھی امرجیت سنگھ دولت کے بیان پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جہاں کئی مبصرین اسے ایک حقیقت پسندانہ مؤقف قرار دے رہے ہیں۔

  • کراچی میں منشیات نیٹ ورک کا خوفناک انکشاف، طلبہ کو رعایتی پیکجز پر کوکین فروخت کیے جانے کا دعویٰ

    کراچی میں منشیات نیٹ ورک کا خوفناک انکشاف، طلبہ کو رعایتی پیکجز پر کوکین فروخت کیے جانے کا دعویٰ

    ‎کراچی میں گرفتار بدنام زمانہ منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کے خلاف تحقیقات میں ایک اور چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق ملزمہ کا نیٹ ورک پوش علاقوں کے نجی تعلیمی اداروں میں کم عمر طلبہ کو منشیات کی لت میں مبتلا کرنے کے لیے منظم انداز میں سرگرم تھا۔
    ‎ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران پولیس نے ملزمہ کے نیٹ ورک سے متعلق تفصیلی رپورٹ جمع کرائی، جسے عدالت نے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا۔
    ‎رپورٹ کے مطابق انمول پنکی کا گینگ نجی اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ کو خاص طور پر نشانہ بنا رہا تھا۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ نوجوانوں اور کم عمر بچوں کو ابتدا میں “رعایتی پیکجز” دے کر منشیات کا عادی بنانے کی کوشش کی جاتی تھی تاکہ وہ مستقل خریدار بن جائیں۔
    ‎تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ جو طلبہ زیادہ مقدار میں منشیات خریدتے تھے، انہیں خصوصی رعایت اور سہولت دی جاتی تھی۔ پولیس کے مطابق یہ حکمت عملی نوجوانوں کو جلد نشے کی لت میں مبتلا کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی تھی۔
    ‎پولیس نے عدالت سے مؤقف اختیار کیا کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ملزمہ سے مزید تفتیش انتہائی ضروری ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ انمول پنکی کی نشاندہی پر ان سہولت کاروں کی شناخت بھی کرنا مقصود ہے جو تعلیمی اداروں کے اندر بیٹھ کر اس نیٹ ورک کی مدد کر رہے تھے۔
    ‎حکام کے مطابق اس منشیات نیٹ ورک کی جڑیں پوش علاقوں کے تعلیمی اداروں تک پھیلی ہوئی ہیں، جس کے باعث والدین اور تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کی گرفتاری کے بعد اب ان تمام افراد کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے جو نوجوان نسل کو اس خطرناک کاروبار کا شکار بنا رہے تھے۔

  • برطانوی وزیر صحت ویس سٹریٹنگ مستعفی، وزیراعظم سٹارمر کی قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار

    برطانوی وزیر صحت ویس سٹریٹنگ مستعفی، وزیراعظم سٹارمر کی قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار

    ‎برطانیہ کے وزیر صحت ویس سٹریٹنگ نے اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا ہے اور وزیراعظم کیئر سٹارمر کی قیادت پر کھل کر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
    ‎ویس سٹریٹنگ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شیئر کیے گئے اپنے استعفیٰ نامے میں کہا کہ اب انہیں وزیراعظم کی قیادت پر “اعتماد نہیں رہا” اور موجودہ صورتحال میں حکومت کا حصہ رہنا ان کے لیے “باعزت اور اصولی رویے کے خلاف” ہوگا۔
    ‎اپنے خط میں انہوں نے کہا کہ نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) اب بحالی کے راستے پر گامزن ہے، تاہم اس کے باوجود انہوں نے حکومت کی مجموعی کارکردگی اور سیاسی سمت پر شدید تنقید کی۔
    ‎ویس سٹریٹنگ کے مطابق حالیہ انتخابات میں لیبر پارٹی کو ہونے والی شکست غیر معمولی تھی اور اس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی غیر مقبولیت اس ناکامی کی بڑی وجہ بنی جبکہ بعض پالیسی فیصلوں، خصوصاً سرمائی فیول الاؤنس میں کٹوتی، نے عوامی ناراضی میں اضافہ کیا۔
    ‎انہوں نے خبردار کیا کہ برطانیہ میں قوم پرست سیاست کے بڑھتے رجحانات ملک کے اتحاد، جمہوری اقدار اور سیاسی استحکام کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق لیبر پارٹی عوام کو یہ یقین دلانے میں ناکام رہی کہ وہ مستقبل کے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکتی ہے۔
    ‎اگرچہ ویس سٹریٹنگ نے کیئر سٹارمر کی بعض خوبیوں کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 2024 کے انتخابات میں لیبر پارٹی کو کامیابی دلائی اور عالمی سطح پر قیادت کا مظاہرہ کیا، لیکن ساتھ ہی انہوں نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “جہاں وژن کی ضرورت ہے وہاں خلا ہے، اور جہاں سمت درکار ہے وہاں بہکاوا دکھائی دیتا ہے۔”
    ‎اپنے استعفیٰ کے اختتام پر ویس سٹریٹنگ نے کہا کہ وزیر صحت کے طور پر خدمات انجام دینا ان کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز تھا، اور حکومت چھوڑنے پر انہیں گہرا دکھ ہے۔