Baaghi TV

سرکاری ملازمین کے اثاثوں کی نگرانی،ایف بی آر کو اختیارات دینے کا فیصلہ

FBR

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سرکاری افسران کے اثاثوں کی نگرانی اور شفافیت بڑھانے کے لیے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے ایف بی آر کو مشکوک اثاثوں کی تحقیقات کے اختیارات دینے کا فیصلہ کر لیا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور دیگر اعلیٰ حکام نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید نگرانی کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جو سرکاری ملازمین کے اثاثوں اور دولت میں غیر معمولی اضافے پر “ریڈ فلیگ” الرٹس جاری کرے گا۔حکام کے مطابق ایف بی آر کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ایسے سرکاری ملازمین کی جانچ پڑتال اور تحقیقات کر سکے جن کے اثاثے ان کے ظاہر کردہ ذرائع آمدن سے زیادہ ہوں، خصوصاً وہ افسران جو مسلسل تین برس تک اپنے اثاثہ جات کے گوشوارے جمع کراتے رہیں۔وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نبیل اعوان نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ دسمبر 2026 سے گریڈ 17 سے گریڈ 22 تک کے تمام سرکاری افسران کے اثاثوں اور مالی تفصیلات کو ایک ڈیجیٹل ڈکلیئریشن سسٹم کے ذریعے عوامی طور پر دستیاب کر دیا جائے گا۔ یہ نظام ایف بی آر کے تعاون سے تیار کیا جا رہا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ مجوزہ نظام کے تحت افسران کو نہ صرف اپنے ذاتی اثاثوں بلکہ اہلِ خانہ کے اثاثوں اور بیرونِ ملک دوروں کی مکمل تفصیلات بھی جمع کرانا ہوں گی۔حکام کے مطابق ایف بی آر کے چیئرمین اور ممبر ان لینڈ ریونیو سمیت متعلقہ افسران کو اختیار ہوگا کہ AI کی مدد سے ہونے والی جانچ پڑتال کے دوران اگر کسی سرکاری افسر کے اثاثوں میں مشکوک یا غیر معمولی اضافہ سامنے آئے تو فوری تحقیقات کا آغاز کیا جا سکے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد سرکاری اداروں میں شفافیت، احتساب اور بدعنوانی کی روک تھام کو مؤثر بنانا ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے مالی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔

More posts