امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چین کا دورہ بہت اچھا رہا، چین کے ساتھ شاندار تجارتی معاہدے طے پائے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے معاملے پر وہ مسائل حل کیے جو دوسرے نہیں کرسکتے تھے، ایران کو جوہری ہتھیار نہیں بنانے چاہیئں، آبنائے ہرمز کھلی رہنی چاہئے۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چینی صدر سے ایران تنازع کو ختم کرنے پر بات ہوئی۔
چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ تنازع کا جلد حل خطے کے مفاد میں ضروری ہے، مذاکراتی چینل کو جلد از جلد دوبارہ کھولا جانا چاہئے۔وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ مکمل جنگ بندی ضروری، تاکہ امن و استحکام بحال ہوسکے، امریکی صدر اور صدر شی کے درمیان متعدد نئے اتفاقِ رائے قائم ہوئے ہیں۔
علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے امریکا کو ’زوال پزیر ملک‘ قرار دے کر دراصل سابق صدر جو بائیڈن کے دورِ حکومت پر تنقید کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بائیڈن کی پالیسیوں نے امریکا کو شدید نقصان پہنچایا تاہم میری حکومت کے 16 ماہ میں امریکا نے دوبارہ عالمی طاقت کے طور پر تیزی سے ترقی کی ہے۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ شی جن پنگ نے امریکا کی تنزلی کا ذکر ’انتہائی شائستگی‘ سے کیا ہے،صدر ٹرمپ کے مطابق چینی صدر دراصل بائیڈن انتظامیہ کے 4 برسوں میں ہونے والے نقصان کی جانب اشارہ کر رہے تھے، کھلی سرحدوں، مہنگے ٹیکس، جرائم، متنازع سماجی پالیسیوں اور خراب تجارتی معاہدوں نے امریکا کو کمزور کیا،اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ اب اسٹاک مارکیٹ، روزگار اور بیرونی سرمایہ کاری میں غیر معمولی بہتری آئی ہے
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان اعلیٰ سطحی سربراہی ملاقات کے پہلے روز عالمی منڈیوں نے محتاط مگر مثبت ردِعمل ظاہر کیا۔ تجارتی کشیدگی میں ممکنہ کمی کی امید پر عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی دیکھی گئی جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی واقع ہوئی، اگرچہ خلیجی خطے کے جغرافیائی خطرات بدستور برقرار رہے۔عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت 0.40 فیصد کمی کے بعد 105.21 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 0.07 فیصد کمی کے ساتھ 100.95 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔ تاجروں کے مطابق یہ معمولی کمی اس امید کا نتیجہ تھی کہ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان مذاکرات عالمی تجارت کو مستحکم بنانے اور فوری معاشی تناؤ کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں نرمی نے سرمایہ کاروں کو خطرہ مول لینے پر آمادہ کیا، خاص طور پر ٹیکنالوجی اور برآمدات سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں دلچسپی بڑھی۔S&P 500 تقریباً 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیاجبکہ نیسڈیک کمپوزٹ میں 1 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جس کی قیادت سیمی کنڈکٹر اور مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں نے کی۔ سرمایہ کاروں نے ان اطلاعات کا خیر مقدم کیا کہ واشنگٹن، وسیع تر مذاکرات کے حصے کے طور پر، چین پر AI چپس کی برآمدی پابندیوں میں نرمی کر سکتا ہے۔
