Baaghi TV

اسرائیلی جیل میں ایک سال “جہنم جیسا تجربہ”رہا،فلسطینی صحافی

فلسطینی صحافی علی السامودی نے ایک سال اسرائیلی جیل میں قید رہنے کے بعد اپنے دل دہلا دینے والے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عرصہ ان کے لیے “حقیقی جہنم” سے کم نہیں تھا۔

59 سالہ السامودی، جو اب واضح طور پر کمزور اور لاغر دکھائی دیتے ہیں، حال ہی میں اسرائیلی حراست سے رہا ہوئے ہیں۔ ان کے بال سفید اور جسمانی حالت شدید کمزور ہو چکی ہے۔ رہائی کے بعد جب وہ اپنے گھر کی سیڑھیاں احتیاط سے اتر رہے تھے تو ان کے جسم پر جیل کی سختیوں کے واضح اثرات نمایاں تھے۔اپنے انٹرویو میں علی السامودی نے کہا“یہ واقعی ایک جہنم تھا۔ آج کی جیل ہر معنی میں جہنم ہے۔ جو کچھ ہمارے ساتھ کیا گیا وہ سزا اور انتقام تھا۔”ان کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کو بغیر مقدمہ چلائے “انتظامی حراست” کے تحت رکھا جاتا ہے، جس میں فوجی حکام چھ ماہ تک قید بڑھا سکتے ہیں اور اسے بار بار توسیع دی جا سکتی ہے۔

سامودی ان 105 فلسطینی صحافیوں میں شامل ہیں جنہیں 7 اکتوبر 2023 کے بعد گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے اکثریت کو بغیر کسی الزام یا مقدمے کے قید رکھا گیا۔صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم ے مطابق، اسرائیل 2025 میں صحافیوں کو قید کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک بن گیا ہے، صرف چین اور میانمار اس سے آگے ہیں۔ اس وقت بھی 33 فلسطینی صحافی اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں۔

سامودی نے بتایا کہ جیل میں خوراک انتہائی محدود اور غیر انسانی تھی۔ ان کے مطابق ناشتہ میں ایک چمچ لبنہ اور تھوڑی سی جام،دوپہر میں چند چمچ چاول اور کھیرے یا ٹماٹر کے چند ٹکڑے،رات میں دو چمچ حمص، تھوڑا سا طحینہ اور ایک انڈہ دیا جاتا تھا،ہفتے میں صرف چند دن تھوڑی سی مرغی یا گوشت ملتا تھا، قید کے دوران وہ تقریباً 60 کلو وزن کم کر چکے ہیں، جو ان کے جسمانی وزن کا نصف ہے۔

سامودی کے مطابق قیدیوں کو ہر نقل و حرکت کے دوران مارا پیٹا جاتا تھا۔ انہوں نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا “ایک بار وکیل سے ملاقات کے بعد ہمیں زمین پر پھینک دیا گیا اور مارا گیا۔ ایک افسر نے میرا سر زمین پر دبا دیا یہاں تک کہ میں سانس نہیں لے پا رہا تھا۔”ان کے مطابق کتابیں، قلم اور کاغذ تک جیل میں ممنوع تھے۔سامودی نے ایک اور افسوسناک واقعہ بیان کیا جس میں ان کے سیل کے ساتھی 22 سالہ لوئی ترکمان علاج نہ ملنے کے باعث دم توڑ گئے۔“ہم نے بار بار کہا کہ اسے کلینک لے جائیں لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ اگلی صبح وہ ہمارے سامنے مر گیا۔”

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ سامودی پر فلسطینی تنظیم “اسلامک جہاد” کی مالی معاونت کا شبہ ہے، تاہم سامودی نے اس الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا “یہ سب جھوٹ ہے۔”انہوں نے کہا کہ ان سے اصل میں ان کی صحافتی سرگرمیوں اور رپورٹنگ کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔سامودی کا کہنا ہے کہ ان کی گرفتاری “فلسطینی صحافت کو خاموش کرنے کی کوشش” تھی۔رہائی کے باوجود سامودی نے کہا کہ انہیں دوبارہ گرفتاری کا خوف ہے، لیکن وہ صحافت نہیں چھوڑیں گے۔“مجھے معلوم ہے کہ دوبارہ گرفتار کیا جا سکتا ہے، لیکن صحافت میری زندگی ہے۔ یہ میرا مشن ہے۔”

More posts